Skip to main content

Full text of "المرتضی علیه السلام"

See other formats







(اا یب فاضل ‏ صندرالا پاضل۱ام۴۔ا تا 


ود 


ادا میم وت بیت لا ور 





مىزکن گن غ ظریریں_ 


وقاس ما دی ۃھپرالرش ن انور 
ارارتیم و مبیت :لا ہور 
آاخے 


:2 سو جج ات تا 8 8 راے 


لے 
تعلتآ ال ر ضا 


,اکٹ میال مارکیٹ نل سری ٹ اُردوپاڑارء(اہوز- 
ٹون گر 042-7245166 





آبرست 
قیارے 
ےار 
یھی وا السلا سوا حا حیات 
70 آ اع ری ضر کی لی لا مک یخصیت مداو نعل کی لگا 
7 و 
رت اور ماق ںوی 


و 2 092" 


0 را 
ا ۲_عاطہ 
نک 
ول یت الا 


ری ا 


0 
: ایا ین کے دودترں و رو ںکی انت 


ام الو نا خطا ب کپ لا؟ 
و 
کر 

و اھ یی دنیا ام سھے 
72 نے ہش بے و ا نکیا ما٣‏ 


اڑالت 
ماپ تل ایل 





7 ۱ اک ی؟ 


ای دای الات 7 : 
عبت الک کش مففرت نیس 
ال رت سس 


تم 
۳ لاو 
وا یع کے لق اتضار 


سا 
پا تو ا 
اشامم 


و ا کے ایر 
پت رین اوک 


ےزم (اخایف) 1 وت 
: می ۴ وا السا خصیت رمول وا لی امیس ڑا مازیٹ )رت گصسلفرا درف تی کےا مادات 
86 


ٹر یٹ اتالد گنا 


86 


حدد حث “جوا میا 

کاردسمالت یا امیا م ”یپا 

ج ہگ 2 

تی۹ رسول او تما آ ہا شیالنش ا ستص 


مم مل لم مظبرہے 


سر چٹ یلم دجا ئن صفات تج 
1 اگ پیا ہا ارگر ا سامت 
ان نات وش رآان صماممت سیت ساتھ 


چھ 
لی ابع یڈ أملم 


اعت اسدالث الغااب 
رنڈ مت یا نا کامظاہرد 
دا اکا اعد جا 
یت 
ا بی 
شباععت اسیائ دی الک ٹا خرس 7 
تح توب اور رسول 
صظ تم سے یکا بر دائدے 
یت ن۶ مان سے 
یت رادان 
محب تی ائمان اور لیے 
بت شی امرنے وا لن انام نے ۱ 
عاا لی کات کے نیل 
الف سے 
لعل ول کے 
نا صل رس 
ضفر تل میں ایی مر 
اشن می دہ بارکم ٹس 
کی فیتسرل یخلاقت 
علر ‏ سم نوئاٹ سح ات 
قرو وت اٹ ت کیک خلا تک راخ مان 
ایا کی کے وت 
تعرت ٹل تار وی با ڈیا 
ا ہروا وغل کی کا اعلااع 


فدالنل سے ارول کیرش زا 


سای الا یمان ین یں 

لی شک ہیں 

یی وت 

فر ہے نت اھ رکے نام تھے 


ا 
ٹا نات انا کے عائ تھے 
سر ا کےا ضوات یں ا 
2 نکر 
اح ئل ابلب|+ 
۱ سے ول و 
ہے و 
1 لزا ت0 خاش 
ہت : 
یئ اْنوالتارہوں 
یس یی کر مل ادا ےہول 
6 و کت 


یئ ای یپا 00/8۰ 


116 


"15 


127 
128 
29 
130 


شس نا 

سر ۲ 
ا ا ےھ و ۲ 

کل کے 


وم لو ما 


سے سو 
ب2 سر نے : پا مھ ہناد ماتھا 
خر تعزا آ وو" ح ال 
ر نک رآلی لیے مھ ٍ 
ماب مار 75 وا اگ 
تی علیالسلا مک سیت اسیاب ؛ تا 


اور لفارمہ 
٣‏ ا ےر ےا ردان تخر تع سے ععائصل ماسیگر 
تخثر ٹکیا زیادرت وا پت 
ست لیت ول 2 لئ ےق ریب تین چ 
کہ زبررصح وت 
اش میت ہس یا مز کرد : 
تقر مرگ تارج 


و عبت رانا قکر گنت 





فرع ا .+ ا اخ لد ہے 


صُ ع تر تکیی 
۶ اورتفض رت اح خبا و مو 
ال رمتحخر تی ہو ےن کیا 
ماف نات 
گرا 1 
شرب ت کان کی کا یا 
یناو کے و ه 
ےب بے یں ہو 
3 ن تعخرت مال 
مت رموں سز ماد تخفرمتاگ یہ وت کن تھ 
2207 


کردا ہیں 

و می ول 
ما نیا 
بن یی ےسا سن کے سا ہیں 
نر ےل نت رو روک پراد 
۱ دی رجہ : ٢3‏ 
١ج‏ غمارے 
ررش ما ےپ ا رھ 

گی کمن عفات 


2 


131 
132 
12 
134 
135 
136 
136 
137 
18 
09 


141 
182 


141 
143 


145 
145 


096 
"7 
047 
1485 
148 
049 
10 
11 
02 
02 
13 
1524 
155 
086 
"7 


17 


16 
19 
18 
0ا15 
161 
12 


12 
163 
16-4 


15 
756 


ای ین ای کپ ا 


بک یکر یہو خارجھے 
پ فی وت کی دک 
سے ار ۱ اراس 
منرت 7 
کرت زج نوا 2ھ 
رھ 


کے ہے کی ایک ہی نول 
ری تی ا دافل یس 


من ا دای 
آپ؟' 007ا 
یس 
ارالاعوراالرو 
)0 
0 ط 
سای یکا ہار بنا ہجزدے 
انان 


راقو او یں ا و 


لے 


بالن رای ہزات 
را 
تفر فی فور رآ نکی نم ومثال تھے 


رتا 
رت رکوای شور 
سا 5 
لا مل بک 
یگل" وی 
ار 7 
(ب )مخ تی الام نمی تبغر بک اش 
رت وھلا ق تگااعلان 
تقو ال میت 


یی 
ال الاش یلا سیف الا ڈوال تار 
7 اور 


دم حا ارد ۱ 


ماخ آماپ 


167 
18 
1658 
169 


19 


370 
70 
171 
71 
002 
002 
07" 
173 
174 
۹74 
75 
075 
76ء" 


17 
18 
"8 
179 
179 
10 
0 
181 


082 
182 
184 


16 
187 


189 
09 


190 
100 
191 
192 


الم تضیٰ 7 


ن٣‏ 7 
موہ مد -کژٰوہ ہد ند .سے را ے ڑے- نو ہے ےو ہے ہے ہے باےسچےے ہے وے ہے ونے چیہ و ج ےد ود سھ جھد س چھ۰دد داد ود وسوہہے ہے نزسزہ وےی۔ وڑے ہے چےے ہے ہے ے ےویم 


تارف 


بسم الله الرحمٰن الرحیم ۵ 


ال خلو ہش تی ومضریی اض ل وذ مول نا دی صاح بج عفر یک ذات سی تتارف 
کی تاج غیں سے۔آپ حعطرت مولانا سنی رج رضا صاحب قبلہ مرحوم اعلی انث متظامہ کے 
صاتبزادے اور غلف القد قی ہیں .آ پ کا آہائی بن رشع مس بب رشع ان مگڑم از 
پردیشی۔ہندوستان ےآپ کے دالدم جوم ائلی اد متام ای وقت کے ع دمحم شال اور سا نے 
زا رظطیب جے اورسمارے روسان ی .]۳۰/۲۵ سای کک دپاسیں بھی نی سآ 
تک ڑ ماشیں _ جع ے مفف لکن کے شور ومعروف چا مع سلطاشی وسلطاان الممداریں ٹل 
ملق وف سذ کے میں تاور یہت سے و جودہز مانے کےےانا صل سکوآپ ےتشر فتلمندعا گل 
کہ ن ےکا 1خ کن ککھظرے بج وھ اۓ ااول دس لا رہ ہمار ےلو جوائع مو لا نا اۓ والع ماد کے لد م 
زم غرمت دبین بی سشغول ہیں پل ایک دم ان مرجم ےچ یآ کے بے گے ہیں لو مکربیہ 
ہیں کی کر کےصیر راز فاشل کی ضز جات بانا افو ے بدرت ہو لی عائصل کے ہیں ۔ اس 
ک رعلوم مرن یک ی بھی تی لکی '۔أاردو عم ری اعلاصیات دگیرہ ٹیس پای‌ سا ےکی لم پان 
ڈھ اک لو نیورکی سے حاضص٥‏ لک کے جا بی ال پان مجنا رت ن ےجا خنلنون ٹیس ال نگوان 
کے والمد مرجوم طاب ٹاہ کی ورات خطابت کی عطا فرمائی۔ برسوں سےمانیس بڑ ھت 
ہیں اہ می سآ پک کشر حر میں ا سے و نک نار سے ہیں ۔اوراشتیا کی 
ہوا ہمان خہایت مفید اور برا زملومات ہودتے ہیں اور فضائل ومصابک میس متید بح 
روا ا لاشو گا اللہ ہمار نے ججوالن سال 9لا ا تظم ری سل ارڈ تا گنو ہر 
بر٘ٹس طلات وفصاحت د جلاغمت سے لق رمیفرماتے ہیں اس سے ادا انداذہ ہوا ےکم ا کا 
تل بہت درششاں ہھگا۔ اور دو دن دو یں با ور رما ھ مم کین اکستاا وا نکی ذات پہ 
رہوگا۔ 





0 یں جا وا رو ا ر ںا و مع وم و وی وھ وو وو اوج عجعجچمینیترت میم یے یچ ہے ہےر بس تمہت 


ددرت نے اض ز الع کے سما تد سیا تج ا بی بنا ےاو ری ار گی کے 
اخ ال رما مین مج یں ۔آ کی فلا ت اش پکش رگ اکنتان سےکرا تی ل گیا اور اب 

شر ہرم می سآ پک یح ای ایخ لکرا چیب یر ہے ادرڈ ھا روم ہے۔اب پیل یل 
آپ کے ز ور مکابھی ما ہردمونشن کے سا نآ ہا ے۔آپ نے نہایتکا یش کرو جدوجہدو 
نار کر کے ای راد ن تی تھنیف ولیک ہیں۔باغآپ نےعرلی داگر یی 
متلو مات وت بلیت سے گورااورا ماد وا تھا اور صلی میں و ہکا مکیا سے جور اسر ا کال رک اک رتا 


سس 


این ای اہ اور متصی رع پ ا سا نکاوں عرر لو وگ راقو دکیں 
سک ممموا نکو ببست طول ہو جا کات ان یھ یا خود یا جۓوااوں بنا رہ جا تی 
گی عنوانات تو ںکنابوں میں پاصئل ا جو تے یں .بر خیاں نی ہیں اود مل نا کی قو تی کی 
اعد کا یت دب ہیں ۔' نشی میں مولا نۓککا تھے لی خی اتل مم نع 3 مور 
ظا ہر گے میں نت نک وپ کرد ید دلمنور ہدجام گے۔اش ہیر میں تشہد ا وتخفرت اما من 
علیالسلا مکی و امت ینیم ماں ہیس جنہوں نے فرزتدرسول ملعم کےکا دنا مو ںک وی رای بتا 
ہے متقید مر نارا یخان کی بی ی کون راتس کےکنواان بھی سح بت چمما ‏ ےکیداس 
رر ہوکش شراع دمووں شرفالی توانر نے کین کی انی نے 
مقیدہ اع یل س بکاجواب مموجود سے سآ ابا خی کےکمعبوں کے تج میس ۲و نا موضو 
نے اخیاط کی سےاورتکلام الال وف لام امو : ابو سک تر أر زوش یک مایز بان ٹل 
ما یت لیف پیرا یش سکیاے۔اتیط رم اش یداوزمتر نین یل رت امام ما او رتضرت 
امام زین العابڈ یع ک ےمم کت الا را نو کات جاور نل انتا ب ولا نا بی فو ت یل کا شابکار 
ہےاو ینا نا ترجہ میکس عر یقہ ےکر مایا اکنا ے دی رجات واترانت بڑ عۓع : 
او نے وا جس یداد ےکا ین سے تجدمما مو نکو پیدرا ہو ہوں کے۔اىی رح 
تس رن لہا تع یز وت دشر ے او جعشرۓ ڈطرن” تع و تظرن 





المر تضیٰ : 

سد و وس ےسا مس 
قیامت بر یاکمردگی اونگ انا غیت بب دکی ساط کی جولٰیس پلا دم ادرجشجتوں اوریخالفو ںکی 
آگھوں سے اشگو ںکی پاش برسمادگی اور خافوادورسو لک ریم سل مکی فصاحت د بلاخت نیل 
بل ہتقاضیت و غدا یکا اترارکرالیا۔ ہار ہے مولا نا نے بدئی خوش اسلوپی سے نع سگئ میں۔اور 
١الت‏ کے تہ بھوں میں اٹ یکا لعکیست د جا محیت واعتیا کا ہم وت بی ںکما ہے۔ کے نشین ےکس 
نوں شا ہکا رس کار توب وس کا رسعنی میں قبول ہوں گے۔ ریو ںکتائیں جد ید رک وک یآ حہ 
بر دا ٹیش نکا پر کن ددوست درا بزیت اطہار کےگھ یش ر ہناباععث برکت دی ود گی 
بہوگا۔ 





می رکی ملاس دا ےکہبرب الزت ولا ناک یپ رد قپال وعمزت میں تر تی اف مائۓ 
اورالع سے یشک مکی وت رید نت کی نر ہبی رد ہے۔ 


ات العیاد 
انا زین نف ری 
ڈھاک ہپ ااپہ ا۹ء 


تال 

اش انا نکیتخحریت کیا بھ کی بای سے جوصورت یلو سال ع تھا ین مثارت 
یس انما نکیا مائل مقر ین س بھی ال تھا یس کے صفا تکی بلند یں اور دسا کی حر 
بنزب یی سکی چا عتی جس سک ےلتحلقینحضتیمصلتم نے ہار ہا ف رما ای اگ دخ کے ام مت در 
روشنائی ہو جانمیں ءقمام درش تشم ناد ئےجا میں ہقمام انسائن کین وا نے اورقمام رتا ت صاب 
کرنے دانے ہوا میں پگ ری تعنررت بل کے اوصاف وکما ا تکا شا زی لک رسکت'' 

بی و ون لکی جک اورعدل نعل مکی لائی بت راۓےآ فرش خر توم سے جھ 
شردح گی ہرز ما نیس رای :سے او رر ےگی- 

او جو تخت رسو لکرمم نے بح ینا کم میلن ‏ طانف یس درم کے میداع 
ٹس ؛اوردت لف متامات ومواٹح پرانفرادکی اورابشا ہی عھییقوں سے نر تل کے فضائل سر 
نکی ڈ ایآ پک محبت+اطا عت اود یرد اعم دیا۔ اور پکواپنا ناحب :جا ین اورخلیف ناعزد 
کیائچلرچھی دنیانے تفر کے وصال کے بع رآ تحضر کے اقو ا لکوف رام سکر دیو رت تل 
کے فضائل بہ پردہ ڈال ےک یکوشت کی لیکن بقول علام ان الی اید تی ضر تک کے 
فضال کک بائی رمناایکجزد ہے اورآپ کے ہنا قبکوبائی رک میں خداوندعال مکی نام لوت 
گیا ون ہنا می اود تی عیال کی رت ددا زک ز را حومت بی امکائن تین تھ اک ہآ پک ایک 
فضیتکھی بائی رو با ی۔'' " 

ج بکہد نیا بیدارہدچگی ہے اورع مکی شاہراہوں پرگاژن ےضرورت ہ ےک 
اب مین اعل مک نیت طقف زرادع لگا د سے دی ڈال جاۓ - ۱ 

ا ںا راف ہے اہ ا کان ناروں بے لاکھو ں کا یسوی میں کی ری 
ما تہمظہ ا بکی ایک عفتکھی با و کی اتی یلین تصول قاب د برکت کے لئے 
زی رتا بکی تالی فک یی ۔اہ ںکتابکو پا اباب می اتی مک کے حعفرت لیک یخخصیت پہ 


اج یی سے دی سو و وی سد ا ساس سوج رر ا ۷ن ا اب عیسو سار اس سرد سو قد اسیا اس بیس اسر سوہ سرد سو وی رکید یی بر 


و سی ون ں و 
مرب کے اقوا لکا اتا بکیامگ ا تاک کی اما نکی عد یٹ یاقول کے لی کر لیے می کوکی 
جاص٥٦ی‏ ند ہو۔ 

بھم خداے دم اکر تے وکنا ران لہ ےس رکا رم نحضوگی ول ہواور هرا بھم ام 
مسلمانو ںکوا بی در ےک ہہ وب خداورسولی باب بدرینتہ اعم اسداولہالغالب تفر تاجن 
ال طااب کے فضائل ومنا قب کو" ایی اورا نکی ابتا اور پیردگ یگ ر ل- 


دی نی 
چامگام10ابہیل 1942ء 


ححفرت رسول لک ری سک مکی ارت سےکق یبا دہ ہڑرار مات سوترزانوے ( ۹۳ ے٢)‏ 
مال لی حرت ابر یم علیلتلا ہے ہی فی ت اتیل علی السا رکم خداوئری مرزشن 
مکمہ رھ وڑ گے اورتضرت ایل علیرااسلام ابی ماد گرا ھی فحضرت 24 کے سا ئححداکی ز نع بر 
سحونت پے مہو ئے۔ بای گی دجہ سےفیلہ رپ بھی کی ںآ کر با دہ گیا او رحفرت ۱ ا 
ایی ہکی ایک نان کے سا جح شاد یک کی .آ پ کے ہار دٹے پیدا ہو ئے اورای کی اولا دک 
بڑی جفرت امھ کے فرزندقودارکینسل میں ای یٹس فب نا ئیتسرئی مدکی خیسوئی یس 
بہت بے امشمپو رگ را ےہ کا قب ق ری تھا اورکہ یں ای کی اواا دق فی ہلا گی رکینسل 
سے پ نچ یس دی میسوی یی بھی پیدا ہو ۓ گی کے سے مخبرمناف اورپرٹاف کےٹرزد 
اقم تھے جناب اتحم کے نے کبداامطلب کے ایک فرزخد تخت مبدائش کے از اد نے تعثررت 
سی ای علیہ لہ یلم ادرددسرے بے جلاب ابوطا اب کےفرزندجضر تی تے۔ جتااب پشم 
کے دوسرے بٹ ےکا نام اسدتھا جک نکی صا تز ادگی جناب فاعم کی شادکی عضرت الو طا اب سے 
ہوٹیادراگیں سے تعف رٹک پیراہدۓ ۔ا سس طرحع ححفر تل کے ہمذ رکوار جناب ا وطالب 
ای تھے ادرآ پک مادرگراٹی جناب فا مہ نت اسدشھی پاش یی ۔ جناب پشم تن ر تل 
کے مرداداچھی تھےاور سنا نابھی تھے۔. 


ولاوت 


را وا ایل ۸ ا 18ء اٹل جب کت یمسلنونمیں (۰ )سال 
کے ہو گے تھے .۳ رجے تع کے دنع ناک می لتعفرر تک پِہایہوۓ۔ 


نامء اضا ون 
آ پک دالدونےآ پکانامحیدرادراحد رکا 291" نے ز جراورخداتے 
رڑھا۔آ پک مہو رنمتیں اشن الو یلین ال سیا تین ۷اوہ اب ہیں او الاب تدم 
اکر فاردق یٹم ۔ امیر الیوشن :اسداولہہالرنشی جھفدر:حیدرکراروظی رہہ 


مل وضورت 
منرت گل عل یلست 70 رت گرا اور نمکھییں پک کی ادرکشا یں ۔ میا ذلد ک ہابت 
ین دخولعورت جھے_ (اسدالنا) 


می کا زمانہ 


تحفزت زس لکری صلی خی نے دا عم ےآ کا نا مکی رکھا۔ ورای سے 
۱ پ کا تر بی تکرتے رہ اود بہت دفو ں تک اب لجاب: دای سے نھفراہو میا تے رے ۔ 
چنانچتعفرت لی خودظر الاک تے تھے قرو بی سے رسو لگ رم سلمم نے مکی ت بت اس رع 
کی ہاور یوما نر ھرائۓ ہیں جح عر حعکوئی طائراپنے بک ودنا بجر ے 
چھ ۴ 
مرن رسول اسلام 
تر تل بن بی ےآتحض محلم راوید حر ہے اور عزرا رع رو ل محلم سے 
انی ط رخ وا نف تے ۔ چنا نونف رت سلقم نے جب اپکی فو تککااعلا نف مایا سب سے مسلے 
آپ نے لف رظ کی ای لے آحضرت “عفر ا اکرتے ےک صدق نتر ین ہی۔1 ون 
ال یائین۔(۴) من ا ل قرخون اور( )٣‏ لن ۔اوران سب میں ال لکن ہیں ۔حشرےلن خود 
یف مایاکرتے ایس رل قاگرہوںر'' 


14 المر تضی‎ ٠ 


غُرمات 

ترتع آ7 رت لم کے ات دک رین سا کک ید وطور سے اسلام اور 

رسول ا ہلاخ گ یم تکرتتے رہے اور سو رم مم کے سا تھے سا تھتھ اکا رات | می یتیل 
و ا نے ۔۔ چنا یو رح تہمرتی برا ول حص سو میں کھت ہیں ٦‏ عنے ےہودایت ےل 
زمانہ حا لمیت میں ایک میتی میس مآ یا او ما سس بین خبدامطلب کے کے یہاں/ہما ننھیرا جب 
فا ے لوم ہوک ر؟ سان سکیا گنس کی طز دیو تھا یٹ جوا ننس وبا 7ای 
نے1 سا نکود مھا کت کی مخت یکم راس کےسا م نک اہ گیا فو رأدی ایک کٹ رکاش کے دن ی 
یٹ 1+ یز کن یڈ ہوا اس کے بد بی ایک کور ت آ کر ان دووں کے جچ کی 
ان چون نے مکح کین ان کے اٹول کے او وت نے می و کیا۔ جوان نر 
اتھا اع دبوں نے ییفی حر اٹھا لنایاے ا زیہج ںید ذو گی ویش ئن نے تب 
ےکا کی ےو وعڑیا: یات ےک ایا ٭ برا ے انیو نے کنا کات جات ج بیگوانی 

سو کنا فیس ۔_اھویں ےکم محر بن ہدام نب دالمطلب می رامچھئجہ سے سا نے ہوا 
.یزاین تھ شی ےکا یں انھوں ن کہا ینیل ابن ای طا اب ا 
ے ایر نع زی کو داز تج نے ۰ ند دوڈوں کے جج زی ہے نین کین افو تپ 
آہا۔ یش بجعت خو محر ے یی ےکی تیگ وی ےا ورای نے بھنے سے بی کہا اھ رادرب دہ سے ج 
2 ان کادب افو اںمات لوک کاو ےم ا نکو سیر ےہ ہوا نکواہی ن جھرد ا سے 
اود کیا یکین با ضامرخام وئے زین بے ران سک بران تل کے لا ذو او رنج یکوئی 
ے۔_''(ارڑ رح طری) ات سی رکا امیا مآ پ نی کے م تھا اور ج بآ شضر ملعم 
ق زا شی ےا ا ؿ ج میرگی مت کی تید قکمر ےگا دو مرا 
اَی وز رہ یھی او رخلیغہ+ گا آ پ ہی نے ملف مائی اورا کی دا قت| ےآفضر لم کے 


لح 


ترفانم اسا اق نشی نے جناب ابو طا لب او رتھام بی پاھم س نھاظا ت نرک 


المر تضیٰ 15 

کرد سئے اور جناب الوطال کور اشخب الوطااب ( یلا کی )یس پنا می مکی اس وقت بھی 
ترتع رسالریلتم کے پروانہ نے رے ؛طا نف کےسف می ںآتخحض تلم کے ساتجھ 
سماتھ رے_او رآکحضر سم ھی پک فا ماب ہکرت ر ے۔ باتک "ا اعت کا عقراں 
سا لآ عمیا۔'او رخ رم یداو رو ل ملق شب جر تآتحض ملکتم کے بس زپرڑشنوں کےئ رخ یں 
روک خہایت اظینان سے سوئۓ اوردرسو لک ریم ملکتم کے سساتھ چائن شأارٹ یکا ددشجوت د باج کی 
مار دا کیٹ لتق .رسول ری لم کے پاس جواماضیی ھی ا ناقری کک بہہ میا 
عبت موہ _اور سا یہاں ےآ پکیا زم دگ یکا ایک دوسا 
زورٹرو ہوا_ 


کے 
1تحضری لم نے ج بب بھی ہاج بن اودمھا بن با نار اودمہا ری نک ایک 
دوسر ےکا بھی نایا جحضر تک یکواپنا ھا منایا۔ چنا یہ ا پچ یس جب مواخا تہ قائ مکی 
تحضر تیج یکوا نا ھائی بنایا۔ 


٭ 
ة1 انت ۱ 
بی می سآ تحضررت ملعم نے خدا کےعھم سے انی چڑقی اوراکلوٹی بی نیت فا م 
یش ر ار ا اروا 


نک پر 
ای سال جنگ بددہہولی۔ جس میں مسلرانو ںکوکا میا لی ہوئی ۔اس جک می ست کان 
مارے گے اورستر جی قیر سگۓ لئے ٹنیس کا ف ضرف ففرتت کل کےا کی جو کے زان 
جن کک کامیالی کا س را آپ ىی کے سرد با مول نا کی نمالی اٹ ی کاب سیرۃ ان می کت 
یں نگ ہد کے ہیروا سدرائرالفال بی بن الی طااب تھے" 


ے٣‏ بج میں احد کے مقام پرمسلمائوں او رکفارش میں بیس ایک ز بردست جنگ 
ہوئی .اس ڑائی ص٣۳‏ یا ۰ کافر مارے گئۓ۔ جن میں سے ۲۴اک وصرف حعری تم نفک 
کیا۔ملما نع رسولی کے خلاف با لٹ ےیمت لو ہیں اس طرح مشغول ہو مگ ےکہ جب خالد 
بن ولید نے بل ٹک رتملکیا تق ملما تم کی جا بت لایر جھا ککھڑرے ہو ۓ اور سو لک رکلم 
کے پکارنے کے با جو وٹیو میا نکی رف بھاگا ؛کوکی پھاڑ کے نارمس پناہ ڈجوظ ھن لگا اور 
کوئی ایا پھاگ کین روز کے بعد یر یی سآ تحضر صلس مکی خدمت می حواض ہوا ین نعضرت 
شا ایت رسو ل لم میں تھے رہے۔اور ج بپآنحضررتصلتم نے بی چچھا نیا لیم کیوں نہ 
ھا گے؟ نپ نے جواب د یا آپ پرایمان لانے کے بح کیا کاف ہو جانا ۔' انس تک میں 
تک کینلوارٹو گنی فو نخحض رر ملقم ن ےآ پکوذوالففا رعطا فرمائی بر پ اط رخ 
نارق نشی تل کہ ات کی نوا زدیی'ا فلا لی او سیف آآا ذوالفتما رز زع کے اس 
کوک پہاد ریش اور واافتارا لگوگ ی ای ) 
ریا 
پگ ا کے انان نے ا کن سک٣ید‏ ینا رہ کفذا رق لیگ کے اہ 
عمامائنع چک سےمسلراٹو ںکوڈ ۓآ خحضریتملکترمسلمانو کی ایک ما عت کےساتحدمقام 
تک م ۓگ رکف رق یش یس ؟ ےا اشک ےکم روا رت رت کل تھے ۔ 
6۵ 
حر وو و رثن 
رن کے1 اش وف خنفطان نے مھ بیع پلک نا جا پا شبان ےن کا 
إتحضرت سکم مسلرانوں کا اف مپکز نےکر روآ :+ز ہے لکزائی جوگی اوران تعاس 


المر تضیٰ 17 
ہو ئئے۔ انس خرز وم لی س بھی اسلئ شک کے سال رتحضر تی تھے ۔ 


رو خترل 

سی سالل تک خندق بوئی اورتا تال عرب نے ایک ساتحھ ہوک رد ین پر چڑ ھائ یکر 
ری ںآخحضرت لم نے پرینہ ےکنارہ شند کر اک رمسلمانو ںکی تال تک لان خر بکا 
ایک پور پہاددر بی نعبدددخترقی پارکر کے مسلمائوں کےقری بآ گیا وکا رک رآ ضر ت کو 
پارا۔ اص اب رو می شک کی امت ہو یک دہ اں :ہادنگز بکا مالک تا آححضریت لم 
گئی مت یلما ںکو ران جنگ می چان ےکی وت دیرم زححضرتت گی تار نہ ہوا۔ 
آخرعرت لی روانہ ہو اس وق ت ارت مصلتم نے فمر مایا ”ہرز الا ما ن کہ ای النکف کل 
(قل ابڈیا نک لکنف کے متا پلیہ یس جا جا سے )تفقرت لم نےعمردب نعبددداد رای کے ابی کو 
شُ لکردیاادر باقی تما مکذاد با گکوڑے ہہوئے۔ 


روہ وش بی 
چیک خندق کے بع رخضرتےصلمم خفرظ سےلڑرنے کے لے ذیقعدہ ے ‏ ٹس 
رون ہو ے اور عق تک گوامیلشکر نایا 
ٴ را5 
شبان_ ے٥‏ سن رک یک وگ راو شی کے مہ گیا ید ینہ می بڑھائ یکر جو 
ہیں تحضر ملق نے حررت کل یکوسو(١+۱)‏ آدمیوں کے سراق ھدوا ہکیا۔ رک یل مقابلہ 
ہوا ورہشغو ںکیکگاست ہو لی ۔ 
ناس 


زیقدررے× جج مس آتحضرلم ٔ کےازرادؤ ےک کی مرف روانہہ” ۓے جيی 


المر تضیٰ 18 ۱ 
مرخ ٹر یب پا گے کنا ر شس نے پکوروک دیا_ا ور 0 و تفر یتپ می سا 
نام مد سیق اح یئ ظا شرع وی او نام تفررتکل من ےکدا۔ 


ےس 
جن ک تیر 


صفررے دہ لے یں خی ریش بدر تک ہوکی ۔ تی ریس بڑے طا تقر یہودکی رق تے جو 
اسلام وت تی دنن جھے تحضر مسق مسلرانو ںا شر ےگ رت کی طرف ردان 
ہد ئے کی روزک اسلائیاشگرمیدران نگ م سگمینگر نا ککام وا ںآ یا .آئ 7ض ری صلتم نے 
ردارلفک پش رکواو شک راس داش رکو پھا می کا طز قرارد تے ہو ئۓ دک کرلشک رن ہی باقی رکھا 
تن دا فکر تق ف م پا ' ئل میں ؛ ےش کلم دو ںگا جھ بباددہوگا اد داش نے کے والیی 
داۓ لاورھرا اوھ لاوس رآع برگا اور شاارر غرل اناوت رھ ون 
گھے۔ دوصرے رو زآتض ری ںمللقم نے حریت یکو اشن یلم دیااورفر مایا نا لی چا و اوریشیر 
یئ مہ چنا عضر تک میران ین نے ببددوں کے مردارمرحب اود اس کے بعائیٰ 
اث کو کیا اد ری ر کے چو رفا ویش رفک رلیا پر ماع کی کے ماخ رت کی 


خدرصت یل کش لیف لا ئۓ ۔ 
آخا بک یٹنا 
یہرے وا لی پر منزلی صہباء می ما زکعص رب جن کے بع رآ تحضر ت لت مر تیم 
با ومسرہ مارگ روک رسو گۓ او رآ قاب ڈو ٹگگیا حخفرتتلی نے تما زخعم ا شا رہ سے سڑ لی 
گر با قاعرونہ با کے ج بآحض نلم بیرارہولئۓ و رع فر مکی .ا فب تچ رسے پاٹا اور 
رت لی نے ما زحص با قاعرداداگی- 


المرتضیٰ ٴ 19 


را6 
اورضان لے یچ میں آتخض یت مسلت ایک اسدبیاشکر کے س اج مکی طرف روانہ 
ہد اود بل رو کو کب می دائل ہو گئ ۔ ما نع می پور چکرتعثر تک یکو اج شامحہ 
مارک پر بلندکیااورتخثرت لی نے خداک ےگ کو جوں سے صا تکیا۔ 


وت ب لوج زی 
کہ کے بر 1حضری ملعم نے حعیت یکو ہنوخز بی ہکی رف روا ہکیا۔آپ 
ال پ٭ جج اورلگوںکوا سر مکی ذشوت دگیا۔ 


روہ یع 
شوال ے۸ کو تحضر ت “قحرب ک ےکی قیائل سےلڑ نے کے بل ے ما نکش لیف 
لے گئے۔ الا یکر کے سیرسالا رتحفر تل تھے اس ہیک می کی مسلمانو ںکی کی راد 
بھان کگکھڑی ہوئ یگ رحخر ت گا ن ےآ پکا ساتذ نز جچھوڑا۔اسس تک می نر ا دے سیکا ر 
اارے نے لن یس ڑیادون تعفر ت دی ھی کے ا تح ےکس ہو ہئے۔ 
عو اک 
اکسا لکفارکی ین سے بھی ہوک فو طاکف می جع ہوئی ۔آحضرت لغم نے 
طا کن کا مماصم ہک رلیا تخثر ت گیا خی نے اس جن کفلوشیا رن کیا۔ 
مرو ول 
سی سا لآحضرتے ملع جو ککی طرف دوانہ ہو ۓ اور تخرت یکو پر بی ٹس اینا 
تائ مقام رنایاادرف مایا ا ےی مکوجھھ سے دبیضہعت سے جھ اروا نکو وی ےی 


٭المر تضیٰ 20 


8+ 

فزو) یک ے والیں اکر ر9 ربچ ہیں آتحض ری ملکتم نے حعضرت اہو رکوسور؟ 
برات د ےگ رک کی طرف روا تکیا۔اٹھی عحضرت الوبکر راستہ بی یں تےکہ بت اشن این نانزل 
ہے اورگرف کیا ارول ال دا کا عم ےکسوہ برا تکفارق یٹ یں یا آپ چاکرستا تی با 
دہ جا جھآپ ہی ہے ہو آتخحض ریلم نے فور تضریت گل کوروا کیا تقر گا نے 
ببس سک باکترا ری لا سك فا اس سال 


سر8 
٠ق‏ می آخضرت لم نے جفر کل کین ہیا آ پک یہن 
ھرانا حر نمشد رفھیلمسلیان ہہ کیا 202 


الودارحغ 

۵ خیرم ے٤‏ !بج می سآتحض رصق صمسلرانو ںکی ایک ہدئی بساعت کے ساتھ 
اق ےر ید ے اف ےی فک کن 1ک اٹ کے این 
ہوۓ ۔راست می مظام خدمم بر خدا ک عم تھی رگن او تما مسلرانو یکو خطا کم کے ایک 
. خطبرارشاوف مایا تخت کوٹ رب بن رک کے فر مایا سکا یش مولا ہوں اس 
کے ری کشھی موا ہیں 'اورائ سط رح تر رتیطل کی خلافت ودصای تکا اعلاا گر نے کے بجر 
آتحض ریلم نے مسلرانو ںکوعم د یک دو یت کو امی را ون نکہک رسلا مک یی ۔ چناغیہ 
حر تگم رن کہا اے الو طا لے کے ےآ پکوم ارک ہ9 ۔آ پ نرا مم ومن ومومنزات کے 
مو ہو گئ ی' اع تحضر تملقم کے پا بتب اتل اش نآ اور مت سکیا ”یا رسولٗ الڈھ ادا 
پعددرودوسلام خر ماتا ےکآ میس نے دی نکوکا لک دیا۔ اپ ینتیں پور یکرد یی اوددمین 
الام ےرائی ہوا“ ْ 


المر تضیٰ 27 


ای عمال 1۱۴ کی اک ران کے عیسامچوں کا ایک ول مھ ینہآ یا ان می اور 
آتحضر تلع می پٹ ومبادے ہوا ۔آتحضرت“لقم نے ہرندحیت سے مچھا نا ا گر دو اتی مہٹ 
عرپی پر قائم رے.آخر غدا کے عم سے آنفضرت صلتم اور عیسائیوں میں مبابلہ لے 
ا آححضرت ملعم اہن بیڈوں )کی تلم امام تع اودامام سیک نکوہنساء 2 عوداقوں کی مہ 
نت اط کواورلشسل(جاٹوں )کی خر تٹکو نےکر کے ا نکی ورای ضصورتیں دک 
ریما ا تما خوفزدد ہد ئ ےک رتھوں نے کیچ رمرابلہ ندگیا۔ 


مال 
۸(عفمر ےار ب جک وآتحضرر سلفم نے انال فرایا۔اورتضر تل اوردوصرے افراو 
تی اشم نےآحخحضرت “لک ملس دیامکفن پہنا یا ارڈ نکیا ساب رسولی اس وق ت ضر تلم 
کی لاس مہا رک تچ وک رسقیضہبقی سراعد ویش مل خلافت بٹ ےکر نے ےئ ۔ ٰ 


۵۔ا ر6 
وعسال رو لک ری مصسکق کے جو تفر تی ار ط رح کےھلم کن گن ۔آ کو بے 
3 کر ےک یکو لک گا۔ادرآ پکوآپ کےتی محر مکر دبا میگ تل مکی 
دعنیت کے مطا بآ بب رکرتے رے اورم ون نک یلیم و رایت اور اسلا مکی یی تا لت و 
رای تککا فرش انام ا ار الات کل ےس می حفیت ا نک لکر وت مگئے اور 
بس نے محفرت یا بت تو لکرنے سز ہو کیا ۔آپ ے خلاف تک ڈعداری 
الیل زء ا لے امم الم وع نت جا مکش جوططرت نخان کے خلا ف یلوہ کےزر مانے 
: 0 .کہ بی کئی یں بل وزج کے ساتھا لکر(ج حر تک کی یع تکر سے 
ارآ ےا جات لک )رٹ ے گ۷ر اد وکیا۔ نام 





+لمر تضیٰ ٰ 22 
را6 
پیک شس 


نمادگی الاخ گی می می ایک کرام مال ین حفرت ما شی سرداری یش اص ر دی 
مرف روازہ ہوا اود رہ کے خر یپ جضرت کل اکر سے لٹ اکی ہوئی اس لزا یکو نک پل 
کی ہیں ۔کیونک ام وین حفرت عا تل (نا تہ )سوا ہوکرمیدران جنگ می تش ریف لال 
تی اس نگ میں مان جن نم نے حضرتعطل کو لکردیا نفرت ہیر راس ٹیل ا یکردہے 
سے اورام ال ون محضریت ا ئکشہ کے لس تکھانے کے بعدتحقرت لی ن ےآ پکونہایت اتنام 
کےسا تھدان کے بھا کیج جن ال ون کےےہعمراہعد بیج دیا۔ ایا تیاز بیس مہ ہشگا مہ ہو اید پت کہ 


سس 
کین 


ےڑپ یش معاو یئن ا وسغیان امی رشام نے نثر تک کے خلاف بخاو تکر 
دی .او رانک ٹیس مزا رکالشکر ےک رحفض مل سے جن فک ر نے کے لے شام سے روا ہپ 
یئ تٹر تل کھی اسی بزرار(٭٭۸۰۰۰) کالشکمر نےکر روانہ ہو او صن کے میران ٹل 
7 وو _ چن ککاسلسلیکئی رو زتک رر ہا ںآ خ جب امیرمعاوپ 
کوا یلست کا لین گیا تو ان کے متتقد نا ع٢‏ عمرد بن حعائیس نے دہ جا ای کی اوت 
مر وے۔ تو یت یم ہو رقاب ارد ےکریا 1 
ررتوآاست مت اک ہک ات سب سی . 








جنگ ردان 
ای سال حضر تگ کو خارتیوں کے خلاف شبردان بیس جن کک لی کی شس میں 
مارتیو ںکی لک پڑئی تعداؤ لکرد گی اد باتی با گکوڑے ہو ۓے یو ےھر رق 
تک ام رمعاو تعفر تم کو پر ینا نکر تے رے۔اور رت ک ےملک میں لف قاماتٹ 
ےکر ۓے رد 


سا 
۹ر ان الہارک رز یناز یع بدالرنشن ای کن نے تعفر ت گن رز ہرآلودکوارے 
وارگیا_او ر١٣‏ رفا رع ۱۳ض جو سما لک عم ری سآ پشہید ہد اور ہآ قب مامت 
جوخما نیت ےعلوغ ہوا تھا فی جف یش نحرو بک گرا 


اوزاو 
نطرت اط بت ضط یں گمرمضطفہ ( صلی لعل والہ یلم ) سے حضرت اما صن 
ادرنطرت امام سن دوصاجزادے؛اور جناب زینٹ جناب امکلژخم روص جزادیال پدا 
لی ۔ تاب کن بجلن مارک می نشویدہ ہد مین دنگ واج ھے ولا ذ ڈور ٹیس جعررت 
اس تفم رہ ہدائڈہ اخثمان ‏ عید ارہ ابوجگر گی دج اصخر عم امج وط ء نون اور جن خف. پہدا 
؟ ا ۔اوراولا دانا ٹ ‏ رفیہ؛ام اشن رط ہکہرکی پیا سان کے علاو ہلل فکنیٹروں 
ےھ یآ پ کے متتددول کے اور کیا یں -۔ 





اب ال 


زایا تراٰ) 
رت لی علی السا مک یتخصیت خداونعا کی گار یس 


اخرج ابن عساکر عن ابن عباس قال 'مانزل فی احد من کتاب الله تعالیٰ 
مانزل فی علی رضی الله عنہ“ وامحرج عنہ ایضا قال ”نزلت فی علی 
ثلشمائة ایة و فضالله رضی الله عده کثیرۃ مشھورۂ“ 


ان اہن عحضرت ابکن اس سے زوای تکی س ےکی ین کی شمان یس انی ایی کی 
زرل ہو میں جشتی حر تبلی علی السلا مکی شمان میس نارگل وی ں٣‏ حفرت ابن عباس سے بھی 
ردایت ےک ہت ربتدعلی علیہ ااسلا مکی شمان یل مین سوا تی نا زرل ہومیں۔ اورپ کے فضائل 
(نعدادٹیش ) بہت کش راو رشپورہیں' 


20 9س وس ییوشسکچچچوهووسچپععم رت : 





قو لہ تعالی:۔ 
اد تا المصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر 
المغضوب علیھم ولا الضالین ٥‏ 
اے مدان پھمکوسیحی دادما بت دم رکد۔ ان کی راو تتچھیں و نے ا ہت ععطا کی 
ہے۔ دا نکی راو جن تی راب ڈھا گیا اور گرا ہو ںکی داہ۔'' 
( سورونا قرامت ے2,٦)‏ 
0 
عن مسلم بن جبان قال سمعت ابا بریدة یقول ”صراط محمد و 
اله صلی الله عليه و اه و سلم “ 
سکم جن جنبان ردایت تےکر تے ہہی ںیک یں نے الد ری وک کے ہو ئے ست ایض اط 
مصتتقم مور ) یسل وا لف ملق مرکا امہ ا 
(ارخالطااب ے۹2) 
قال رسول الله (ص ؟”وان تومر و اعلیا ولا اراکم فاعلین تجذرہ 
ھادیا مھدیا یا مد بکم الضراط المستقیم “ 
تحضر ےلم نے ف مایا )”گرم س بک یکو اپناامی روخلیفہ ما نگد۔ادر یس جانا 
ہو ںکریخم ( می کوا میرروخایضہ )ن مان گے .تو تع یکوانابادکی ادرسر ھھ راستہ بر نے جانے والا 
کا (گر؟ ۵۵۹) 


وس لج سسجت وس وس ملاسلا اہ ہد سوٗدُّھہ وہ ٌسم دت ہ-صھڈ سد --ّے-وجسد ساکسکوےںو-وےیے۔ ےہ+ٗہویو+وومہودو۔+و۔ سد ہو وودیے ہے 


دوسرگیآ یت 


(حضر تہ کایمان اورمنافتو ںکذحی) 
قولہ“ تعالیٰ(۲):۔ 
واڈ الشوالڈین امنو ا قالو امنا واذا حلوا الی شیاطیٹھم قالو انامعکم 
انما نحن مستھزلونہ 
ناف ہاناے:۔ 
”اور جب ووان لویگوں سے ڑج ہیں جوایمان للا گے ہیں ت2 سے ہیں جم تو ایمان لا 
گے اور جب وہ اپنے شیطانوں سے لت ہیں تو کچھ ہیں چم و تھا رے ساد ہیں ۔ھم لے 
(مسلماٹوںکذ نات ہیں۔ زین مسلمانوں سے میں می برا نل ہیں ) 
زبارہ ا بقرہ آیت )٠١‏ 
روی ابر ضا لح عن این عباس رضی الله عتە؛ان عبد الله بن أبَیء 
اض ایخ جوا فقاستقبلھم تفرمن اصحاب زسول الله (ص) فقال عبد 
ال لاصحابہ انظر واػیف اردابن عم رسول الله وسیّد بنی ھاشم خلا 
رسول اللہ فقال علی کرم الله وجھه یا عبداللہ“ ات الله ولا تنافق لان 
المخافق شرخلق الله .“فقال یا ابو الحسن ”الله ان ایماننا کایمانگم “ٹم 
تفرقرافقال عبدالله بن ابی لاصحابه ”کیف رائیتم مافعلت'؟“فاشنوا عليه 
خیرا فانزل الله علی رسولە (ص)واڈالقوالذین امنواہ ‏ 
قال موفق بن احمَد عقیب ڈلک تزلت الایة علیٰ امن علٰی کرم الله 
وجھه ظاشرا وبا طتار علی قاطعه موالا تا للمنا فقین واظھار عداوتھم 
والمرا ڈبالشیاطین رئوساء الکفار (غایة المرام ص ۳۹۵) 


المز تضیٰ 27 

۱ الوصاخغ نے ضحضرت ازا نع ع با سے رواییت گی ے کک رف خب داب داہن أ گا 
(ہناف )اور الں ایک سے کے و سراخے چند ا جاب لآ ۓ ہے دکھائی 
د بے ؛ئبذاللد نے ابے سراتھیوں سےکھا” یھو بیس رسولی کے پا راد بای( نضر تن اھ 
سدائۓ ریو ام بی شمم کےسرداد ہی ںکیی ر وکرت ہہوں(اوراا عکا مرا اٹڑاتہہوں ) تحظرت 
شا نے فر مایا ا ےعبرائڈہ خدراے ڈرا ورمزافقت تنوڑ و ےکیوک متا ففن رت موق خدراے 
اس نے جواب دا ے ان پا ما انا نآپ دی لوکوں کےایان ما ہے ےکرک 
سب تخرق ہو ئن بایان ای نے اہ سماقعیوں کہا خحم نے دی اہی نےکیسا . 
کا مکیا سب نے ان لگ یترب فک -(اس بر خداوند عالم نے ات سو ل لم یآ یت 
از لگی۔ 





٭ ھ٭- 





تیر ایت 


(ائل ببیت سو لکوالی ک نو ری ) 

قوله تعالیٰ :۔ 

وَيِرِالِیْنَ اتَسُو ا و غیِلوا الصَالَِاتِ اي لَهُم جَتب تَجْرِی مِىٔ 
ا اه 
غدائرماتاے:۔ 

'ڑاے جہمار نۓززسوں ) آپ ان لوگو ںکو خر اسنا د ےج ایمالن لا ج یں اور 
جھتبوں نے ایگ ےکم یئ ہی ںکصان کے لئ (جشت کے بددبامات ہیں یکن کے بی جارٹیا 
ین یت (پارہ ا بقرہ آیت ۲۵) 





نقر کی ا سال ۓے (اےسول) 27 ان وک ںکوجوایمان لا اور نہیں نے ا کے 
کام گے( کان کے لے جنت مس جامات ہیں جن کے ریس ای ہیں بآ یٹ ”عق تک 
٠‏ گی تفر ےت ڑزواورتظ رر ےعبیرو بن جار ٹل حکپدا مطلب یشان کی لوڈ 


یآ یت 
(حفرتآ شی و بیس طر قبول ہو ی؟) 


قولہ تعالی: ۔ 
”تلق دم مِنْ رُبَهِ كلِمَاتٍ فتَابَ عَليْه اه هُوا اواب الرحِیْمُو“ 
مدان اجڑے:۔ | 
رتعتر تدش نے آیے رب سے ل(مزرت کے)چچد الف کا 000 
کے ذر و کی )ٹیس شدانے ان الا کی برکت سے )ا نکی لو نول فرماکی۔اور نے کیک 
خدابڈان تو لکر ے والا ےاور بر پان ے۔ ‏ زارہ ا بقرہ آیت ك 
امحرج ابن النجار عن ابن عباس قال ”سٹا ل رسول الله (ص )غن 
الکلمات انی تلقاھا اذٌم من ربّفتاب عليه فقال صلی الله عليه وسلم 
اسان ری سرت ھا ما رفاطٹر الحمٰن و الحسیٰٔن فتاب علیہ 
و غفرله“ 
ان ار نے منرت اکنا علیاں روا تک بھ سوا ول ازڈسلہم سے لن نات 
کے شتحل بو چا گیا جونظر تآ دم نے اپئے پرورد رے کیک تھے اور( اان کے ڈراہ سے )را 
ےے ا نکی تقو لک گی بت غیت صظ تے ف مایا کی لزخفات وٹ نے )مج ملق لی ۔ 
لغ رق تق سیا ےس ا اق نے ا نا شول کی 
(تفسیر درمنٹور جلد اول) 
عَن سعید بن جبسر عن ابن غباس قال سئل النبی (ص)عن 
الکلمات التی تلقاھا ادمٌ من ربە فتاب عليیه قال سئلہ بحق محمد (ص)ر 
علیٗ و فاطمةً و الحسُن و الحسُین فتاب علیہ و غفرلہ۔“ 


المر تضیٰ 30 و 
> صعیداین جیرنے طرت این عباس سے روایر کی ےک عفرت ٹا سکم سے ہی چھا 
ماک درکون ےککرات تھے ج نک تحخر تآو نے اینے خدا مھا ھا او کردا نے ال نکیا 
3 تو لکیشی .تپ نے ف مایا حضر تآوغ نے لم پل فا لسغ او سی تم 
الام اکا دا۔ ہد ےکر خدا سے سوا لکیا تو خدانے ا نکی فو تتبول خر مائی۔ اورا نکومعا فکر 
“٠‏ 


” 


(ینابیع المودت ے۹) 


قولہ تی 2 
ےن رہ اريم زور زخاديَكَیم رم 

من َبَهمْ ولا عَرْث عَلَيْهِمْ ولا هُمْ يَحْزوْدَ 
دا ئ رما اے:۔ 

دولوگ جواپے ما لکو( راہ خدایش خر کرت ہیں بی را وی و نکی یشید : 
دن اہر بظاہر۔الن لوگکیں کے لئ لن کے مد اک نز دبیک بہت بڈااجرولو اب سے 
(اورقیاصت کے ون )ان پر گی خوف طارکی ہوگااو رنہ دی دو ریہ ہوں گے 

(پارہ ٣‏ بقرە ایت )٣٢‏ 

ن۹ل الواحدی فی تفسیرہ یرفعہ بسندہ الی ابن عباس رضی الله 
عنھاقال ”کان مع علی رضی الله عنه اربعة دراهم لایملک غیر ھا 
فتصدق بدرھم لیلاویدر ھم تھارا وبدرھم برا وہدرھم علائیة فائزل الله 
تعالیٰ ”الّذِیْنبْقوْنَ اموالھم باللَیْل وَالْھَارِ سِرّ وَعَلايَِةفْلهُم اَجْرهُمْ 
من رَيهمْ رَلَاحَرث عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْنُوْنَ ہ 

واحدی نے اہی یں تحفریت اہن بای سے سوب ردای ت کون لکیا ےکتضرت 
1 کے پا صرف چادددہم تھ اود اس کے علادہ ھن تھا آپ نے ایگ ددائم رات 
جاک درم دنع میں اک ورام پشیدہ طور سے ایل درجم ماشہ طور نے (ئرا ‏ یا راہ 
یس )ا صد 3ٹ ایا فآ خدانے(ا نکیا شان می )ىآ یت نازل ف مال 7 مل می راز کو دلیی 
ن اہی می پکراوریصگی نظاہر ٹیس( دای راو شن)) اپنا مال خر کر تے میں ان کے لئ ان 


تمہ ہد امہ مدع علیہ ممٗاعد ممراپہ ممونونوبرعوو۔ جعوو۔وسجع۔ و٭وو_ٔوٗیوو۔ وودددود۔ ً>٢جججودہ‏ 


گے شود کے نز دریک بہت با ار سے اود( قیامت کے ان ران بر خوف طارگی ہوا اور دوہ 
رروہوں گے_ (نور الابصار۸ء ) 

عی ابی‌عاسٌ رسی اعت قال فرا عاللٰ٭الَيَثخ شون 
اموالھم سرٌا وعلائیة نزلت فی علی رضی الله عنه“ 

تخرت این ع ال سکیچة ہی نک بآ ی تک ندولوک ابپنے ما لکو(راہ غحداٹس )خر 
از ہی بھی را تکودیی ان گی وشیز ور ےبھی ا ہر باج“ نر تل کی شمان شیں 
الات 

(ینابیع المودة )۹١‏ 


+7 کیک کستیمنے۔۔۔ سد ددشت جا امت مد ات 


قله تعالیٰ:۔ 

فَمَنْ خَاجُک فيْەمِنْ 'بَعُِدمَا ا جاک بن اَل 
َبْسَاءَ نا َأبَاء كُم ویَسَاء نا وَيْسَاءَ کم وَاَقَسَنا وَافْمَکُم تم نَبْمَھلَ فُنَجْعَل 
لََْة الله لی الكاؤِبیْنَ ہ 
خمدافرماجاے: وٹ 

زا ررول لم و بآ ہے کے اس علم تقر پی آہگا۔اس کے ہو کر 
(آھرا ای )آپ ے(حضرتےئ 9۶ آپ ان سےفرمادیی' ہم 
ان بی ںکو میں اور اپ بیو ںکو لا درجم ات یو کو لا میم ایور ںکو بل و جم 
ا ےنفسوںکو یں تم اہ ےکفسو ںکو ابچ ربھم سب مپاہل ہک میں او مھوٹوں پر رای اعنت 
آرئیںے (بارو ٣ال‏ عنتران ایت )٦٦‏ 
قال فی الکشاف ”لا دلیل اقوی من ھذا علی فضل اصحاب الکساء رھم 
علیُ و فاطمۃً والحسٰان لاٹھالما نزلت دعا ھم صلی الله عليه و سلم 
فاحتضن الحسیٔن وأخذ بیدالحمُن و مشت فاطمةً خلفہ وعلی خلفھما 
نعلم انھم المرادمن الأیة: 

( وو می زخشر ىی )تفم راف می ں کھت ہی ںکیاصیا بکسا شی حر تک یں 
طرث حر ت ایہم السا می حضیلت کے لئ ا ںآیت سے بے ھکر دوس یکوٹ وی 
لی نیس ہونکق ۔کیوکہ جب یآ یت (آ یت مالہ ) نازل ہول تو رسول الڈ یلم نے ان 
عفرا تو لایا۔امام مل غکوگود می لیا۔ امام کا اڑا نیت فاطرے رسول یلم کے 


نہں 


اوعوہ رسود ود ”وو چھییوٰہے وم وتو-تچ۔ج ورس رجہ جود ود بت 


ےون 
. اخرج الطیرانی' ان الله عزوجل جعل ذریّة کل نييٌ فی صلبه وان 
الله تعالیٰ جعل ذریّعی فی صلب علی ابن ابی طالب“ 
طہرالی نے روای کی ےک( آتحضرتصلم نے فرمایا)خداوطد عا لم نے ہپ اکا 
ڈ ریت اس کےصلب مس قراردئی ے۔اورخدانے می ری ذر یت (او لاد کون بن الی ال بکی 
صلب میں مراردیا ے' 
(صواغق محرقه )٥۵۳۵۳‏ 


المر تصضی 35 


تونصو- صصود جھ سس سد وو لیے سے وع ریسی وی رنسے رجہ را ۰ رھ ید تد لع ماد ٦ف‏ لد- سی سزسزہ اسر ف٣ت‏ ئا عہ مئط ماب ید تید بعد تس 


سے 


سما و آیت 


٣ش‏ 
اولعانی:۔ 


مداخ رماتاے:.۔ اےلوگوقم سب ال کی زی مضبوٹی سے کلاواور( لیس میں )انتا ف نہ 
وڈ (پارہ ٣‏ ال عمران ایٹ )٣٢۴۶‏ 

آخرِچ التعلبی فی تذسیر ٥‏ عن جعفر الضادذق رضی الله عنۂ انە قال 
نحن حبل الله الذی قال الله فیه واعتصمر ابحبل الله جمیعا ولا تفر قواہ 
شی نے ا سآ ی تک یی میس ذک رکا ےک امام مرا صا دق علیالسلام نے فر میم پی ادکی 
دو ری ہیں نس ک تلق خدانے فر مایا ےک اویل کی ری مضبڑھی سے کیک اداد( آیں ش) 
اخلا ف نگرو' (صواعق محرق۹۸٢۱)‏ 
ارچ صاحب کتاب المناقب عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی الله 
غعتھما قال کنا عند النبی (ص) اذجاء اعرابی فقال ”یا رسول الله سمعتک 
تقول واعتصمو ابحبل الله فما حبل الله الڈذی نعتصم به فضرب النبی 
(ص)یدہ فی ید علیٗ و قال تمسکوا بھذا هو حبل الله المتین۔ 
رت ابن ع پا کت ہیں” ,مس بآ تحضر بلقم کے بائس ل( ٹیش ہو ۓ ) ےک ایک اعرالی 
با اورااس ےآ فحضرت ملکتم سے لہ مچھا”یارسول ای نے سنا ےکآ پ فرات ہی ںکہائ دی 
تی مض ڑگی سے چپ زا وو ادڈ کی ریکون سے جس سے ہنم وا رت ہوں؟ ' 7 حضر تلم نے انا ات 
محر تل کے پا تح یہ مارااورڈر مایا ”یل دای ممخقبو طا ری ہیں ۔ان کے دانع سے وابست رہ 
(ینابیع المودہ ۷۹) 


المر تی 36 


نس بد وسوٰسہے۔ ویے-وسی: جع 


آفوڑیۓ 
(حاسد بن ائل مبیت ے خداکی یزاری) 

قولہ تعالیٰ:۔ 

اَميَحسلون النَاسْ غلی مَآ اَهُمُ ا الله بن فَصْلہ فَقَة الَيْنَا ال 
برَاهِیْمَ الاب وَالْحِکُمَة و ١تَيَهُمْ‏ مُلگا عَظِمًاء 
خداظ رما جاے:۔ 

کیا لوک ان لی ےی کر تے ہج نکوشدازید ا نے یکل وکززم نے 
دازا و بے شک پعم نے ال ابراڈی مک وناب اورحکمت ےڈا !او را نکوبببت بل می سلطن ت بھی 
عطا گی (یارہ ۵ نساء ایت ۵۳) 

انخرج ابو الحسن المغازلی عن الباقر رضی الله عنه قال ”فی ھذہ 
الأایة نحن الناس و الله “ 

ا ن شاک نے روا۔ جب کی ےکا ما نفد پا قرع ااعلام نف رمای ‏ دا اراس 
آیت یل لوک سے مرادجھم لوگ ہیں (گورما مال سم زان ہ 
کم سے وازا۔ٹ مکوحکت بی عطافرماااو ہہ مک نمائس مار نع دثئے اس لئ لوک ہم سے یر 
لق .ا (صواعق محرقه )٥۵۵‏ 

اخرج ابن المغاز لی عن ابی صالح عن این عباس رضی الله 
عنھماقال ”مذم الأیة نزلت فی البنی صلی الله عليه و سلم و فی علی 
زضی الله کے“ 

این مغاڑرلی ےالوصا اور ابی بای سے روای تی ےکلہ رآ یت تعظ ررقت کیا 
صلم او رتضر تی کی ان میں جازل ہولی'' (ینابیع المودة ا١٣)‏ 


وںآیت 
منرت ول س 


ارلاضدی ٍ 
ِنْمَاز ِيْکُم اللهُرَرَمْرْ لہ ز الذیْنَ موا لن يقیمُوْنَ الضلوة وَتَو نون 
الرٌگواۃ وَهُمْ رَاكِعُؤْنَہ 
خمدائرماگاڑے:۔ نے 
(اےابمان لا نے دواد ھا راواٹی اورر برست و یں خدا ہے۔ ا کا رتول ےاوردو مین 
ہیں جھ با ندکی ےنماف اد اکر تے ہیں ۔اورعالت روغ شی کو قد نے یںا۔“ 
عن ابی ذرالغفار ى رضی الله عنه قال ”صلیت مع رسول الله صلی الله 
علیہ رو سلم یومًا من الایام الظھر فسال سائل من المسجد فلم یعطه احدا 
شیا.فرفع السائل یدہ الی السّماء وقال ”اللَھم اشھد ائی سالت فی 
مسجد نیک محمّد (ص) فلم یعطنی احد شئیا و کان علی رضی الله 
عنە فی الصلوۃ زاکعا فائوما اليه بخنصر ہ الیمی وفیھا خاتم فاقبل السائل 
فاخذ الخاتم من خصرہ وڈلک بمر ای من النبی (ص) وھو فی 
الے۔.۔جد .فرفع رسول الله (ص) طرفہ الٰی السّماء وقال ”اللَھم ان اخخی 
موسلی سالک فقال رَبَ اشرح لی صدری ویسّر لی امری واحلل عقدۂ 
شن لسانی یفقھوا قولی واجعل لی وزیرَامّن اهلی ھارون ای اشاد دبه 
ازری واشرگەفشی! اسری فانزلت عليه قرانا سنشدً عضد ک با خیک 
ونجعل لکما سلطانا فلایصلون الیکم .اللھم انی محمد یٔک و 
صفیک اللھم فاشرح لی صدری ویسرلی امری واجعل لی وزیرامن 


یو چو ویو وت چرودسدی مججدعححدد سس سد سیت 


ا ہقرف شی سی استتم دعائوہ' حتی نزل جبرئیل عليه 
السّلام من عن الله عزوجل وقال یا محمد (ص) اقراأ ”انما و لیْکم الله 
ورسوله والذین امنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ ویوتون ال زکوٰۃ وھم راکعون“ 
حخرت ابوذ رخفارکی ککتے ہی سک ایک دن مم نے نکی راز سول نیلم کے اھ 
ہیاک جال سر٣‏ گرصوا لک نی نال ان کی اس اکا نے ای پاتحد 
؟سما نکی طرف بلند ٠‏ سن او کہا اے شیا اوغا تفر بی تب صل کی مر میں 
سوا لھا 32 و کیا نے رس تع تی اس دق تمماز یں حالت رکم میس جھ ساپسفے 
ئا؟ ٹکیا ںکی طرف جس یں کوٹ یی اشار 1کیا ا لآیااوراس نے گی ے اگ جار 
اتا وف کے ہے خر الو در میں و ور جج طلراسی بر )ریسول نے ان نظ ری ںآ سا نکی 
رف اٹھا ین از مایا داع ہے خچوائی موی اھ سے وا کیا کہراے دامیرے سے کو 
کشادہ ردے۔ مر ےکا مکوسا نکر دےاو نمی گیا زہالن یکن تکودو کرد ےت اک لوگ میری 
اف یں اریم رےائکی سے میرے پھائی او نوم اوز رق اررے ۔اورا نکی بج ے میری 
طاق کو معخبو بک رر ے اور ا( نکر ےکا موس می می راش یک ہناد ےت اے دا نے الن پروی 
از لیف مال (او رک لے موی )اج مجھارے پازوۂ لکونھارے ُھاکی کے ڈر دو مہو ناد سی 
گے او دو ںکوا یی طاشت عنا کرد یی کے( تار دشن بت دوفو ںکک ن یہو انی ں“ 
اے دای را ادردوست ہویں۔ر ےسبد کشا دوک دے۔عمی رہ ےکا مو ںکو 

آسالن او ے۔اورچر ےائگل سس ار ے ھا لظ/ وم وژ مم اردے اور 1 کے ذرلجٹری 
طافقت مضبو طکمررے نحفرت اروز رسکتے ہیں کرای رو لیلق کی دعا ام ھی ہوئ یش کہ جب ائل 


علیرالسلام نا زرل بد او کیا گا ےئقد ل(صل )یڑ ھی ”ضورقم لوکو ںککا ولی خیدا اور ال کا 


رسول ے ۔اوردوم وشن خ۴ یں جوکماز پڑت ہیں اودحالمتہ رکم یس کو ود چیے ہیں ۔'' 
اس ردای تبون انی نے خی رم ابا - آلزرالاہطارمع) 


بہہیہوببتتیبتشسسشعس یی ا ٹیرینںسشسےچچ_-_--۔ ص١‏ ۔۔٣ءےءے‏ ۔آے-ے-ے۔۔]؛ء ز۔ےَ_ےے_ے_۔_‌س,س8رو9سئ9.ە6..0ە0۔۔ل۔ 


(رول ریا ای یم 
ٰ قوله تعالی:۔ 


ا لھا دز ضز اما ال ایک بز زنک زَرۂ ہف فمَ 
بل ر سَالمہ و الله ْعُصِمُک مِنّ الٌاس ِنٗ الله لا يْهُدِی القُوُمَ الگافرینہ 
مراظر ا فان 
اےرسولی جع مآپ کے پرودردگارکی طرف ےآپ ب ناز لک یا گیا سے چو مھا 
تیچ ۔ادراگ رآپ نے ایا کیا آپ نے ( گیا ) خداکاکوکی ام کی یس پہو مجایااور( آپ 
ےس )دا پکولوگوں کے ٹر سے توتار گ٤‏ گا زپارة ٦‏ مائدۂ ایت ے2٦)‏ 

. اخخرج ابن مردویە عن ابن مسعود قال کنانقرءٔ علی عھد رسول 
اللہ (ص) ”یا ایھالرّسول بلغ ماانزل الیک من ربک ان علیا مولی 
المومٹین فان لم لقعَل فما بلغت رسالتو الله یعضمگے) من الا س* 

ائؾ مردوپ نے ائین مسحود سے روحم کی ےکہز ماشہ سو ٹس 6ھ لوگ ( ا ںآ یت 

کو) اس طط رع بڑھاکرتے تھے 'اے رسو ل “لق جع مآپ کے بردردگارکی طرف ےپ 

از لکیا گیا ہے پپہو نیا دتجچ۔ بے شی کگ لی مونشن کے مولہ ہیں او راگ ھرآپ نے الما نکیا 

آپ آپ نے (گویا) مد کاکولی پام یاکیں )ہہ مجایاادر( آپ ڈد یں ) خدا آ پکولوگوں 
کے جرسےتفو تار کےا (تفسیر درمنثور جلد دوم ۲۹۸) 

اخرج الشعلسی عن ابی صالح غن ابن عباس و عن محمد الباقر 

رضی الله عنھما قالا ”نزلت ھذہ الایة فی علیٗ “.وعن ابی سعید الحدری 

قال ”نزلت مذہ الأیة فی علیٰ فی غدیرحم“ ھکذا ذکرہ الشٹیخ محی 


پان وےعۂ 


المر تضیٰ 40 
الدین النووی“ 

بی نے ابوصاغ سے ردام کی ےک تظرت این عباس اورنظرت اما تج با 
نے فر مایا یت حفرت کل کی ان می نازل ہوئی''ابوسعید غدرکی سکتے ہی سک بآمت 
حرت کی شان میں مدرغم کے میدان می :زل ہوئی۔اس ہیا نک تا رش گی ال بن نورق 
ن ےپ کی ہے۔ (ینابیع المودة )٠٠٦‏ 


قولہ تعالیٰ:۔ 
ََڈن سُوذِنْ ان لن الله عَلَی الطّالِمينَ الِْنَ يصدُْنَ عَی سَبِيْلِ 
اللہ وَيمُوتَهھ جا وَهُمْبأْلأخِرَة رنہ 
مدافرماتاے: ج6 تب ایک متا دگی ان لوگوں کے درمیا نآ وازدےاکنمالموں سرقداگی 
لحنت ہے جوفداکی راو سے لوگ ںکوروسکت تھے اوراس یس( خوا و او نی پا اکنا جات تھے 
اورو رو ڑآئحرزت ےا ارکرتے جج _'' (پارہ ۸ اعراف ایٹ ۴۵ ۳) 
ال حاکم ابو القاسم الحقانی اخر ج بسندہ عن محمّد بن الحنفیة 
عن ابيە علی کرع الله وجھه قال 'اناذلک الموذن “ 
عاکم ابد اقاسم ما لی نے ححضرت مجر بن حنقیہ سے روابی کی ےک حر تک نے 
مایا 2ا سآ یت یں  )‏ مو ذن(منادگی سے ماد ہوں_' (ینابیع المودة )٢‏ 
ال حاکم بسندہ عن ابی صالح عن ابن عباس رضی الله عنھما انہ 
قال قال علی رضی الله عنہ ”فیکتاب الله اسما لی لأایعر فھا الناس منھا 
فان موذن بیٹھم ۔یقول ان لعئٰۃة الله علی الظالمین.ای الذین کذہبو 
ابولایتی واستخفوابحقیٰ“' 
عم اورالوصاخغ نے عخرت ار عباسں سے دوای تکی ےک رشعفر تن نے ف مایا قرکان مجید 
ٹس میرے ببہت سے نام ہیں شی نکول وک یں جات تح لہ ان نا موں کے ایک مو نکی یز 
(زیکڈن یرانام ہے اور اس وڈان کا کا م ہی گا کہ )وولوگوں کے درعیا نآواز د ےگا لہ 
ا موں پر دا گی للصنت ہے ۔جتئی جن لوکوں نے می رکی ولایت سے اکا کیا او رمی ر ےت نکو اکا 
مھا( دد نا لم ہیں اوران بر خدا انت ے)'' (ینابیع المودة ا٭ل ) 


زس عچ ہچ پوسہ ےو بی وہ زاسیو نوسوہ سے .وس سروک آید ہد ید بد ملع یع دع تا مع اد ماد لئ بد ےہ ای یہد تع مر ا لع عم ا ہہ :دہ کر لد اہ :عم بل تد یدع ید رفآ نید پرپشرت: چچسپورٹ ویر ود نود بد عو اچس یرود عچسوو۔ ریت و رد ود ےد تد مد دید ود لد × 


با رو ]ایت 
(قیامت بیترت کے ذستوں او مو ںکی شناخت 
قوله تعالیٰ:۔ 
و لی ا غرافِ رِجَال بعر فُوْنَ کل بِسِیْمهُمْ ہ 


مدائرماجڑاے:۔ 

”'اورمقام اعراف پر پیلک ہوں گے جوسب کول( “می یا شنی )ا نکی پیا نیوں 
سے یجان بیس گے (پارہ ۸ اعراف آیت )٢٢‏ 

اُخرج الشعلبی فی تفسیر صذہ الایة عن ابن عباس رضی الله 
عٍما اہ قال ”الاعراف موضع عال من الضراط عليه العباس و حمزة و 
علی ابن ابی طالب و جعفر ڈوالجناحین یعرفونْ مجھم ببیاض الوجرہ و 
میغضھم بسرادالوجوہ. 

بی نے ای سآ ی تک یفن ےل میس اب ن عامس سے ددای کیا ےکا عراف ہل 
رط سے ایگ اد گی کا ام سے چچہاں جرت حعپاس رنضریت امی رحززہ تحضر تل این ال 
طیااب اور تر ےشن دو پاڑ ول وا نے ہوں کے جوا زونتو ںکوان کےٹوراٹی چرو ںی ود 
سےادرافن جو ںکوان کے سیاہ رو سکبوعہ سے بیھیان یس ۔. 

(صواعق محرقه )٦٦2‏ 

عن سلمان الفارسی رضی الله عنه قال سمعت رسول الله صلی 
الله علیہ و سلم یقول لعلی اکٹر من عشرہ مرات ”یا علی انک والا 
وصیاء من ولدک اعراف بین الجنة و انار لاید حل الجنة الامن عرفکم 
و عرفتموہ ولا یا حل النار الامن انکر کم وانکرتموہ“ 


2 00 2 7 ا 7ی ا 


کھت ہو ۓ سنا" ےت 
جم کے درمیالن اعراف ہیں جنت می ددی جا ےگا جوقم لوگو ںکو پیا اہو اورقم لو بھی اس 
کو پان ہداو جم جس دہ جا ےگا جوتم لوگو ںکونہ ہیام ہواورتم لو بھی ان سکونہ بات ے 
ہنی جوتر تل اورائہ طا ہری نک دوست ہے ادرا نکی رو یکر تا ےکو یا ا نکو ھا تا ے 
اوردوتحفراتٹھی ال لکو بات ہیں دوجنت میس جا ۓگااور جوا نکیاان سےاوراان کے فضال 
کامعکر ہے و کو ا نکویس پیا اد نم میس جا ےگا' ۱ 

۱ (پنابیع المودة )٠+۲‏ 


70 ہے ں سم ش تچ ججِيعسیکىحچححدش سح 


تیر و ںآبیت 


( ضر ت پک کوامی ال وم نکا خطا کب ل؟) 
قوله تعالیٰ:۔ 

اڈ اذ رَبُک مِن بی اذمَ ہِنْ ظُھُوْرِ هِمْ ذرَِِهُمْ وَاَْهَد مُمْ 
غالی أنفيهم آللے برتِكم قالزا بلی خَهة نا ا نقُرارايَمالقَيامَةَإن گنا 
عَِنْ هھٰذا غافْلیْنَ د 
خداظرمااے: 

ارت ول کرس ادا جج بآ پ کٹا مڈظرت آ دن کی 
۱ اولا در سے شی لپچنوں سے( با رکا سکم ا نکی اولاد سے وہ ان کے میا لے میں ا اک را لیا تھا 
(اور و ھا تھا کیا ی ھا را بروردگا یں ہو ں تو سب تن کو کے ان چس ےدام 
مور ام نے اکا کے ےہا یہی ق ا مت میں پول اتور بھم اس سے پا ان رے۔ 

(پارہ ۹اعراف ایت )٠۲‏ 

عن حذیفة قال قال رسول الله (ص) لویعلم الناس متی سمی علی 
امیرالمومئین لما انکر وافضائلہ سمّی بذلک وادم بین الروج 
والجسدوحین قال (واڈ اخذربک من بنی دم من ظھور ھم ڈر یتھم 
راشھدھم على انفسهھم ) الست بریکم قالو ابلی فقال الله انا ریکم و 
محمد بّیکم وعلی امیر کم“ رواہ صاحب الفردوس. 
' رت ط یف سے ردایت ‏ ےکزحفرت رو للع نے فربا' اروف جا نکی 

سی کوکب ام الم ن کا خطاب طلائذدہ ہرگ ان کے ن ضا لکا انثکار شک ر حر ت٦‏ یکو 

امیرال ٗی ن کا خطاب اس وقت ملا جب حطر تآ وم روح اورسم کے درمیان ھے(ال وقت ) 


المر تضیٰ ۱ ۹45 
جب مداون عم نے حطر تآد مکی اولاد سے شی پچنوں سے (یا رڈ لک )ا نکی اولا رے وو 
ان کے متا لے یس اتارک رالیاتھا ( اود و ھا تھا ککہکیا ش سنھھاراپروردگا ریس ہوں؟“' سب 
ث کہا ینک نے ہمارامروردگار ےق خدانے فر مایا ”نم نم س بکا نزوردگارہوں اورش کم سب 
کے ئی ہیں ادری یم سب کےامی ہیں ا اں روا تسا ح پآ رد ے لکیاے۔ 
(ینابیع المودة ۲۳۸) 


چودہو یں آمت 


...2ے 
زرضال تل 
قوله تعالیٰ:۔ 
ا اي الْدیْنَ مزا اسْمَحيُْوْ لِلَهوَِلرْسُوِ اذا دَتَاكُمْ لِمَا يْحْيیْکُم 
و اعْلَمُوْااَيٌ الله يَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْء وَقَلبم وَآله اِليْه نْحَشَرُوْنَ ہ 
فدامریا ٢ات‏ تج:۔ 
آےغ لن انان لا یہو ج بت مکوہوارےرسول ای ےکام کے لے بل میں جھ 
وی رووا لعل کا باعث ہو تم یدااوررسول اعم ماف اور یق نکر کہ خدا اسان اور 
کے دن کے ورسیا! نآ جانا سے اور یھ یکول وکم سب کے سب اس کے سا نے محاض نے جال 
زا (پارہ ۹ انفال ایت )۲٢‏ 
قال العلامة ابن مردویه ”ان هذہا لایة نزلت فی شان علیٗ ہ 
علامہابکن مردد کبیا ےک بآ یت نف تکیکی شان می نازرل ہوئی۔ 
(روائح القران ۹۳ا و امامة القرآٴن )٢۹‏ 


یا گر ؟ ۳ڑ 
ث 


ا ہت 
2 وو تد نگوٹی) 

قولہ تعالیٰ:۔ 
وا تقُوٰا فَتَة لا تصِیْتَنْ الِیْنَ ظُلموْا مِنکُمْ حَاصَة لیر ان الله شدِيْدُ العقاب ۵ 
مدائ رما اے :۔ 

” اور( اےلوگو )اس فصن ےڈ ر تے رہوج مان انکیشلوکوں نیس بڑ گا جنہوں 
نے تم یس ےل مکیا۔لز جم سب کے سب اس یں مز جا گے ایی نکراک داب ات 
راب گر تّوااے۔' (پارہ ۹ انفال ایت ۲۵) 
عن الحسن ”نزلت فی علی و عمار و طلحة و زبیرو ھو یوم الجمل خاصّة 
قال الزبیر نزلت فینا وقرأنا ھاز ماناو مارأنامن اھلھا فاذا نحن المعنون بھا. 
تنا نے جیا نکیا ےکڑ 2یآ یت تعرت کل تفق تفوار: ری ملق زرل برا رز 
اس( فتنہ اہ خائ طور سے جن کچل مراد ہے۔ز بی کے ےک یآ یت ہم لکوں کے بارے 
ٹس نازل ہو گی بھم لوگ ا یآی تکوع رع کک بڑ ھا س گر ب تہ غا تج کے کان مرا 
کون لوک ہیں لکن (بعدیس معلوم ہ اک )ا سآ یت سے مرادم بی ہیں ۔' 

(تفسیر کشافجلد لرل )۵٥۹‏ 

عن ابن عباس لمانزلت ھذہ الأیة ”واتقوافتنة“ قال النبی (ص) من ظلم 
علیا مقعدی ھذا بعدوفاتی فکانما حجد نبوتی و ئبوّة انیاً قبلی“ 
رت امن عاسش ے روایت ےکی نپ یآ کی نے ف دنن سے لن کان ہوئی تر ۱ 
رت لیا نے فر مایا ”جوم ری دفات کے بحدتخر تی بن مکمہ ےگا اس ن گو اھ ری او رج 
سے بیلےتمام اخمیاءکی نبدت سے انکارکیا۔' '(نشوالہد النزیل و امامة القران 1۹۳ ) 


قوله تعالی:۔ 

وَمَا کان الله لع يهُمْ وَانكَ فِْهم ٠‏ 
مدائرماجاے:۔ 

”اےرعولی جن بک کآ پالن لوکوں میس ہیں خدرااان پرخفہ اب ناز لک ےگا _' 

(پارہ ۹ آیت ۳۲) 

اشار صلی الله علیه و سلم الی وجود ڈلک المعنی فی اھل بیتە 
و انھم امان لاھل الارض کما کان هو صلی الله عليه و سلم امانالھم “ 

آتحضریتتصلقم نے ان لسن یکا اشمارداپے ال بی تک طرف فرمایا ‏ (میقی جب 
کک ایل بت دنا شس موجود میں دا لوکوں برعذاب نہ نازرل فر ما ےگا کہ ) بے شک ایل 
یت ز بین والوں کے لئ ای رع مان ہیں جن سط رح رسول لان لوگوں کے لے امان ے 
ںیت ہے وا ہواکہ جس تک دمیا قائم ےل مادنا یش ہہونا ضردرکی سے ای لئ 
تفر تیلی عل اتلم سے نےکرحفرت اما تن عم کی علیہ السلا مت ا نکی امامصت اوراام 
مہدریی علیہ السلا مکی امامت اوران کے وج وکا ین رکھنا ازم سے۔ اس سلسلہ بی بہت کیا 
عدأیں داز ودک بین .جن یس سے جن رین ڈگ گی ائی ہں۔ 
ا۱ وفی اخریٰ لاحمد فاذاذھب النجوم ذھب اھل السّماء واذاڈھب 
اھل بیتی ذھب اھل الأرض. 

ات نے ددای تکی ہے( آنفحضرت نے فر مایا ء جب تار ےت ہو جانمیں گے 
سان وانےنھا ہوجائٹیں شس ا چپ مین جنیت ان ایی گے زین دا نے فا ہو 


٢‏ وفی روایقصحجھا الحاکم علی شرط الشیخین:.النجوم امان 
لاھل الارض من الغرق.واھل بیتی امان لا متی من الا ختلاف فاذاخالفتھا 
قہیلة من العرب اختلفوا فصار واحزب ابلیس“ 

رن فط لق ین ایت یی اف کی نے کک نظ رت لم نے 
فرمایا)اسارے زین دالو ںکو ڈوہے سے جچائے ہس اور غیرے ال ببیت میریی امم کو 
اختلاف سے ہجاتے ہیں ۔اگرعر بکا کئی تل ان ے اختلا فکر ےت ا کا شارانٹشن کے 
ا 
٣‏ وجاء من طرق عدیدة ”انمامٹل اھل بیتی فیکم کمٹل سفینة نوچ 
من رکبھانجی'' وفی روایة مسلم ”ومن تخلفھا عنھا غرق“ 

ثتلفطریتوں سے روابی تکیاگئی ہے (ک رض رت ملکتم نے فر ما کہا ے لوک تم 
لوگوں یں می رےابل بی تک مال حطر تد 1 لین یی شال ہے جا مس تیم رسوارہواا 1 
ےخیات ای (اد رج لم یں ہے )جال سی سے ذو رہوادوڈ وب پاے" 
(لیشنی نس نے حضرت لئ اوران طاہ ری نکی چبرو کی انس نے نات پاکی اور جوان ےمد ہ 
ہوا گھراوہوا) 


(صواعق محرقه ۱۵۰) 


زا ا یہ دہ یم مد ہی مق میحر اعد لود مریستوہ رو وا سو یرس رہ 0رہ دہ مد ا کہ بی دی اق اعد تةدمی اید نود ارضترت ارت لات از غترت دع یا یہہ عوعیی مات ماع صاع سجعصد مود ود وأ ےے۔ چے نے ےے۔ وو۔وی ہے نے ووو ےی ہے وے۔ ہے ہے و 
×سی 
جھ 
۱ ] سرسہ 
جو 


۱ م 4 
(رسول نے ش مع ا کا دیکھا؟) 

قوله تعالیٰ:۔ 

ہوا لَذِیْ یدک بِنَصْرم وَباالموْمِيیْنَ ہ 
ٹزائر ا٢ج‏ 

اےرسولی دج یت دہ( مد ےجھ نے ای اس مد سےاو رش نشین ےآ پکی 
نکی ا (ارہ ٠١‏ انفال.ایت٦٦)‏ 

عن ابی ھریرۃ عن صالح عن ابن عباس عن جعفر الصادق رضی 
انقگسس فی تقرتے سای جر الای ہلگ بی بارش 
قالوا”'نزلت فی علی.“ 
اب ریہ سےالوصاج سے اورائن عمبا ل سے دواایت سے اور می روابیت اما مض رص دقی ےی 
مقول ےکپآ یت ححخر تہ کی شان شش ازل ہل ( ینابیع المودة 3 ) 

ارج ابن عسا کر عن ابی ھریرۃ قال ”مکتوب علی العرش لا 
اله الا اناوحدی لا شریک لی محمد عبدی ورسولی اید تہ بعلیٌ و ڈلک 
قولہ تعالیٰ هر الذی ایدہ بنصرہ وبا المومنین ہ ۱ 

ابع خسم کر نے ممطرت الوم مرو 09و'0فئ0) ےک( رسولی الپنر نے مایا )رگ 
جب میں ضرا سکیا ود یکچھا) خرس مرکا ہوا تھا ”یں ےکوکی دامرصرف بش ہ می اکوٹی 
شک ین وگ نے بے اوخ رے رون گا داورجن ےی 2ھ 9 
طائی گی ۔ اور یچی مطلب دا کی اک ںآ ی ت کا ےک فدادہ ہے شس نے (اے رسول ) آ پکی 
51 انس مددادرس مین کے رت تا ئن دی ۔ (تفسیر درمنٹور جلد ٥۹۹ ٣‏ ) 


روی ابن قائع عن ابی الحمراء قال قال رسول الله (ص) 
لمااسری بی ال السماء اذاعلی العرش مکتوب لا اله.. .الله سح 
رسول الله ایدته بعلی 

ان تقائح نے ال خراء سے روای کی ےک ہآحض رت نے فا کہ( شب مع را 
”جب میں آسمان یر نے جاپا گیا عرش پکھاہوا دبا نیس سے نید ان :اونگ الد کے 
رسول مس اور مدافظر ما تاے ین نےان اخ تہ لف کی تا ندنل کےذر بی ےگ 

(ینابیع المردة ۵ق ) 


امار ہو ںآ ییت 


(ازان) 

قوله تعالی:-۔ 

اذا مَنْ الله 72 سُوْلِإلَی الناس وم الحح الاكبر ان الله بَیء 

من اَلمُضْر كِیْنَ ہ 

خدافر ماتاے:۔ 

خدااددائس کے سو لکی طرف سے اکر کے دنم لو او ںکومنار یی 7 بل 
فدااودا یکا سو لاخرلوں ےہزارے۔'' (پارہ ٠١‏ توب ایت )٣‏ 

اخر ج ابن ابی حاتم عن ححکیم بن حمید قال قال لی علیٗ بن 

٠‏ ین 'ان لعلی فی کتاب الله اسماولکن لایعرفونه قلت ماھو قال الم 
ںو ابو ”واذان من الله و رسولہالی الناس یوم الحح الأكبر هو 
والله الاڈان “ 

ان ای تام اد ریم ب نید نے حفرتکلی این این ( مالسلا مب سے روای تکی 
ہ ےکی تاب غخدال ق رآان ید )میس حعفر تم کا ایک ایبا نام سے جم سکولو ککیں جا نت 
یس نے کہ ھا" دہ نا مکیا ہے؟ا' نف مایا کیانھم نے خندا اڑل ءا ظرارض كسولٗ 
گی طرف ےئ اکہ ر کے دو نتم لوکو ںکواذ ان ( من دی )گی جائی ے۔ ند ایام اڈ ان ( سے 
دا یں“ (تفسیر در منٹور جلد ٣‏ ص )٦٠٢‏ 

عن جابر الجعفی عن الباقر علیہ السلام قال خطب امیر المومنین 
بالکوفة عندانصرافہ من النھر وان و بلغه ان معاویة بن ابی سفیان یسبہ 
ویقل اصحابه فقام حطیبا الی ان قال وانا الموذن فی الدنیا والاخرۃ قال 


المر تضیٰ 53 
ا ا ات 
ال" ذانہ “ 

جا ٹشعی نے امام مھ بات علیہ السلام سے ددای تکیا ہےکم نر ت لیا نک نجردان 
سے بی فکرکوفیتش ریف لا ق ےت آ پکوخ رگ یکر معادمن فیا نآ پکو برا کے ہیں اورپ کے 
سماتھیو ںکو لکرتے ہین آپ نے ایک خطیہ پٹ ا۔ بیہا ںیت فکیفر مایا یں دنیااددآشرت 
دؤفوں میں م وڈان ہو| اوخ اک کے دن انید اوزاکی کےرسو ل کی رف نے اذ ان ھراریں 
یا ہول)۔ (ینابیع المودة ۶۱ل ) 





برو زد بردا یو عاو عی- دوزة عیمو ور ازود زور خر درف یوٌ ہزوح ہو یز سرت حر یہ یو و رر خیغ و یہ قنور وت رو سید نو نید نز عم رد رن مہ ک حسہ اع کر لآ ا سی خی یی اھ ا سو ید اج ال ا اع لع دہ ا ہک بل تل لہ ا قد لا زع کا 
٦‏ ہے 
[طسوم ۱ عہ 
َساٴد ”٤ےا‏ 
سااے 


(حضرت اوراسواب رسو لکا منقابلہ ) 
قوله تعالیئ:-۔ 
سی وپ ۷ سال ہر می ضر وب الله 


تہ ۰ 
غدائر ماتاے:۔ 
”نک یاخم لوکویں نے حا یو ںکو بای پل نااوزسح بر الام لاک مک یآ پادیکوا انل 
کے ہس پناد یاے جوغداادردوآ خرت پراماان لابا ہے اود دای داوشیش چہادکیا ے۔ تمدا کے 
نیک :یلو ٹ9 برابرکال ہیں اور دا ظا تو لکی داجی تی ںکرنا'' 
آپارہ ٠١‏ توبہایت؟1) 
ان الحسن و الشعبیٰ والقمرطبی قالوا ان علیّا رضی الله عنہ و 
العباس و طلحة بن شيیة افتخرر افقال طلحة “انا صاحب البیت مفتاحہ 
دی ولو شدت کنت فی“ وقال العباس رضی الله عنه ”انا صاحب 
السقایة والقائم علیھا “ فقال علی رضی الله عنه لا ادری لقد صلیت ستة 
اشھرقبل التاس واننا صاحب الجھاد فی سبیل الله ' فانزل الله تعالیٰ 
'ہیلاأآئند: الحاج و عمارۃ المسجد الحرام کمن امن بالله والیرم 
خر وجاہد فی سیل الله لا نستوون عندالل“ 
او اور کے می ںکزیتنضرت بحضرت عباس بتطرت طلیہ بین شی ہرد 
ا ےت جچھے نج ن کہا ”نیل محافظ ماش کعہ ہوں اور کی تی خی دی ۱ 


سر رر رد رر ہس شس جس سس شر شر سشسش شس سس سس رش 


ہے۔ گیل جا ہہو ںو ای می رہول'' محر تع پاس نت کہا نٹ ابو ںکو لی پلا تا ہوں اور 
سب پ6 تم ہوں*حضرتپکلی نے فر مایا ”می ریبج ی ںی آج2 کہ می نتم لوگوں سکیا 
کول اور ہیملا ہر ہ ےکیڑنکمہ جو اع ٹیس قد کی امام کے ساتھ پیرا ہوا ہوا کے لے 
محافط خانکعہہ ہونے پراور جوسا یکو ہداس کے لے عاجیوں کے بای بلانے ب کیا رہوسکما 
ہے۔اکی لج آپ نے فرما کی یں جات نکی لک اکہوں ۔آ پ فر مات ہیں۔ نوا ملظ 
نیل ہہ ہی ںکہ )یس نے تما لوکوں سے مسلے جج ہین نما نعھی۔ادر یں نے دا گی دا ین 
چہاد گے (ادر چہا کر نے والا ہوں )“2ج بآ سب فرما کے تحض تلم پر ) اود تاٹی نے 
از ل فا کر اے سو ان یں ےگینےکی) کیا مر لووں نے عاجیوں کے پان 
ا کو ادا کعپہ کےآہادکمر نے ےکوائ شش کے پراب مکردیا۔ جو ادا درو زآخحر تپ ایمان لایا 
ادرداگی راوشیش چچھادکیا۔ دا کے نز دی بلک بدا ءال ہوک '(تورالابصار ت2 


دہ تل :ار تد یئ ید ینا تد زا ڈارف و کی ریہ عنرد ید عریا ةٹ نر را نع زوبرت اریہ و یراز عر ففنئاہ زور نو ا تارف را بر اہ 25د ا ید حالد مد وہ با ا یز ا -- سوا وا سز ا سک اد زی - :ا وی ا ساہ اسیو .ہم راد سز ید رع :داحلا اہ را حا لا ید ہچ کا 


قولہ تعالٰی:۔ 

ویر الین امو اه قُدمْ صذق عِنْد رَبَهِمْ ہ 
مداث ماتاڑے:۔ ۱ 

وی صل) اییان دلو ںکزخ شک لفن کان کے لئے ان سے 
و ردگارگی ہارگاہ ین بلنددد ہے ہیں“ × 

ارہ ١‏ یونس ایت )٢‏ 

عن جابر بن عبداللّه ”'انھا نزلت فی ولایة علیٌ ۔'' 

نطضرت اج بک نکبدالفد سے ردایت ےکی یآ یت ححفرتکلی علیہ السلا مکی دلاعت 
کے ار ےجس نا زی وک '(میڑی ذذ م نین جو ولا یٹ جعظر تک کے قانکل یں ان کے لئے دا 
گی بارگاد یشیش بلندر ج ہیں ) 

(روائح القران آ۷" 


(پیغمبر کی نبوت کا گوا٥)‏ 
قوله تعالی:۔ 
من کاق غَلی بينْومِي ره زمر فابل' نون لہ کَاب نمی 
اما ؤٌرَمَأرِيکَ یوون به وَمَْكفرْ و مِن الاب فلز مَوْعذہ' 
قلاتک فِیٔ مریَة نال الحق من رک وَلکن اَکُنْر الا لَاْزُوْنَ ہ 
راٹر ماا :لٹ کیا بیس ہے پروردگا رارف تر رون بر ہواورائسں کے 
یی ےی سکاایک آرنووزوزسن گل سی آاکاں تاروت عون 7--2) 
موا اور رم تتشی(اں کی ران کی ہووو ٹر ہے لی دوضرا)) ھی لوک تج ائیمان لا نے 
دا نے ناو تما فرقوں بس ے جوشس ا کا کرک ےو ا سا کا زا س کش چیم سےا حم 
نہیں ا سک طرف سے یگ میں شہ بڑےد ہنا۔ بے شیک بی اننام محر ےر بکاططرف 
عرق ےعگورت ےا واوسہرے“ (۳(۸۸ عرحیت ءا 
عن ابن عباس عن علی بن ابی طالب قال ان رسول الله (ص) کان علی 
بینة من رہه و انا العالٰی الشاھد مه “ ۱ 
تعثرت این عپال سے روایت ہ ےک ععخر تک بن الا طالب نے فر مایا ہحخرت رسولی اے 
طف ےگل گا جے اور شی ان اک ا نکا واو تھا ے' 
۱ (ینابیع المودۃ:4۹4) 
(قال الا مام فخر الدین الرازی )و ٹالٹھا ان المراد ھو علیٌ ابن ابی طالب“ 
اما الد بین دازی کت ہیں( سار حاددجوہ یس سے ) تس ری وہ ہہ سے( شاب رت یگواہ 
سے ) مراوتحضر تل ان الٰ‌طالب یں'' (تفسیر کبیر جلد ۵ )٦۸‏ 


قوله تعالی:۔ 

نما أَنتَ مُْذِرْ وَلِگُل وم مَادِہ 
مراف ماجاے: ا 

ا رسو لآ پ (ا تکوخوف خدا سے 6 ڈرانے والے ہیں "و" 
ایک زاب ت کر نے ڈالاے نے 
زپارہ ۱۳ رعد .(یٹ ے) 

عن ابن عبباس رضی الله عتھما قال ”لما نزل قوله تعالیٰ ”انما 
انت مسذرو لکل قوم هاد.“ وضع صلی الله عليه و سلم یدہ علی صدرہ 
وقال انا المنذر وعلیٗ الھادی وبک یا علیٗ پھندی المھندون " 

رت ائکن ععباش نے دداجی تکیا ےکمہ جب بآ یت کہآپ ڈرانے والے ہیں 
اور ہرقوم کے لئ ایک با دیی ہہوتا ہے۔ 0 اق ےل لق کی ا تج رکھا 
اورڈر مایا نی من ر(ڈرانے والا ) ہوں اور بادئی (جدراجی تکمرنے وا گے )ہیں اور یا می آپ 
یا سے رایت پانے دانے رایت پاکنل گے (ینابیع المودة 44) 
قال ابن عباس رضی الله عنھما ”لیس ایة من کتاب اللہ تعالیٰ ”یا ایھا 
الذین امنو ا.الا وعلیٗ اولھا و امیرھا و شریفھا “ 
تخت ائان عہائ کا بین ےکی ق ران تدش چچہاں چچہاں یاایھا الین منو21اے و لوک 
جوایمان لا ۓ بے وہاں دہاں ححضر تم یمان ٹس سب سے اولل ۔تھام م وشن کے امب راور 
رام وشن ےزیادمشرلف ہیں (نور الابصار :۸ء) 


ا س 


میسو ںآبیت 
(حفرتبل یلم ) 
قولہ تعالی: ٌ 


وَیَفُوْلَالَذِیْیَ تحفَرُو الْست مُرْسَلأفقل کفی بالله هَهِيْذا'بیىٔ 
وَبيْنكُمْ وَمَنْ عِنْذہ' عِلمْ الکتاب ہ 
دا ماجاے:۔ 

اور( ا ول ) کا ف رن کے ہی ںک ہپ ضو وی ےو آپ ( اع سے کید تج 
کب ھرے او ھا رے درمیاا نگوابی لے کے فراائر رتشن 3 اس( آ سای تاب کا 
لم سے ای ہیں (بازة :۳).۔رعد, یت ۴۳) 

عن ابی سعید الخدری قال ''سئنلت رسول الله (ص)عن ھذہ 
الایة الذی عندہ علم من الکتاب“' قال ”فلک وزیراخی سلیمان بن دائود 
علیھما السّلام وسئلتہ عن قول الله عزو جل ”قل کفی بالّٰه شھیدا بینی 
وبینکم و من عندہ علم الکتاب “ قال ”ڈاک اخی علیٗ ابن ابی طالب 
عليه السّلاد“ 

او سعیرشدررکی کے نس نے رسول اوڈ لم سے بد بچھا کہا ںآ یت میس دہ 
نا ہے رت الاب کا روک رت اپ ےرا وو نیز ے ھا رت 
لیران بین داڑ کے وز مر( 1 صف برضیا) تھے (ابوسعید خمدری کت ان جن جن نے 
چھاکی وین ےجنس ک ےت خداف ماتا ےکہ(ٰے سو لاد جج ےکمرےاور 
تحوارے( کافروں کے ) درمان (گوابی) کے لج خدااور دوس کے پا نما بکا 
پراعھم سے کالی ہیں''۔ ت حخرت نے فرمایا ”دہ میرے بھائی ع این ای طااب 


لو وف شع تو ا شاف سم ا تو ا اممود نوی ا ا بیز ومک مع سد َو وو باج امک اح اب و وع عو و تا بنا ات نید نو ہآ بعد با سیف رد بد اچ بھھہ ید وہ رر سیوا و عہ بچد نوا ام زا حر سز نار دز حد اد یح ید مد اد قد بعد ابا یس 


ی۔2 نی حضرت لی کے یا سکاب خداکا دا پ.۔ 

(ینابیغ المودة ۱۰۳) 
عن الفضیل بن یسارعن الباقر غليیه السلام قال نزلت ھذہ الایة فی علی 
عليه السلام انه اعلم شذہ الامة“ 

بل بن یہار نے امام تد بات علیرالسلام سے دوای تک ےک یگ یآ یت تحضر تی 

علیہ السلا مکی شمان می نال ہہوئی ۔کیونگ ہآ پ رام امت مس سب سے زیادچعلم کے وا نے 
ھا 

(ینابیع المودة )٠۰١‏ 


ای اق“ 61 


میسو ںآ یت 
( سرعاراست) 

قوله تعالیٰ:۔ ۱ 

قال مَذّا صِرَاطٔ'عَلَی مُسْتَقِيْمہ 

خدائے فرما اکن مکی راستہسیدرجات جوہج تک ( یہو جا )سے 

زبارہ ۱٢‏ حجر آیت )٢‏ 

عن البصری اه کان یمرء ھذا صراط غلی مستقیم و یقول معناہ ھذا 
صراط علی ابن ابی طالب و دینه طریق ودین مستقیم'' 
(تسن )لص ری حسراطہ خلیٰ مسعفم پڑھ اکر تے تےاورا ںآ یت کے یف کہ اکر تے جے 
مع ان ای طال بکا راستہ ے اورال کنا دن اورا نک راست سیر ھا سے ( جو خیداکک چو تا 


ا 


0 


(روائح القران ۲۳۳ امامۂة القران٥۳۱)‏ 


تیآ یت 
ہے 
(دو یا ی) 
قوله تعالیٰ:۔ 
و نَزَعُنَا مَا فِیٔ صُدُوْرِمِمْ مِنْ غِل اِخوّانا لی سُرر مُتقابلین ہ 
مداخ ماتاے:۔ 


اور(دثا کینیفوں ے )جو پان کے لن میس مرن خھا ا کی جھم لوا دیں گے 

ارس ہا ایگ دوسرے کے ٹےسا تو برا طر ٹن ہوں گے جیسے بھائی بھائی ' 
(پارہ ۱۳ حجرات ایت ےك٥)‏ 

زقال اعد ین حبیل فی مسمدہ )عن زید بن ابی اوفی قال ما 
اخہٰ زسرل اللہ رمن) ہون اصعابہ ققال علیٌ یا رسرل افخ بد 
اصحابک ولم تواخ بینی و بین احد فقال ''والذی بعثنی بالحق نبیا ما 
اختر تک الالنفسی فانت منی ہمنزلة ھارون من موسی الاانه لأانبی بعدی 
وانت اخحی ووار ٹی وانت معی فی قصری فی الجنة مع ابنتی فاطمة وانت 
ای ورفیقی ثم تلاء اخوا نا علی سرر لان المتحابین فی الله ینظر 
بعضهم الی بعض “ 

ا نکنل نے ابی مند بی ز یبن الی ادٹی سے دوای کی ےک جب عو نے 
اتنے اصعحاب کے درمیان بھائی جچادگی قائ مکر دی نو حر تک ن ےکہا ”یا سول اش ھپ نے 
اپنے اصعحا بکوق ایک دوس ر ےکا بھائی بنادیا لکن مھ ےک یکا پھائی یس رتا رسولی ال نے فرمایا 
عم ہے اس ذا تک جس نے مھ میا راک ربیچایش نت مکواپنے لے تق بک درکھا ہے تم 
میرے سرا تج دای فسدتں ر کن ہو جوشطرت پارو نکتعف رت موی گی نز انب الع 


0 1 1ک 7 و سے سے ےی مد وت وید سسص: دس 


مو 0 یں و ا 
فرمائ یک نوہ پش بی دا کے لاعت میتی ور یھ ہو ئۓ) 
آ نے سماتے بھائی بوائی بن دنھییں گے _“ 
ٰ (ینابیع المو دۂ آ۵"( 


7728 7 007سیب ٥ً‏ یےییسسپیئووےوسىوسمسپمشحوچ جاے ےہ ےد دیوجت 


ڈکرکو ئک 


قوله تعالیٰ:۔ 
اسْنْلُوْا اَمْل ال کر اِنْ كنتمْ لا تعلمُوْنَ ہ 
مداث ماما 


”اقم فیس جات فو ابئل زکرے ویو زپارہ ۱٢‏ نحل ایت ۳۳) 
گن جا بج نج بدا تقالل قا للا ابن ابریطا لب نحن اھل الذ کر 
رت جاب جن برای کے ہی ںک ضر تی این ای الاب نے خر مایا کیچ ایل ڈک ہیں" 
(ینابیع المودہ ص۱۱۹) 
(عن علی ابن موسی ) تاسعھا ایة فاسٹلوا اھل الذکران کنتم 
لاتعلمونءشتحن اھل الذ کر لان الذکر رسول الله (ص) ونحن اھلهہ حیث 
قال تعالیٰ فی سورۃ الطلاق ”فاتقوا الله یا اولی الالباب الذین قد انزل الله 
الیکم ذکرا رسزلا یتلو علیکم ایاٹ الله بینات “ 
وی ںآ یت پاسلو ال الگ ان کیم ای ہے۔حعفر تی نم زی مہا السلام 
فرماتے ہی ںکیڑ بھم (اب بیت ول )اج ائل کہ ہیں ۔کیونکہ سو اللہ ذکھ ہیں اود جم ان کے 
ای میں '(رسول اللہ ذک راس لے ہی کہ ) خدانے سورۃ طلاقی بی فر مایا ےا ےکی ولوچھ 
ایمان لا گے ہد دا سے ڈدد۔ بے یگ مدان تحھارے پا ذک مل اپنا رسول کیا جے جوم 
لوکوں یں عداکیآیا کی ع لاو تک رتا ے' 
(ینابیع المودۃ )۳٦‏ 


حررد ناااا نل ندمای ۔ یو ہرد لئاس دورد ات موووز حور جرد 0 سزطا مہ نا کہ لا ا ا بعد ای و نچ بجع ۳ ہد --ک بہ 8- با ےد نل ئک نس ہی ہہ ہج رج را رو ا رز رر در ا ید ہم ںیہی اچ ہچہج 


ر۲ سج سس 

قوله تعالی:۔ 
وُمَ ندُعُوٰا کل اَناس ازفا سرت لفن از الہ بیْمِیْیە فأولیْک بَفَرَءُ ون 
كنايهُم ولا يُظلمُوْنَ فلا 
خمدافر ماجاےح: َ 

اس دانکو باوکرو) جس دع ھرقماملگو ںکواع کے یں کے سرا تح بلا پا 
تن کان یکل ان کے داتے ات می دی جا ےگا دولوگ ( خوش خوش )انا ایل یڑ ھکیس 
کے اوران مر بیغ برابرجگ یھی ںکیاجا ےگا“ (پارہ ۱۵ بنی اسرائیل ایت ١‏ ے) 
عن ابن عباس فی قولہ تعالیٰ ہوم ند عواکل ااس با مامھم قال ”اذا کان 
یوم القیامة دعا الله عزوجل ائمة الھدی و مصباح الدجی واعلام التقی 
امیر الموملین والحسٰن و الحسین ثم یقال لھم جوزواعلی الصراط انتم 
وشیعتکم وادخل الحة بغیر حساب ٹم ید عوا ائمة الفسق وان والله یزید 
منھم فیقال لە خذ بید شیعتک وامضوا الی النار بغیر حساب' 

رت اہن عمباسں لئے ا سآ اٹل یٹس دن پھر قم کو ںکوان کے باون کے 
ماق جلانحیں گی کے یل مین روابی ت گیا ن ےگ قباععت کے زع ایفام کہ 
رایت ء جراغیا ےنارت اورنشا نبا ےق کی ت رت ضر ت سن او رتخثرت جو نک بلا ئئے 
گا اوران لوگوں ےکا جات گا کیم سب او ھا ر ے دوست ہل ضصراط س ےگ رجا اود جحنت 
می بغی راب داخل ہو چا پچ رآن لمت یکو ہلا ےگا شن میس جراج یھی ہگ ۔ کرس ےکہا 
جا راج دوستوںککا چاو چم میس اغی راب داش ہوجا۔ '(امامة القران ۳۳۹) 


اش سو لآ یت 


زیت ال یت ازم یٹک یں ) 
قوله تعالیٰ:۔ 
اَی عفر لَمَنْتَابَ و امَنْ وَعَمل صَالِحا تم امُعَدی ہ 


فداق ماج ےر 
'ضرور میں نے والا ہوں سںخنصش کو شی نے تک اور امالن لایا اوک کن 
جئے ۔ کچ رہدایت بای( خابت تر مر)'' (پارہ ١ا‏ طہ ایت ۸۲) 


قال ثابت النباتی ”اھعدیٰ الٰی ولایة اھل بیته صلی الله عليه و سلم“ 

خابت البنالی کے ہی ںکہ(ا ںآبی کا محمربہ ‏ کہ غحدا ا ںکی مفر تکر ےگا 
شی نے فو کی اودایمان لا یا ال صا کیا اورپ ئل ہبی تک نعحب تک طرف پدایت الین 
ان بیت سے محب تکیا لہا کول بیت سس محب تک فی نیس ہہوئی دو مخخر کاخ 
ین (ینابیع المودةۃ )۱١۵‏ 
واخرج احمد انه صلى اللہ عليه و سلم اخذ بید الحسنينٌ وقال ”من 
احبنی واحب ھذین و ابا ھما و امھما کان معی فی درجتی یوم القیامة. 
اتا نے لا ےک ہآ رت صللقم نے اما سی دماح می کا ات یڑا اورفر مایا ”جو ججھ سے 
اوران دیاوں ے اوران دولوں کے پاپ اور ہالئٰ سے مخت رکا ہ89 امت ین یر نے 


سمائھت مت میں ہوا“ (صواعق محرقه ۱ئ)( 
اخرج ابو نعیم الحافظ عن علی کرم الله وجھه قال فی مذہ الایة اھتدیٰ 
الٰ ولاینا“ 


انیم حافظ ااعطا تک ےکم تعفر تی نے ف اتا ایت یں ہدابییت بائے سے جراو 
بمادگیادلا یت ادرحب تک طرف بامتپااے۔'' ‏ (ننابیع المودة ۱۱۵) 


ند ہا وو یج تد بعد با طلہ یی زور بد بد در ی0ی ہس لسن ہش مج میم مبہڈت 
نت خی 
او ایت 


(ائہکل ببیت سو لکام ت) 
قولتعالیب ---- 
وَأمُرُ آ ملک بالصّلوۃ واضطبر عَلَيْهَاہ 
مداخ ماتاے:۔ 
اور( اۓ سول) آپ اب مردالو ںکوڈرا زکاعم د تی اور پ نو دی اس پر باہندر یج“ 
(پارہ ٦‏ طذابت )٣۳٢۲‏ 
وفی مودة القربی عن انس بن مالک و عن زیدبن علی بن 
الحسین رضی اللّه عنھم قال ”کان النبنی(ص) یائی کل یوم باب فاطمٰة 
عسد صلوة الفجر فیقول الضّلوٰۃ یا اھل بیت النبوۃ انما یرید الله لیڈھب 
عدکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرٴا تسعة اشھر بعد مانزلت ز 
امرا ھلک بالصلوٰة واصطبر عليهَا روی ھذا لخبر من ٹاشمائة صحابة. 
ولرک بی الس ئن مالک سے اود نی با سےدودایت ‏ ےکد ای 
آیت ؟کراے سو لآ پ اب ےگ ردالو لکوفمازکاعم دہج اورپ خودشھی ال یہ ند یئ "کے 
نازی نے سے پور ٣ہک‏ روزات رسول زامن امازک کے وقت نطرت فاطتہ کے 
درواز ۓ پآ تے تھے اودحر مائے تی ا ےائل ہریت نو تنماڑ ما و بے شیک خداجاہتا ےلم 
سے را مو نیز کک ا 
انس در ی ٹین صا نے جیا نکییاے 
(ینابیع المردة )٠٠٤‏ 


رز رر رر رر رر رر رر شش مر رر لہ ہج ز داد رر ہج رجہ يک ںی اہ گ۰ ہد رر 


یس ںآ بیت 
20 
رت جزدایمان ے) ْ 
قوله تعالیٰ:۔ 
ِنَ الَذِیْنَ امَنَوْا وَعَملوْ االصَالِحَاتِ سَیْجَْللَهُمْ الرَّحَمٰنْ وُذًاہ 
مراف اظا رر 


بے ئک ججولوک ایماان لا ہیں اور ہجنتھوں نے تیگ اعمال کے ہیں حنقظریب 

دا نک عحبت(لووکوں کےولوں میس ) سد اکر ۓ'' 
زپارہ ٦‏ مریم ایت آ0"( 
ذڈکر النقاش 'انھا نرلت قی لی زط لق“ 
نائنے میا نکیا ےکآ یت یتیل علیہ السلا مگ شان با ز ل وی 
ٰ (نور الابصار )۱١۱١‏ 

اآخرج الحافظ السلفی عن محمد بن الحنفیة انه قال فی تفسیر 
مذہ االایه ”لا یبقی مومن الا و فی قليه ودلعلی و امل بیتہ“ وصح انه صلی 
اللہ علیہ وسلم قال ”احبوا الله لم یغذو کم بە من نعمه و احبونی لحب 
الله عزوجل واحبوااھل بیتی لحبّی'' 

عاف ای نے ددای تک ےک عفرت جج بن خنقیہ نے ال لآ ی تک ینف بی ذک کیا 
ےک کو یف من ود نویس کنا جب ت ککہ امن کےقلب میس حعفرت کن اور اہلمی ت کی 
کت ڈو 

لان زوا کی ائوائن دک 5 سے (ہوٹی )ےک ہآحض رت صلتم نے فرمایا 
'(لوکو )ال ےمحبت اس لک روک دو ابی نھتوں میں ےت مکو(ط رع طط رکیپ خذرا میں عطا 


الحر تضشیٰ 69 
رج ےو وو وا جو جیا 0303207076 ب1 تتبشی شر۔پشچزچ ‏ چخجچہچجدداچوجححوسجحائت 


رما اور ہگ سے اس لئ حب تکر :اھ ےعحب کر تے ہواورمی رےاہلمیت تو 
حب تک روگ ےحہہ کر تے ہو ںا" 

اخرج الدیلمی ان صلی الله عليه وسلم قال " اذبواارلاد کم 
علی ٹلاٹ خحصال' حب نیکم و حب اصلبیته ر علیٰ قرأة القران ڑ 
الحدیٹ“' ۱ 

دقاگی نے روابی ٹک ےک یضر ت ملق نے فرمایا ‏ (اےلڑگو ابی اولا دو مین 
نزو ں کی لعلم رو (ا) کہ اگۓ سے مححب تک میں۔( ٢ب‏ کہ اہلمیت بے مبت 
کم( یکیقرا نکی حلاد تک اک بی ادرحد یں پڑ ھا بی 

(صواعق محرقه )٠١‏ 


اکتیسویںآیت 
ز رتس 
قوله تعالیٰ:- 


نما یڈ الله ِيْذْجبَ عَنْكُمْ الرَجْس اَل البَْتِ وَيُطْھ>َرَ كُمْ تَطهِْرَاہ 
مدائر ماتاے:۔ 

نیت فداجابتا سے اےالں جیت سو لک ین مکو ہر کی برای ہے دورر گے اور او 
ایز رق ے اک ںکیزو رکش (بارہ۶۴۔احزاب اب ۳۴) 
اخرج احمدعن ابی سعید الخدری ” انھا نزلت فی محمسة النبی (ص) و 
علیٌ و فاطمة و الحسّن والحسیٔن“ 

اتد نے الو سید خح درگ این ےک یآ یت با ڈدات مقر ےر حفرت بی حض تل 
رن فاططریت تحت مع او زنر ت جن کی شان ش نازل ہل“ ْ 
للع ”ان صلی اللۃعليہ و سلم ادعخل اولنک تحت کس علیدر 
قرء مذہ الایة و صُح ائە صلی الله عليه و سلم جعل علی ھولاء کساء 
وقال ”اللّھم هو لاء اعلبیتی و حامّتی ای خاصتی.اذھب عنھم الرجس و 
طھر هم تظھیرا “ فقالت ام سلمة ”وانا معھم“ قال ” انک علی خیر “ 
وی مل ین ز ےل یل نے اع مار فا کوایی میا درنیش داق لف با زا آبیٹ 
یعاد ت فرمائی''اوراِک عد یت کچ بس ےک آححضرت ٥لم‏ نے ان (یاروں ) ہقرات پہ 
چادر اڑعالیٰ ادرف مایا ”اے خدا یی نمی رے اہلوییت ہیں اود کی مھر ےفائ (رنظر) 
ڈںہراےقداا ن لاج رال ہے ذور اور اہ اکیزۃ درکھ جن انت دیاکیزہ رکھۓ 
کاءنطرت امتسلم نے لپ بچھا'(ما رسول الل)'' کیا می سچھی ان کے س اح جہوں ؟ “خر مایا''اقنا 
تھا رااضا کے للا قم اہلبیت میں رافلجں)'' (صواعق محرقه )۱١۱‏ --ْ 


میسو ںآبیت 


)رم گل اورنا گی درور) 

قوله تعالیٰ:۔ ٰ 

ِ الله ز مَلِیْكَمَه' یُصَلُوْنَ لی التبئ یا اي الَِّیْنَ امَُوْا صَلَوْاعَليْه 
وِسَلِمُوْاتسْلِمًاہ 
مداخ ماجاے: 

نے شک ال ذاددائس نف رشن 00یہ" بھی 
ایدو دیج رہواوربرابرسلامگرۓے رہو۔ ‏ (پارہ ۲٢‏ احزاب ایت ۵۲) 

صح عن کُعب بن عجرة قال 'لما لت حذہ الأیة قلایا رسول 
الله قد علمنا کیف نسلم علیک فکیف نصلى علیک فقال قولوا اللّھم 
صل علی محمد و علی ال محمد" 

کحب :نج رہ کت می سک جب یت نازل ہ ول9 کم سب ت کہا یا رول الد 
بمآپ پرسلا یھنا فۃ جات یں ا نآپ پردد ودک طر زج ناک ںا آپ ےل مایا ایی |, 
طرر حکوو ہس لپعلی ربیل ا لن( اے نیدادرد می شا الء) 
وسرری ”لا تصلر اعلی الصلوۃ البتراء فقالوا وما صلوۃ البتراء قال تقولون اللَھم 
صل علی محمد و تمسکون بل قولوا للّهُم صل علی محمد و علیٰ ال محمد 
ہیی ردای تکاگئی ےک( آتضرت نے نر ایا یراد ری ہوئی ( اگل ) صلو ھچ 
لوکوں نے کو چا" ارول اشک ہو( ھل) صلو وی ے؟' 'فر انا نم لوک الاب لی 
مرکتے ہواوررکف جات ہو( تی باملل دددد سے باتم کا می ےک یو نک ا لیخ ال 
2 (صواعق محرقهہ ۱۲۳) 


سو ںآ یت 


(ولایت 17 تج تلق امت ار) 
قوله تعالی:۔ ُ 
وَفِفرهُمْاِنْهُممَسنولُوْنَہ 
مر اور ا کرک انم ہوگا:۔' ان لوکو ںکور ہاو وق ات ون ےےل ایک مرو دک اھر گے نلق) 
ھا جا ےگا (پارہ ۲٣‏ ضافات ایت )۲٢‏ 
اخرج الدیلمی عن اہی سعید الحدری ان ابی (ص) قال 
''وقفوھم انھم مسلولون عن ولایة علیٗ “ 
وی نے ااویسعید خددگی سے ردااج تکیا ےکی لیم نے فر مایا لوک( میدا ن مر یں )روک 
دیج ج اتی گے :دانع نے تعخررت کی ولا یت کےنتطلقی موا کیا جا گا جو ولا یت 
صرتلی کے ال میں دو لاح اف ہوں گے اور جا ریس میں وعضیات نہ پاعھنل گے ) 
وکان ھذا هر مراد الواحدی بقوله روی فی قولە تعالیٰ ' وقفرهم 
انھم مستولون ای عن ولایةعلی وال البیت لان الله امرنِحة صلی الله 
عليه وسلم ان یعرف الخلق انہ لڈیسئلھم علی تبلیغ الرسالت اجرا 
الاالمودة فی القربیٰ “ 
بی مقصدد داحدب یکا جیا ہبے۔ال نککاکہنا ےکہ دا کاخ ما کہ ان کو کو روگو۔انع 
سے سحوا لکیاجا ۓگ بیہاں سوالی سے مراد بی ےکرححفر تل او لیت ( ہم السلاح کی 
ولا جیت ک تلق سوا لکیا جا گا کیونلہ خدانے اتے ہی کوعم دیا ےک ہپ لوکوں سے 
کجد بی یک ہآپ رسال تک مردددی صحرف یہ جات ہی ںک لو کآپ کے قرایتداروں (زائل 
یت ا ےمحب تک بی ٰ (صواعق محرفہ )۱٢2‏ 


قوله تعالیٰ:۔ ٰ 
سَلام' غلی إِلَ يَاىِيْنَ ‏ 
دا مات ۓےج:۔ 


لام ہےآال یاہین پش نآ لی )“ 
(پارہ ۲۳ صافات ایت )٣۳١‏ 

فقد نقل جماعة من المفسرین عن ابن عباس رضی الله عنھما ان 
المراد بدلک ”سلام علی ال محمد“ وکذاقال الکلبی “ 

مخ ری نکی ایک جوراعت نے حضرت این عباس ےل لکیا کلام لے آل 
این سے مرادسلا مل آ ل خھ ہے یی ای کے نال ہیں ۔ ۱ 

وذکر الفخر الرازی ان اھل بیته صلی الله عليه و سلم یساوونہ 
فی خحمسة اشیاء فی السلام قال السلام علیک ایھا النبی و قال سلام علیٰ 
ال یاسین و فی الصلوٴة عليه و علیھم و فی الدشھد و فی الطھارۃ قال تعالیٰ 
طای یا طاھر و قال یطھر کم تطھیراو فی تحریم الصدقة و فی المحبة 
قال تعالیٰ ”فاتبعرنی یحبیکم الله .وقال قل لا اسٹلکم عليه اجر ا الا 
المودۃ فی القربٰی“ 

تھ الد بین رازگ نے ذک رکیا ےکہاہلیت رسو لدعترت رسو لکمر یم سے پار یز وں 
یس براب کیا مفیت ر کت ہیں۔ ٰ 
() سلام میں ۔کیونکہ خدافرماجا ہے۔' سلام ہت بر اے نی ۔اددسلام ےت با ےل می ۔ 


ٰش دخ سے 2د تاد 1ت ں2 سو سط ھا تی ا ا ات 


(٢)ررورڈلں‏ کیو کرس می اود ل نی دووں بردرددیھیجناضروری ے۔ 
(۳) طہارت میس : یوک خدانے مھ کے لئ فر ایال شی اے پاک دہ اکیٹزہاورآل نی کے 
لئے خر مایا( اے ابامیت رسولیٰ خداما تا ےکن مکو پگ دا یہر کے جونقن سے اک و اکیرہ 
رکھےکا۔ 
( ۶ )ت ری صدقہ بیس کک یدن نی ادرل نی دووں مرصدقہترامے۔ 
(۵)معحیت میں یوک خدانے میا کلف مایا( اے رو لآ نپ اعلا نکر ضیاہ )تم لوک 
می پروی ادرحب تکرد۔ مداخ لوگوں ۔صععحب تکر ےگا اور( آل بی کے تل ف مایا( اے 
رسو لآ پ اعطا نکر دہج کہ یتم لوکوں سے اپٹی رسال تکی مر ددرکی نکی اتا سواۓے 
اس ک کم ےکر ابتقرار(زابلعیت بے جح تکر و 

(صواعق محرقه ك١۱۔١۳٣٥)‏ 


سوہ وس -سفوسپرواسد ود ففرئ ا در اد رد لا عح.لا جی با برای لا ہا سز جا یی - بادآ حص ٠‏ :لچ زی ہچ .و زوا ہے چیہ ور نوہ بریسوا پوس رو بد زاہج ب۰ ید بعد یہ ما بد قد بد اعد اد بی سط نہ ای تع اہک اد ید بی دع تد یا غاد رع تع یف اعد ید 


نیس و ںآ یت 


( 1> مورت) 

قوله تعالیٰ ات 

قُل لا اَسْلكُمْ عَلَيْه أَجْرا الا المَوَذَةَ فی القُرٰی ہ 
فدائرماتاے:۔ (اےرسو لآ پاوکوں کید یئ کہ )یی سم لوگوں سے 
اپنااجررساات پلئڈکیس جا تاسوائے اس ک ےکیٹ ہار ےت رابتراروں نت افقیا رگر و 

۱ توار- ۲۵ قررئ ایت 1۲۳۴ 
انخرج احمد و الطبرانی و ابن ابی حاتم و الحاکم عن ابن عباس "ان مذہ 
الا یة لسا نزلت قالوا یا رسول الله من قرابتک ھولاء الذین وجبت علینا 
مودتھم '' قال ”علیٗ و فاطمة و ابنا ہُما “ 
اہ بیررالی ءابین لی عام اور اکم نے حعظرت اب پعپاسی سے دای تک سب ےکم جب بمآییت 
نال ہوئی نو لوگوں ن کم یا رسول اللدآپ کے دوکون سےق اہتقرا میں شک نکیا محبت جم سب پہ 
واجب ے؟''رسول ایر نے خر ماد تر تک (عطضرت فاط :اوران کے دوٹوںٹے ( س٣‏ 
یں (صواعق محرقہ2ك2١٦۱)‏ 
عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی الله عنھما قال '' لما نزلت قل لا 
اسئلکم علیہ اجر ا الا المودة فی القربٰی قالوا یا رسول الله من هو لاء 
الذین و جہت علینا مودتھم “ قال ”علیٗ و فاطمة والحسن و الحسینْ'" 
مصید بع تیر نے فففربت انکن عم بای سے ردآی تی کے نب رآ یت مودت نازل ہوئی ل7 
اصحاب نے کہ چھا ا رسول اللدد کون لوک ہیں نکی عحبت جم سب مرفٹش ے؟'' آحضرت 
نے فر مایا دوکام فا ہبتع او ہم السلام میس( کی می ر ےق ایقدار میس اور سک عحبت 
میرگی دسا تک مردودرگیے ) (ینابیع المودۂة )٦۰١‏ 


700 770910111 یس یئ تس یش شش ساس یم سج ددشت 


تچ و ںآبیت 
( نکی الزاروات ) 
قوله تعالیٰ _ 
ٌغد الله الَذِیْنَ امَتُوْا وَعَمِلُوا الصَالِحَاتِ مِنهُمْ مَغفرَة وََجْرًا عَظِيمًا ہ 
مدافر ماجاڑے: ٹے 
جولوک ابراان لا ۓ اور ایت انی ےکا مک تے ر سے خدانے لن ےت یش اوراج یھ کا وع کیا 
0- ۱ (پارہ ۲٢‏ فتح. ایت ۲۹) 


من سعید بن جبییر عین اہن عباس انە سا ل عن قول الله تعالٰی 
وعدالله الذین امنوا وغمسلراالصالحات منھم مغفرۃ واجراعظیماہ قال 
سال قوم النبیٌ قالوا فیمن نزلت هذہ الیة یا نبی الله قالاذا کان یوم القیامة 
عقدلواء من نورابیض فاذا منادِ لیقم سید المومئین و معه الذین امنوا بعد 
بعث محمد " فیقوم علی بن ابی طالب فتعطی اللواء من النور بیدہ: تحته 
جمیع السابقین الاولین من المھاجرین والانصار لایخلطھم غیرهم حتی _ 
بجلس علی منبر من نور رب العزۃ ویعرض عليه رجلا رجلا فیغطی اجرہ 
فاذا اتی الی اخر هم قیل لھم قدعر فتم مناز لکم من الجنة فیھوم علیٰ 
والقِوم تحت لوانہ حمی ید خل بھم الجنە ٹم یرجع الی منبرہ فلایزال 
بعرض علیه جمیع السومنین فیا خذ نصیبه متھم الی الجنة وینزل اقواما 
الٰی النار فذلک قولہ تعالیٰ و الذین امنوار عملواالصالحات لھم اجر ھم 
و نوز ممیعنی السایفین المؤمنین اھل الولایت والذین کفرواکذبوا 
اولنک اصخاب الجحیم یعتی بالولایت و حق علی الواجب علی 


وود ہچ ومووسچ جود چدعجد چھچد:جد جج 5 عجد نا سد طل شد اس را حلہ خسہ جس ا سیل بت قد عنہ د× سد بع٘د تج صبد ج× ہی۔ و چو ہو۔ جج تج .ود .و و۔ چط.۔ وج ح۔۔و: دچ۔ زز وج یز لوہ طض .ور -ا سز× یو ط- طز سے -زا س- ج- ی- جو لد مر .یہ نز س- وو ےو -ی- بے وج ری تج 


سعیدد بن تیر نے تلضرت اہن ععباس سے ال لآیت جو لوک ایمالن لا ۓ اور ا +گھ 
اٹھکا مک تے ر ہے خدانے ان نے مشش ادراج نشی کا وع وفر مایا سے ) ک تلق در یاق تکیان ْ 
پ تن ےکما ایک توم نے حفرت یا سے لو بچھا' اے غداکے نی بآ یتکس کا شان یس نازل 
ہوئی؟'تضرت نے جواب دیا”قیالمت کے دن ایک سقیدنو دای جن ابلندکیا جات ےگا اد ایک 
مزادی داز د ےٹاک وشن کے سرداراورالن کے سا تع و ولک جو ضر ےئم رم مکی بعقت کے 
بعدایمان لاۓ ہی ںکھرے ہوجا میں نل بن ابی طل بکٹرے ہوں گے اورووڈو کال مآپ 
کے ما تع یس د یا جات کا جس کے یج و٥‏ مہا جم بن اورالْصار ہی گر ای جن 
سے نیںی۔ دوم ےلوگ میں کے بی رآپ(حضر تی ارب العزت کے بناۓ بے ) 
فورالی منبرپرجلوواف روز ہوں گے اودلوگ ایک ای فک ےآپ کے سا لات جامیں کے اور 
آپ ری ککوا تر وا اب عطا فرمانیں کے پھر جب ؟ خرینخ سآ ےگا نان لوکوں ےکا جائۓے 
اقم لوکوں نے جشت می انی انی جگ یں پان کی ہیں مھا را دا کنا ےک مہرے بای 
یں تع کم یں او ا ہے .تن تا ہے پ مت کی فح تک ا و 
در نے گے نے پور قوم ہوگی اورسب جنت بیس داشل ہوں گے پل ر تحضر تی بای فک 
(ای)منبر پآ میں گے۔اودای رع تراملو کفآپ کےسات ٹیش کے ججاحیں گے اور اج 
ا ہے رقاات اعت ٹن امیس گے اور بہت سے لوگو ںکو ٹم میس 0 
مطلب ممداک یآ یت کا ےکہ جوالوگ ایمان لا ۓ اورا یڈ ا یش ےکا کر تے ر ہے ان کے لئے ان 
کا وو اب ہے۔اودد+ من سا پشین ہیں جوخحخر تک کی ولا جی تکااق اکم گی ہیں..۔ اور 
دولوک جوکافم ہیں ۔اور( ولا بی تک یکو ) تللا یا ہے وی لو ک ھی ہیں _۔ 

(مناقب فقيه بن مغازلی بحوالہ امامة القران )٦٦۸‏ 


سہچمم یئ وچ سے و اما 000ا ا 0 ا ری ام لیے یر لم لم تس بی یجہت 


قوله تعالی :۔ 

زج الَحریْن لان تَا ي لیا ہي الاو رکم 
تَكَذِبانہ يَحْوحْ مِنهُمَا الو لو وَالْمَرَجَانُہ 
خمدائر ماتاے:۔ 

نے دودد ہا بہاۓ جھ جا جھل جاتے ہیں دو کے درممیان ایک عد فاص٥ل‏ ہے ۔ سی 
سے نیا نیو ںکر ھت نے (اے مجن و الس ) تم دونوں ائ بروددگا ہک یک سکس لق کو 
ٹلا گے۔ان دوٹوں در پاوں ببس سےمولی اورسو گے ننکیے ہیں“ 

(پارہ ك۲ رحمئٰن ایات ۱۹۰۲۳) 

عن انس بن سالک رضی الله عنہ فی قولە تعالی مرج البحرین 
بلعقیان قال ”'علی و فاطمہ رضی الله عنھما. ویخرج منھما اللولوء 
والمرجان قال ”الحسن و الحسین “ رواہ صاحب الدر. : 

اس ان سے دوایت ےک خدا کےکول دوسصزندررے مع راد تر تک اور 
طحفرت فاط ہیں . اورعولی مو گے سے ماد تحضر تع ادرتحخرت سوا ہیں" ان ںکو 
سا تار کک ان "ور الأانضار 1١۳‏ 

گان ابوڈر یقول ان مہ الایة مر ج البحرین یلتقیان بیٹھما برزح 

لاییغیان یخرج منھما اللولوء والمرجان نزلت فی النبی (ص) وعلیٗ و 
فاطمۃً والحسنٌ والحسیينٌ علیھم السلام فلا بحبھم الامومن ولا ییغضھم 
الا کافر فکونوا مومنین تجھم ولا تکونوا کفارا ببغضھم فتلقون فی النار“ 


قكيث سوجوسععچسدچوت سیمسدد جسدوسشسسسسسو چسجیدو -سمسسوعد ممیت مسبت 


تخرت الادذ رفرماتے می کیہ یت نعخرت نی بت ںای بنظرت زا نضررت 
لم اورتخر تس نکی شحان میں نازل ہوگی۔ جوان صحنرات مب تک ےگا دومن خُ 
اورچو شی مر ےگا دوکافر ہے۔اس لے مسلمافو ام ا نکی ذودات متقرسہ سے عحب تکرواور سن 
7چ ال سر فرثنوور کم یں الد تج ما گے 
(ینابیع المردة )۱٦١۶‏ 


بت اڑمسویںآیت 
وا پت 
( نگ کا انام ) 
قوله تعالئٰ:۔ 


سَال سَابْلٌ' بعذاب ب واقع لَلكَافِرِیْنَ یس لد ذافع' رن الله ِی الْمَعَارٍجہ 
خمدافر ماتاے:۔ 
لیک ما نے وانے نے ککافروں کے لئ ہوکر رب وا لے خذرا بکو ماڑا تارق لزان 
سج( با اورےۓ وانے رای طرف ے( ہے 03 ار“ 
(بارہ ۹ معار ج آیت .1ج 

نقل الا مام ابو اسحق الٹعلبی رحمه الله فی تفسیرہ ان سفیان بن 
عییة رحمہ الله تعالیٰ سنل عن قولہ تعالٰی سأل سائل بعذاب واقع ”فیمن 
نزلت فقال للسائل لقد سالتتی عن مسئلة لم یسئلنی غنھا احد قبہلک 
حدثنی ابی عن جعفر بن محمد عن ابانه رضی الله عنھم ان رسول الله 
(ص) لما کان بغد یرم و نادی الناس قاجتمعوا فاخذ بید علی رضی الله 
عنه وقال ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“ فشاغ ذلک فطار فی البلاد و بلغ 
ڈلک الحارث بن المعمان الفھری فاتی سول الله (ص) ناقتہ فاناخ 
راحلته و نزل عنھا و قال ”یا محمد امر تداع الله عزوجل ان نشھد ان لا 
الله الا اللّەو انتک رسو! ل الله ققبلنا منک و امر تنا ان نصلی محمسا فقبلنا 
و امرتنا بالزکٔوۃ و امرتنا ان نصوم رمضان فقہلنا و امرتنا بالحج فقبلنا ٹم 
لم ترض بہذاحتی رفعت بضبعی ابن عمک تفضله علینا فقلت ”من 
کت مولاہ فعلی مولاہ“ فھذا شی منک ام من الله عزوجل فقال النبی 


مس جس پچَُ٭پیعیسپووهوسمفمموووددہ نو مل بی ارد چ دیع میں سے مت 


(ص) ”والذی لا الہ الا هر ان ھذامن الله عزوجل.فولی الحارث ابن 
نعمان بریدر احلته وضو یقول ”اللَھم ان کان محمد حقا فامطر علینا 
حجارہة من السٌماء وائتنا بعذاب الیم “ فماوصل الی راحلت حتی رماہ 
الله عزوجل بحجر سقط علی هامتہ فخرج من دبرہ فقتله فانزل عزوجل 
سال سائل بعذاب واقع للکافرین لیس لہ دافع من الله ذی المعار ج "' 

امام ابو ان شابی ان فی میس کھت ہی ںکہغیان جن عینیہ نے ائ ںیت کے سلسلہ 
بس ہو بچھاکہ بی تس کے بارے میں نافزل ہوئی فو آپ ن ےگ اٹم نے اما سوا لکیا جوم 
سے پھل ےکی نے کی کیا تاب ے۔میرے باپ نے اوران ےتعف بن گر نے اپ ےآ ام سے 
یی ہو عدىیث یا نکی ےک رسول ا صلتم نے دنم ( کے میدران ) یس نیت می 
کا بات پڑااورلوکوں کے ےی یف ایا مس۷ جش سک میں موا ہوں اس کے یھی موا ہیں یت رقمام 
خروں سی فی او ہھارت ب: مارٹ بن نان فیک یھی معلو ہوا و وآتحض ریلم کے پاس ناقہ یہ 
ٹوک رآباادرناقہ بٹھاکررسو لک بلق مکی خزمت می خاض رہ وااد رہ اش آپ نے ہلیم 
با رہم لا الہالا انیل اور پ کزان رکارسول ماخیس چم نے ا ںکوسلی کیا پ نے پا دنت 
گی ماز ہے ھے کے سل کہا بھم نے قبو لکیا۔ پ نے کو 8د ہین اود رمضمان میں روز ےر کا 
تم دیا۔جحم نے ان لیا آپ نے کرت ےککہا۔م نے قب نکییا۔؟ پ امس ب گیا اسیا شہ 
ہد اوراپے پتچازاد الکو جمارے اد یلت د بلک او رکہا انی کا ٹیس م لا مہوں امس گے 
ھی سولج پک بیکہنا آآ پکاطرف سے ہے یا خداگی رف سے 0 0ھ 
او کے رفاو ل طف ےس اروا نڈأہماان ان نا کی طرف ی 
کا ہوا عڑ ا اۓ دا اگ جب کت ہیں و ہمارے او رآ سان سے کے قٰ 
ردنا ک عطراب می بتنلاکردۓ ابھی دوسوا ریبک نہ پہو مھا تھا کی دا کی رف سے ا کے 
می ایک پڑھرگرااوداس کے نے ےکن لکیاادردہ مر گیا نفد نے مت از ل(را َ7 
ایک ما گے دا نے نے ےکا فزروں کے لئ ہوک رر ئۓ وانے عثر ا بکدما گاج سکوکوئی ال یس سلما جھ 
ند خداکیطرف سے ہو نے والا تھا“ (نور الابصار ۸ءے) 


انا لیو ںآبیت 
( ناوت الل می ت کا یتر ( 


قوله تعالی:۔ 

ىُوْ قُوْنَ بِالسَذر وَ يَحَافُوْنَ یَوْما کان شَرّه مُسَْطِیْرَاہ رَبْطُمِمُوْنَ 
الطعَامٌَ عَلٰی خُبْه مِسْکِیا وََيْمَا و اَبِیْرُاہ نما نطْمِمُکُم وَج الله لائریڈ 
ِنكُمْ جَرَاه ولا شْکُوراہ 
فداشااے:۔ 

یددولوگ ہیں جوغز درس لود کرت ہیں ا ورس دن سے ج کی ہرطر فجھی 
بی ڈرتے ہیں۔اورائ لکی عحبت می اخ اورشیھم اراس رکوکھا ھا تے ہیس( اورکتے ہی نک ) 
مخ مکواس مالس خداکی راہ بی لکھلاتے ہیں ۔ چم ٹیم سے بد نے کےخوامتگار ہیں اور ن یکر 
ایی کے" ۱ (پارہ ۲۹۰ ,دھر آیت ۰۹.ھے) 

ایخ ا کیران غید :اللہ بی غباس قال فی قولہ تعالی یو قون 
بالنذر و یخافون یوما کان شرہ مستطیرا.مرض الحسنْ و الحسینْ رضی 
الله عتھما وھما صبیان فعا ما رسول الله (ص)) ای ان قال) واقبل علیٰ 
والحسی والحسینٌ نحو رسول الله زص) وھما برتعشان کالفرخین من 
شڈ الجو غ فلما ابصرھما رسول اللہ (ص) قال ہا ابالحسن اشد 
مائیسوتی ھا اد رککم ا نطلقو بنا الٰی ابنتی فاطمةُ فانطلقوا الیھا ِھی فی 
محرابھا ولصق بطتھا بظھرھا من ش٥ة‏ الجوغ وغارت عینا ھا فلماراً ھا 
رسول الله صلعم ضمھا اليه وقال واغوثاہ فھبط جبریل عليه السلام و قال 
”یا محمد خذضیا فة اھل بیتک “قال''وما اخذیا جبرئیل “قال 
ویطعمون الطعام علیٰ حبه مسکینا و یتیما واسیرا الیٰ قوله سعیکم 


شخ 1کہرنے حضرتعبدالڈدای ن۔عاسں سے ا ںآ بی تکخی ر کےسلسلہ ٹیل دوای تک 
ےکی اما من او اما میٹ نے کےز مانہ میں پیار ہو ۓ سو لک رم لان کی عیا ری کے 
نشیف لان 2 آپ کے کے کے ا ےل حضرت فا دوفو ںشخرادوں اورگھم 
01 لے رفضرنے فن یسل دز نے کے اف ہرروز وت افطا رسب نے ما ال کوزہ ال ‌دے 
دی اود پالیٰ افظا رگ ر لیا ان ووڑ کی تع نپ کی ٹنیس جا ہوککیں اور) 
تفریت لی حطر ت سی اورطر ت جلاع رہوگ کے پان ںآ ئے ۔حضرت تع اور رت سن 
لوک سے کپ ە ہے جج جب رسوی “٥لت‏ نے ا نکودیکھات کہا" اے اوائس نم لوکو ںکی 
مال تد ریب س۴ مر ےسا تح می رک بی پالم کے پا چنب دبا 
نود یک اک ینخرت امہ حرابعبادت بی ہیں اد لوگ سے ال نکا چٹ بٹھ ےک نکیا 
ے او میں چٹ سگئی ہیں رسو لک ریم نے می دکمےکرمضرت فاعطر کوسدن سے لگایا لوف رید 
کی فو را پیل علیہ السلام نال ہہ ۓ ا و رکہا ا ےٹھپ اپنئے ابلدی تکیا ہر ندا کی کا انعام 
ھی یی رو لکرب صلقم نے فر مایا نس و وکونسا اٹھا مملوں؟" یی مات نکیا ات 
مد اکی راو میس سککشن او رکم او اتی کوکھلا تے میں . نے ںیک ند ا کے نز دک ان یش شی مور 


او رام لآحر لف ۴ ۳ (نور الا بصار ۳۔۱) 


امیر زوسزات رن رتو نود دزستررد رغتزرت ودع راتا رد وتوہ وةنئرد وسیٹرد نر رترر ُ رع رتو ود اجوہ زد-سزورہ نوہ ور نود بردترہ پونزرد سوا بد ہک ہد شض ہا - ا ک جلا سک زرل ئا بعد ایا گا اہ گا لہ گا چک لاس 0-0 اہ نا سواہ لاف ا اف .و تروع جو ھو سے رد 


قوله تعالی:۔ 
الّذِيْنَ نوا وَهملُوا الصَالِحَاتِ أولیک ھُمْ خَيرْا رہ 
مدائ ماڑے:۔ 
”بے گنگ دولوگ جو ایمان لا ۓ او رای ےکا کر تے ر ہے ودئی لو کت نوج میں 
سب سے رین یی 
(پارہ ۳٣‏ بینہ آیت ے) 
اخرج الحافظ جمال الدین الذرندی عن ابن عباس رضی الله 
عنھما ان هلم الایة لما نزلت قال عليه السّلام لعل ھوانت و شیعنک 
انی انت و شیعتک یوم القیامة راضین مرضین و تاتی عدوک غضبانا 
مقمرحین“ قال ”ومن عدوی ؟“ قال ”مَن تبرء منک ولعنک“' 
وافظظ جال الین زنرندگی نے ححخرت اہن عحبا سی سے دوای تکیا ‏ ےک جب بآ یت 
ازل ہول و انقضرتے ےترم تیم ےے نما یاکہ ان سے م رادم او ھا رے شوہ ہیں۔ 
(ایئ) تم او رکھارےشیبعہ قیاممت ین اطع نین ک ےکم سب مداے رداص ہو گے اور 
دائم نے اش وگ اد لا یۓ گان ا فرح ہشن ار ور كتشب ارات 
می با ظا میں “تحضر تما نے کو ھا( یا رسولی الیٹغیرا :09 ہے فرزیایا جوف رت 
اظہہار جار یکر اورقم رسب چمخ کے 
(صواعق محرقه ۱۵۹) 


ا ےط و ا اد ون وو ھدود ۷س سد سی یہ وی جج سح وط ند لج ےہ نکد ا ا ا و تک و ا 


بابدہم 


(اعادیٹ) 


تحضر تی عل تا مک یقت روما ری ناس 

عن ابن عباس ال قال وسول الله صلی الله عليه و سلم 'لوان 
الاشجار اقلام والبِحر سداد و الجن حساب والانس کتاب ما احصوا 
فضائل علی بن ابی طالب “ 

تحضر ت از نع خبال سے روایت ے حرف رسو نے فر مایا اگرقمام درشتجمنزلہ 
تلم ہو چا خی اورتا من ررروشنائی ہو جا میں اورتھا رین ما ب کر نے دا نے اودقما مم افسماان ین 
وانے ہوا می( بھی ) تل کےفضائ لکا شا ری کر کت 

(پنابیع المردۂ ۲1) 


- ک ھتاس باعل ایی لاس اہ پوت زیو ویر وتوہ نورپشرت. رورغم یتو پد:تإ: حر بعد ید میجد لد یرد عودتود سوچ دھط می ذاج ود جہ ڑڑھ۔ وسسچ جو کک جد اص حاد قاع 6سو و سد کا سد شض ذ 


)۸1) 
منرت جھ سلت رو تل کفضال یل ساوت 
(وریثٹ ا ثارلور ات ( 


قال ررسول الله صلی الله عليه و سلم ) ” اناو علیٌ من نور واحد “ 
رسول او یسلت نف مایا میس اور ایک بیو رسے پیراہہو نے 
(صراعق محرقه )۱٢١۱‏ 

اخرج الدرمذی والحاکم عن عمران بن حصین ان رسول الله 
صلی الله علیۂ و سلم قال ”ماتریدون من علیٗ ماتریون من علیٗ 
ماتریدون من علی' ان علیٔا منی و انامنه وھو ولی کل مومن بعدی “ 

ز مکی اود حامم نے عمران ین تصیشن ےن کیا ےک رسول ادڈڑصلقم نے (لوکون 
سے )فر مایا ”تم لو کک ےکا جات تج ہو ؟ تم او کی سےکیا جات ہو تم لو کت ےگیا 
جا تے ہو؟ یی نک وھ سے 0-ە/, می رے بعد ہ مین کے 
دل(یم)ین“' (صواعق محرقهہ )٣٢۳‏ 
قال زسول الله (ص) 'مابال اقوام ینتقصون علیً من البغض عليً فقد 
ابغضنی و من فارقٰ علیٔا فقد فارقنی ان علیا منی و انا منه خلق من طینتی و 
خلقت من طینة ابراھیٔم و اناافضل من ابراهیّم “ 

حضرت رسو کر نے فر مایا لوگو ںکوکیاہ وکیا ےکی کی منقصت جیا نکر تے ہیں 
(یادرکھو )ینس ےن سے پنول دکھااس نے بج ےگنن درکھااوریٹس نے یکوکچموڈ 1اس نے 
کی وٹا۔ رنق نا نم سے ہیں اورجی سن سے ہوں و ح0 
یں ازم کلت ے پیر اکیاگیااورییش ابرائئھم سے اأضل ہوں 

(صواعق محرقہ ء١‏ 


(وری ف۶واعٰات) 

عبد الله ہن احمد عن مخدوج بن زید الهذلی ان وسول الله 
(ص) اخابین اصحابه ٹم قال ” یا علی انت اخحی وانت منی بمنزلة ھاروٴن 
من موسًٌیٰ غیر ائە لا نی بعدی و یدفع الیک لوائی وھو لواء الحمد 
البشریاعلی اناوائت اول من یدعلی انگ تکسی اڈاکسیت و تدعی 
اذادعیت وتحیی اذاحییت والہُسن والحسٔیٔن معک حتی تقفوا بینی ڑ 

ہین ابراهیم فی ظل العرش ٹم یناد مناد نعم الاب ابرک ابراهیم ونعم 

لاخ اخ رگ لی“ ۱ 

یراق جن ات جورخ بن ز یلد ج ری سے روامی گر ئے زسول لن نے 
ابنے اصواب کے درمیان موانمات قائ مکی ئل رححضر تک سےفر مایا 'اےک اقم میہرے پھالی بج 
اہ رگیاضبت جنھ سے دی ےج ارد نز زی گی ریگ بکینبیرے بحدرکوگی نیا شہ ہو 
م۔(ا ےگ قیامت کے دن ) می رالواۓ مدقم یکدیا جا ۓےگا۔ا ےل کون ری دی 
عالل) ےک قیاممت کے دن )) بی اورغم سب سے بے بلائئے ای گے اور جب گے 
ماس (ہنت ےآ زاس کیا جا ےا شی لیس( ز| بے نزارا جا گا اور جب 
یس( بارگاوالی میس ) بلا یا جو ںات تم بھی بلاۓ جائو گے۔اود جب می ند ہکا چا گا مم 
۱ بھی زندہ کین جائہ کے اور اور جلن ہار ےسا تح ہوں گے ۔ ییہا ںت ککیم سب ممرے اور 
حفرت ابراآم کے ذخا عرش کے سا یی ںیھ گے پچ رابک ہما دئ یآ وا نک ماگ ا ےج 
_ مین با پآپ کے اپ ابر اص میں اد یتین بھائ یآ پ کے بھائ یی ہیں 
(ینابیع المودة ے۵2) 


ہو معدووعووہ مود واحہوَ‌سوًو! إأوہ جچد وٌاأہصدعووے‌أٛعدجسأ|و سسسوے أإسود ٰصود × ہف 6اظہ سد ودضوہ د-ص×ھ سڈ کہ بل کے ٭-ہ ج..-او صہ حسطد وس ہق ہچ ق7ت ہق چ7 ہر .تہ .ہچ تج ود بڑ..ج.۔ .توب جس ور یور -جود جد تچہد ور مود ےط 


. ( کا ررساات یا نی اضجا د می باعل ) 

حدٹنا اسمعیل بن موسلی و شریک عن ابی اسحق عن حبشی 
بن جعادہ قال قال رسرول الله صلی الله عليه و سلم ”علیٗ منی و انامن 
علیٗ ولا یودی عنی الا انا ار علیُ " 

اسائیل ہش یک ءالی اشن ادیتی ین جنادہنے روای تکی ےکی رسول اڈ صلتم نے 
فرمایا”ع ا جھے سے ہیس اور می لگ یں وک یئ کے ضرف سے( سورؤٗبرا تکفار 
ریش کک )یس پہو میا سنا سواۓ میہرے بای کے 

(ترمذی جلد دوم )۲۳٢‏ 

(ا ںکاداقعہی ےکہ جب سور) بر ت نازل ہوا آحضرتصلقم نے ححضرت الگ رو 
مر یرود ملعا گرا سورہاوفارۃ کو سنا 5ر نطرت ااویگ رر دانہ ہو لئ ای روراہجی 
ٹس ت ےک بل ین ناززل ہہودۓ اورمرت سکیا ”ارول الد خدا خر ماج ےکاس صود ہک وکفار 
ری تک ا آپ|؟ہو نچائقیں بادہ جآ پ جیا ہو(حی مت ) آتحضریں نے فو رآحضرت 
لیکو ردان کیا آپ ے جطرت الوگر سے سوہ وائیکی کے لیا اور مکیہ جاک کفار خر می کو 
سنایا۔جخرت اوکرمد ندال ںآ مولف ) 

)٢۳ 


(حر یش ر/) 
حدثنا محمد بن بشارو محمد بن جعفر و شعبةعن سلمة بن 
گھیل قال سمعت ابالطفیل یحدث عن ابی سریحةعن ابی صلی الله 
عليه و سلم قال ”من کنت مولاہ فھذا علیٗ مولا ہ “ 
اھر اتیل :اسر وروی رٹ 


رز یہہ تی بی رزاس۔ روچ سوٹ ود لو و ئا اہ ند حا دید اید قد بزئد یت ا ند ید مد کر دہ ا نف بد بد ید سا بةاد نوید تر جیھے۔ ود خویہ اوتوی ور- تھا وہ ند مرا ہنرو نود ات تو بد اد ال بات ئ۰ لد بد لف نود برا .مد بد پا ود جا بی نوف مرستچہ نوا سید بد سی و ےو سی تو عری۔ بر سے آزر ہے وہ ہے ہو یے۔ و -جید سی سے سا ہے کا 


گ شی ں ایس م ول ہہوں انس کے لی یھی ملا میں“ (ترمذی جلد دوم ۲۳۳) 
قال رسول الله ضلی الله عليه و سلم یوم غدیر حم ”من کنت مولاہ فعلی 
مولاہ اللَھم وال سن والاہ وعادمن عاداہ واحب من احبه وابغض من 
ابغضه وائصر من نصضرہ واخذل من خذلہ و ادرالحق معه حیث دار“'رواہ 
عمن النبی ص) ٹلاٹون صحابیا وکئیر من طرقد صحیج ارحسن, 

ررل اسم نے ند کم کے دن نر مایا من کا میں مو لا جہوں اس کےےکل یھی موا 
زا تبون وت ز اتی ا سکز وت راڈ زان وشن کی انس 
سے یٹ یکر۔ جوف سے عبت کر ہے تھی اس نع تکراو ول ےش رتو بھی ین 
لف رکو۔ جو کی عددکر ےا بھی ان کی جددکراود جو اگوکیموڑ د ےا بھی اہ سک پچھوڑ 
رے۔او توادع ادھ نے چا مدع حطر جال ۱ 

اوست لاف ئغائیں تک سہاّے ظاگوونگز 
تین ہیں ژنور الابصار )٣۵۲‏ 

ر۸۵) 


(ححضرت سو لاودتا مات اتائنشرطاہراوحوم ے ) 

عن این نبا ته عن عبداللّه بن عباس قال سمعت رسول الله (ص) 
یقول اناو علیٗ والحسن والحسینْ و تسعة من ولدالحسینٌ مطھرون و 
سسو ون" ۱ ۱ 
ان خاند نے تحضر تعبدابلہ بن عپال سے ددای تکی سے ۔تعظرت اہ ن ماس کت 
یں جس نے رون رڈیل کڈ کے نے سنا کہ ہی کیا یع یلان اوراو ( 2 )اولاہ 
نی نیہ مالسلا م می ےسب کے سب طاہراویتصوںہیں“ (مامة القرآن ۸۵).---- 

عن سعد قال کنامع رسول الله (ص) بطریق مکة وھو متوجہ 


 ٔٔ٘ +7770 :3:---77‏ ++ +1 1ں سشںسشش ش ششں شش یشیششبی۔ج جش میجید 


الیھا فلما بلغ غدیر حم و قف الناس ٹم زدمن تبعه و لحقہ من تخلف فلما 
اجتمع الناس اليه قال ”ایھا الناس من ولیکم قالوا الله ورسولە ثلا'اثم اخذ 
بیسد علیٌ فاقامہ ٹم قال من کان الله ورسولە وليّه فھذا ولیہ الم وال من 
والاہ زعاد من غاداہ “ 

رت سو رن فان کت ہی سک جھم سب رسون ا کے رات کن کے را سخ ان 
تھے ج بآتحض رر تملظ حدم کم یہو ئن لوگ ںکاا تنا رکیا یہاں تن کک جوآ کے پوس لئے جھے 
اع اہی چا امیا اورجھ بی رہگ ےد ٗ تیآ نے ۔ جم ب تما ملک بح ہو گے آحضرت 
صلقم نے فر مایا ”ا ےلوگ تمہ راوٹی ( حم کین ہے؟“ سب ن کہا دا ود ا کا رسول 
اور تین ری کیپ ضر صلخم نے حضرت کیا اورف مایا جم سا وائی ( اکم ال 
اوراس کا رسولی ہے۔ اس کے دای( ام پا یڈلاچھی ہیں ( رپ نے دعافرمائی بک اے خیداجھ 
مات یں کرک رت زکواد وشن ر کےا سو بی ین وک 

(حضائص نسالی ۸ ۱ وامامة القران ۱۵) 


(۳۷) 
عم باب ینز ام 


ادا ٭ : 
(زعکر یم یکا مضہ ہے ) ۱ 

اخرج البسزاز والطبرانی فی الاوسط عن جابر بن عبد الله 
والطبرانی والحاکم و ابن عدی عن ابن عمر والترمذی والحاکم عن علیٰ 
قال قال رسول الله صلی الله عليه و سلم 'انامدینة العلم وعلی بابھا “ 

وفی روایة فمن اراد العلم فلیات الباب “ 
0 ۰۷0 کی اکم آ ئن مدکی نے 
وکا رر ا سر سر کش ری ےکحضرت رسولہصلل نے فر مایا 
ام ماش یہوں اویل انس کے دروازہ ہیں 'اورایک دردایت میں ہ ےکی( آتحضرت نے بی 


المرتضیٰ 91 
ا نے و وش یں ہے 
یٹ یلم حاص لکنا جاہتاہودہ بی نطر تل کے در بر جاۓ ) 

ٰ (صواعق محرقهة )٠٢١‏ 
وفی اخری عندالتر مذی من علیٗ ”انا دارالحکمة وعلیٌ بابھا“ 
وفی آخری عند ابن عدی ”علیٌ باب علمی“' 
ایک دوسریی ردایت می تر نکی نے معخرت گی ٹ٣‏ لکیاہے (ک رآحضرں نے فر مایا انیس 
لم ت اک ہوں اورک اس کے دددائزہ ہیں ادر ایک دوسرکی ردایت یل این عدیی کت میں 
( یآ تلم نے فر ماع می رع مکیادرداز میں“ 

(صواعق محرقهہ )۱٢١‏ 
ر(۳) 


( شع تل لم ) 

عن این مسعود قال کنت عنا البنی صلی الله عليه وسلم فسئل 
عن علم علیٰ فقال ”'قسمت الحکمة عشرۃ اجزاء فاعطی علیٌ تسعة 
اجزاء والناس جزاً واحدا وھو اعلم بالعشر الباقی ایضا. 

این سجودکا مان ےک می حخرت نی لت مکی ندمت میس مو جو دق اک تحضر لم 
سے ححخر تل یھی عالت پش گئی ۔آپ نے ف مایا مت کے دی حضے یئ مئ(جن میس 
ے ) مو حضے عفر تگ کو رثے گے اور( وشیا کے ) رام لوگو ںکوصرف ایک حقہ دہا گیا اور 
ہو یں حق ماش چھی سب سے زا تعتر تک یکو ے“ 
(اس عد بی ثکوموفن بن اد نے این مود تق لکیاے ) (ینابیع المودة ٭ے) 

عن سلمان الفارسی قال قال رسول الله صلی الله عليه و سلم 
''اعلم امتی بعدی علیٗ بن ابی طالب؛ (اخرجہ الدیلمی) عن ابن عباس 


اد بد سود بد دا سر رود زس رو دوج .اہ اب ا سرف: سا ا نی نل اض نار :و لا لاف ا .ا حر( .لا نہ دش سوہ از ایز رود رجا داد بد سرد .ود دو سو داز ہے و 


کال قال :نول اللہ صلی الله عليه و سلم ''نحن اھل البیت مفاتیح 
الرحمة و موضع الرسالة و معدن العلم“ زاخرجە الدیلمی) 

نضرت سلمان ذاری کت ہی ںکررسول ارڈ صلتم نے فر مایا میہرے بعد می امت 
سب ےزیاددیلم دا نے تحضر تک ہیں 2اس روا تکووٹی فگیکیات باضفت این 
عاس ددایی کر تے ہیں کے رسول ادڈصلقم نے فر مایا و ہکم اہلبیت رحس تک یکنقیاں ءرسالم تکا 


نام ؛او زی مک کان میں“ 
اس دی کودیلی نے لکیاسے ) 
(ارحج المطالب ۳۲۸) 
)(۸۸) 


رو اسبسی شض میفسی 
علیہ و سلم قال لعلیٰ لعلی ”انک اول المومنین معی ایمانا واعلمھم بایات الله 
واوفاھم بعھد الله واروفھم بالر عیة واقسمھم بالسویه واعظمھم عند الله 
منزلت (اخرجه احمد بن حنبل فی مسندہ) 

تحخر تم ہکن خطاب سے دوایت ےک رسول ادڈصلقم نے مت کل ے تر مایا ”تم 
امھ وین می ایمان کے انار سے اول جو ؛ان سب سے زیاد تو ںکاصعلم رک ہوءان سب 
سے ڑیادہ خمداکےگ رگ پوداگمرنے وائے ہوہ ان نسب سے زیادہ رحیت کے سماتج دہ باٹ کر نے 
وانے ہوہانع سب سے زیادو( جو ںکوان ٹیش ) مسماوئ یکر نے وانے چوواوران سب ے 
زمادہ الد کے زد کیک بڑے مرح والے ہو (ا بی نل نے اس روای تکواپچی ند می سکیا 
5 ۱ 


(ارحج المطالب -)۱٠١‏ 


عن انس فال قال رسول الله صلی الله عليه و سلم 'نحن ال 
البیست لایقاس بنا احد '' (اخرجہ الدیلمی فرفردوس الاخبار والملانی 
سیرہ) 
اس بین مال کے ہی نک رسول ادڈص٥لکت‏ نے فر مایا جم اہلدیت کےساتھ (خم لوکوں 
ےب اق اک اتا ا تا دنا نے لزان خر ان آلانڈیانتژن 
اوران اتی سرت رپ لکیاے) 
عن علیٗ قال علی المنبر ”نحن ال بیت رسول الله لایقاس بنا 
احد'“ (انحرجہ ابوبگر بن مردویه) 
(ای عدریث کے مطابقی )خر ت گل نے مر پرفر مایا ” جم رسول' خدا کے اہلویت 
ہیں۔( ات میں ےکی ابی ہم یرتا ںی سکیا ا سک 
( اس روا تکوا اونگ بن مرددپ نے نف سکیا ) 
(ارحج المطالب ۳۴۱) 
.)٥۹(‏ 


( ور شر ان ناش تیعبط براس رارق را ن صامت) 

وفی الاصابة عن عبدالرحمٰن بن بشیر الا نصاری قال کنا جلو 
ساعند الٰبی صلی الله عليه و سلم اذقال ”لیضر:بنکم رجل علی تاویل 
القران کما ضربتگم علی تنزیله 'فقال ابوبکر ”اناھو یارسول الله ؟' 'قال 
”لا“ فقال غبمر”اناھوبارسول اللہ؟“ قال ”يہ ورلکن خحاصف النعل 
''فانطلقتا فاذا علی ینخصف نعل رسول الله فی حجرة عائشة فیشر نال“ 

سا لن نپزائرین بن ار الصارگی ہے ردابت سوہ لا یں" بھم لوک رسول 
ا٥ل‏ مکی خدمت مم نٹ تحت“ نے ف مایا ”احنقریب ) اکنل خملوگو ںکوق ران 


یا و ہک ےر وت او برح مرک 


اس سا0ا کون ات 
دخہیں 'حضرتعرنے لو چان یش دہٹی ہہوںگااے خدا کے رسو یف مایا تم 
بھینہیں, بک دہ ہگ جو(میری )الین ناکد ہیک رہم لیک (وہاں سے لت حر تک 
کو(رسو لی نین وا کت ہورۓ رت جا تہ کے تجرہ میں ٹیس دکیکھا۔ ہم لوگویں ے الکو ہے 
نو ری سنا 
'(ینابیع المودة ۵۹) 
(۵) 

(ق رن اط اورٹ رآ ان صاصت سا تج ساتھ ) 

وفی روایة اھ صلی الله عليه وسلم قال فی مرض موتہ ''الا انی 
مخلف فیکم کتاب رہی عزوجل و عتر تی ال بیتی ثم اخذ بید علٰ 
فرفعھافقال مذاعلیُ مع القران والقران مع علیٗ لا یفترقان حتی یردا 
علّی الحوض فاسئلھما ماخلفت فیھما“' 

لیک روایت میں ےک ہآ تحض ریت صلمقم نے مرن اک مو تکی حالت بی اش ادف مایا 
آ ا ما می سم لوگوں شس (دو یں ) ان بپردددگا رک ی کاب( رآن مد ) ادداپت 
عتر تڑ می )نے ابی کو ںوڈنا بہوں پ14 پ نے نر تی کا تح یکن کر بن دکیا ادرف مایا 
زدیکھو) عق ران کے سا تح ہیں اورش را انگل کےساتھ ے سے 
سوا وو گا جا خ ف رز ال جق لکوڈ پرداردہوں گے میس (خم لوگویں سے ۳ ان 
رس گا ارسالک ںگا۔“ (صواعق محرقه )۱٢١‏ 

(فرآن جراوراہا بہت ول قبامت تف الک دو ے ے چوراب +وں سک وق 
لوم داسرا ریا تق رآ نی بعدرسو لک رم سواۓے نحضر تک ارآ طاہ ری ن کلہم الام کےکوی 


جو ‏ جت ا کر ن1 ں72 ادس سی لج 


ےھ“ ارت 7 7 حا پہ اف 
درے ے جدادیوں گے۔د نیا بی عزت او رآ خرت میں نحجات پانے کے لے ان دواواں 


کے دائگن سے میک بون ار ورگی ہے ولف 
(اف) 
تشجاععت اسرارٹر الال 


( شب ارت اعت وادنا نٹ سکا مظاہرہ) 

اور دالغز اللی قی کتابہ احیاء العلوم ان لیلة بات علیٗ رضی الله 
عنهعلی فراش رسول الله صلی الله عليه و سلم اوحی الله تعالیٰ الٰی 
جبرئیسل و میکائیل "انی امحیت بینکما و جعلت عمر احد کما اطول من 
عمرا لا خرفایکما یوٹر صاحب بالحیاۃ“ فاختار کلاھما الحیاۃ و احباھا 
فارحی نایفس مل علیٰ بی سی طالب ضیت ور پر 
محمد فبات علی فراشه یفدیه بنفسه و یوثرہ بالحیاۃ اھبطا الٰی الأارض 
فاحفظاہ من عدوہ “فکان جبرئیل عندر اس و میکائیل عندر جليە ویقول 
'بیخ بسخ من مشلک یا سن ابی طالب یباھی الله بک الملائکة “فانزل 
مزوجل ومن الاس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات لِلَه والله روف 
بالعباد ' 

امام مز لی ئے ا پٹ کاب !جیا ء الوم تر کیا ےک( بر تکیا )اس را تو جب 
0 00000رک 'ڑاے 
میرےملانگ یمن رین پٹ ن ےمم دوفوں کے درمیان موا ما ة قا مکی ادرقم دونوں میس سے ای ککی 
مرلادوسر ےکی مر سے (یاد وق اددیاتم ٹس ےکون سے جواینے انی کے سساتحا کر نے اور 


تید دہ تد مد بد سو مس شںسسےسس“ شس یں وش پوت 


7ی یز رھدا او سرت رر ا 
ابطاا بکیط رح +دجاتے میں نے ان کےاور( اپ دسولی )مم کے درمیان بھائی ادگ قائم 
کی تذدہ زع ان(ش) کے بست پر (خھایت انان سے )سو گے اورا ہی ےکن اف ہیقرار 
دبا ادا نکی زم دگیکوابٹی ز دی پت زع دی غم(دوفوں فورأ)ز ین پر جاڈ اوران( کی ان کے 
شھنوں سے انل تکرو .و جم لآپ کے سرک رف اورمیکانح لآ پ کے چ ری طر فکھڑزے 
ہو گئ او رکینے گے مارک ہو پکواے ابوطا اب کےفر ند ۔آ پا کون ہوسکتا سے۔ خمدا 
لان ےگ دوب آپ بفھ کرر ہا ہے 'نچھرخدانے (رسول پر یآ یت ناز لف مال ی' لوکوں یس 
پچھا لیے بھی ہیں جوا نے ںکومرا کی می (خیرنے )کے لۓفروض تک تے ہیں۔ادر بے 
شیک خداا نے بناروں پر مکرنے ولا ہے 
(نور الابصار )۸٦‏ 


)ر۵۲( 
( شر خداکے ہما دکا ایل مظراعرمیں ) 


عن ابن عباس رضی الله عنھما قال حرج طلحة بن ابی طلحة یرم 
اُحد فکان صاحب لواء المش ر کین ''فقال یا اصحاب محمد تزعمون ان 
الله یعجلنا با سیافکم الی النار و یعجلکم با سیا فنا الٰی الجنة فایکم یبرز 
الیٔ' فبرز اليه علیٗ بن ابی طالب و قال و الله لا افار قک حتی اعجلک 
بسیفی ال النار فاختلفا بضر بتین فضربہ علیٔ رضی الله عنه علی رجلہ 
فقطعھار سقط الی الارض فارا دان یجھز عليه فقال ”انشدک الله 
والرحو یا بن عم“ فانصرف عنہ الی موقفه فقال المسلمون ”'ھلا جھزت 
عليه؟“ فقال ”ناشدنی الله ولن یعیش فمات من ساعتہ و بشر النبی (ص) 


المر تضیٰ 97 
ہدنک فسر وسر رالمسلمرق* 
رت ان ع اس کت ی کہ بتک اعد م روش کین( کی فوج) کاعجبردار 
تا۔میران پیٹ مین کل آو رواٹ گی گ ضا ےج نے اشن ا تما باال ےک ہکم پھ متمہاری 
گواروں ےک ہو یئ نو خداب مکوفو را جم می لپھیچ چا اور اکم وارنظرروون ےن0 
مغ اذ خدات مکوفوراججنت می سنج د ینان تم یس ےکن ہے جولڑنے کے لئ میرے سا ضے 
تے''( ینکر )تفس تل مریراان جک یس _أنےے او رف مایا شدا کیا یس چھوکوانں وق ت تک ش 
چھوڑو ںگا جب تک چم کو بت جلد اب یوار کے ذر لی کم یس نہ 6ہو میادوں'' ‏ ردووں کے 
ورمیا نطوار کے دورو ا تھھھ ےک تعفر تک ان کے پر مرظوار مارگیی۔ ا کاپ رکٹااوروہ 
زین برک رگیا۔آپ نے اہ کو نکر نا حجا گرا ن ےآ پکودا کا داسطدد با اود رت مگ درخواصت 
گیا۔خرت کن ا لک طرف ے ہٹ گن اوراینے جاۓ قیام پش لیف لا ۓ مس لمائوں نے 
کہا" آپ نے طلککیوں جن لکردیا ؟/پب نف مایا انس نے بشُھ خدااداسطذدہا یا لن 
دو زنلدہ ند پاادراسی دش تم رگیا۔اسل کےعر 2 یضر کی رسول انڈصلکتم نے سنائی جس پہآپ 
او رتا ھمسلمان بببت خونں ہو ےۓ' (نور الابصار ۸2) 
( حر تی علیہ السلام چونل ف رما کے ت ےکپ بت جلطل کو نی مو ار ہے ام میس 
پہو نجادمیں گے اس لے ا سکا فور چم میں جانا ضردریی تھا ۔؟پ نے امھ راس کے رکون ھمئیں 
کیا نپ ى یوار کم سے ووفو رام رکیااو نم میس پہو خا۔اوررسولیمصلتقم نے امس کے 
مرنے کی وخ ری سائی: اکابت ہو جات ۓک تع تی علیہ السلا مکا بقل سا اور ہل شرااور 
رسو کیم صھی کم طا ای تھا۔مولف ) 


(أ ری کا سبراحضرت لی کے سرہے ) 
قال ابن اسحاق ”کان الفتح یرم احد بصبر علی 
رض الله عبه ' : 

فیس ابن سعد عن ابیە انه سممع علیا رضی الله عنە یقول 
''اصابصی یوم احدست عشرۃ ضربة سقطت الی الارض فی اربع منھن 
فجاء رجل حسن الوجه طیب الریج واخذ بضبعی فاقا منی ٹم قال اقبل 
علیھم فانک فی طاعة الله ورسوله وھما عنک راضیان “قال علیٌ فاتیت 
النبٌّی صلی الله عليه و سلم فاخبر ته فقال یا علی اقرالله عینیک ڈلک 
جبرئیل عليه السّلام “ 

ئن اسحاقی نے با نکیاہ ےہ جنگ اعدکی کن (صرف ) جخرت گل کے تمل کی وج 
سے ہوئی اود الیل ما ہر ےکیونکہ مییران اعد کتبا تا ممسلمان اک کے مےصرف 
اہین بائی رو گے تھے رت لی علیہ السلام ایک طرف ش رین سے چچہاومیںمشغول جے 
اور اگ طرن ول ا کی ال تکررے چے ہا من کہ بھا سے ہوۓ مسلمان پھر 
ضر تکیآواز یرشع ہوںۓ 

3 ے اسیے باب سعد مجن ای وقاش سے روابی کی ہ ےک سد زین ونقائں نے 
جحفرت اک کے ہوۓے سنا (ححفری تک نے فر مایا نک اعد کے دنع ھت سولہ زم ہو تج 
تنا بی سے جار ای (کارکی) ےک میس زین برک گیا اناد یک تہایت خواععورت مز دآیا 
ین (کے رن )) سے خوشمب یھی اس نے یھ پک اٹھایا او کہا ”ان (جشمنوں )لہ 
کرد۔ بے فک تم الڈداوداس کے رسو کی اطع تکرد ہے ہو۔اورخدرا اور رسولی دوفو ں تم ے 
رای ہیں ضر تم نف ماتے جب شس نع لک ندمت می سآ با آپ سے اکس دا لک 


المر تضیٰ 9و 
ایا اضر نے تا دا تار نھو ا وا رے۔ در ھت 
نکیل می تہارے پا آۓ ے)“ ۰ (ور الابصار ۸2) 
ر۵۳( 


(شیاعت اور جھدردیی ا سک و کت ہیں ) 
لمّا قتل علیٌ یوم احد اصحاب الالویة قال جبرئیلٌ ”یا رسول الله 
ان ھذہ لھی المواساة“ فقال النبی صلی الله عليه و سلم ”ان منی و انا منہ 
“قال جبرئیل وانا منکما یا رسول الله“ 
جنگ اعدٹش جب حطر تک نمالوں نات ٤‏ انان ڈالو کو سک دا 
تل ن کہا یا حول اللہ بے شک ا یکا نام ہمدددیی کے '( جو دکھار سے ہیں ) آحضرت 
ص٥ل‏ نے زر مایا ' نعل ہجو سے ہیں اورمیس ان سے ہہولں''فذ ج رن ن کہا یا رسولی ایس 
بین آپ ی دوڈول ے ہوں'' (کنزالعمال جلدششم )٢‏ 
(۵۵) 


(شجاععت اسدا شک ایک شا لت ریس ) 

عن سلمة قال کان علیٗ قد تخلف عن النبی صلی الله عليه و سلم فی 
خیبر و کان بە رم فلما کان مساء اللیة الٹی فتح الله فی صبا جھا قال 
رسول الله صلی الله عليه وسلم ”لا عطین الریة غذا رجلا یحبہ الله 
ورسوله وبحب اللہ ورسو لا یفتیح اللہ علیہ فاڈانحن بعلیٰ (عائرجو 
فقالو مذا علیٗ فاعطاہ رسول الله صلی الله عليه و سلم الریة ففتح الله 

ہت ردایتں ۓ تعفززت کہ رج نآنگھوں نون جوا ےکی وجر 
ےآتحضرری ملق کے(ساتحدزہ تھ بللہ ) جج رہ گے تھے جب شام ہوئی جس (کے دوسرے 


المر تضیٰ 100 پک 
ا ےر ول کر ےق را یی ا پا سو لم 
دو ںا من سلوؤرا او راک یکا بل زوستر کت ادر تو غرا اورا ںی کے رسول ودوست رتا 
ہے۔الیقداسی کے ہانھوں ہدام تک ہم نے خلاف امیر تحخر تگ کو دسیکھا۔اوگوں 
ن کہا یک ہیں رسول اڈ نے ضر تک یک وسنڈراعذایت فر میا اود خدا نے لپ ہی کے 
١‏ تھوں بر )دی 
(صحیح بخاری حدیث نمبر ۸۸۵,۹ ) 


(رھ) 
۱ 7 
,>ِ یت وب شراورسول' 


(ححبت نیم سے ںی ےکا ب ردان سے ) 

ال رسول الله صلی ال عليه و سلم ”حب علی براء ة من النار 
رحب علیٗ یا کل الذنوب کما تا کل النار الحطب 8 

رسوگل اوڈمصلم نے فرمایا” صحفر تل کی عبت جہنم سے ای کیا ند ہے۔اورتحضرت 
لایع تگیاہو کا طر کھ ہنی ےج طرح ہلک یکوھا بل ے۔'' 

ڑکنوز الحقائق ۱۵۳) 

عن انس بن سالک قال کان عندالنبی صلی الله عليه و سلم طیر فقال 
اللھم آننی باحبٰ خلفگ الیگ یا کل معی ھذا! لطیر فجاء علیٌ فاکل مع“ 

اس بن مالک سے ردایت کیل لیم کے پاس ایک( بھنا ہوا رید ل(یانے 
تجفکتا) تھا ۔آ تحضر نے دعافمائی اے دا ونس می رےنز رک تر لوق اسب سے 
زیادوکوب ہے اہ کو جا کر دہ میرے سما تح انس برند وکوکھا مے؟' تعفر تک ۓ اوراشہوں 
نے رسولی کے ساتھاس یھن ہے بن کرش ری یا 
(ترمذی جلد دوم )٥٦٢‏ (نسائی ۲۱) 


(محی تل معیارایمان سے ) 

ارج الٹرمذدی عن ابی سعید الخدری قال ”کنائعرف المنافقین ببغخضھم 
علیًا “ 

تر ڈریانے الوسحید درگ ے ددای تک ہے( ا یسید در صمالی رو کھت یں ) 
بھملویک منانقی نکو حر تن نکی دی سے پان اکر تج جتے_''(جوتضرتت اون ہوتا ام سک 
مزال بت تھے ) 

ارج مسلمعن علیٗ ”والذی فلق الحبة و برء النسمة انە لعھد 
النبّی الامی الی انه ل' یحبنی الا مومن ولا ببغضنی ال منافق “ 

مسلم نے معضرت کل سے روای کیا ہے۔آپ نے فرمایا”عصسم ہے ال دیس 
نے داتگو چا ککیااود اما نکو پیر اکیا۔ یا انی نے ببٹھ سے وضیت فم بای ا یا ھ سے 
محب تکمر گا اورمنا کو ہے لے کو 

اھ و الجرتی بسند حسن عن ام سلمة عن رسول الله ضلی 

الله عليه و سلم قال ”من احب علیًا فققد احبنی و من احبنی فقا احب الله 
سی ارفس عاٹا ققد ابص یر سس طض فقد اینش اللّه” 

ط رای نے حفرت ام سسلم سے روا تکی ‏ ےک رسول الیل نے خر مایا ”نجس نے 
ما کوروست رکھا اک نے جن ذوست ررکھااو رجش نے مج دوسمتت رکھا اس نے مد ا اوروست 
رگیااورضن نے ہے نف این نے ےک کاو دنن نے بن عفن ران 


0ي 0 ٣‏ (صواعق محرقهہ )۱٢۱‏ 


(شثب بلس نام ایمان ے) 
اخرج الخطیب عن انس ان النبی صلی الله عليه و سلم قال 
”عنوان صحیفة المومن حب علیٗ بن ابیطالب “' 
خطیب نے الس بن ما تک سے دای کی ےک آتحضرت نےفر مایا کاب می کا 
عنوا نی اہن ای ال بک عحبت ے' 
ن ہن عباس ان ابی صلى الله عليه و سلم قال ”علیٗ منی 
بمنزلة راسی من بدنی “ 
خطرت ازع عحباشں سے دوایت ےک فضرت کبیا کے گ یگوھ سے وہ 
مببت ہے جوف رےسرکومیرے بدان سے ہے 
اشرج الحاکم عن جابران البی صلی الله عليه و سلم قال ”'علی 
امام البررة قاتل الفجرۃءمنصور من نصرہ مخذول من خذلہ " 
عاکم نے حعفرت ابر ےئ لکیا ےکرتعرت یسل نے فم مایا مع کیا کاروں کے 
امام ہیں اودفا جروں کے اتل ہیں جس نے مکی مد دی ال کی (خدااوررسو لکی طرف ے ) 
غذ گی ا کی اون نے ےک ڑا ا غاد مل ے رت" 
(صواعق محرقهہ )۱٢۲۳‏ 
(۵۹) 


: و ہو غیڑے ‏ تھ 
شب م٦ن‏ ایمان اوت نذا سے ) 
عن ابی سعید الغخدری قال قال رسول الله صلی الله عليه و سلم 
لعلی رضی اللہ ع٠ہ‏ ''حبک ایمان و بغضک نفاق و اول من ید حل 
الحنة محبکے و اول من ید خل الثار مبغضکے “ 


اندر ئضی_ 1038 


-ے وس سرت سوا تس می ےی میک ع۸2 


00+2۵۳۸ پا اش تق پ0 ئل اب ےا 

داٹحل بہوگاتضہارادوست ہوا او ہم بی جوسب سے پیلے جا ۓاہ رھ دن موگا' 

فو غمار ہیاس رشی اللدَهََفآن الابی لی اللَدعليةَؤَىلم 
قال لعلٌی ”طوبلی لسن احبک وصدق فیک و ویل لمن ابغضک و 
کذب فیک“ 

جقرت مار بن باصر سے روایت ےک مت نی صلقم نے ضر تل سے نمیا 
”ماع )قابل مبارکہادی سے وس جن مکودوست رکا ہےاورجمہار ہے( فضائل کے ) پارے 
میں اضر یکرت رت جم لی و سے اورتہارے(فضائل کے ) 
پازے شی سفن یب رتا ے' 

عن ابن عباس رضی الله عنھما ان النبی صلی الله عليه و سلم 
نظر الٰی علیٌ ابن ابی طالب رضی الله عنه فقال ”انت سیّد فی الدنیا و 
سید فی الأخرة من احبک فقد احبنی و من ابغضک فقد ا بغضنی و 
بغیضک بغیض الله فالویل کل الویل لمن ابغضک '' 

حعفرت ابن عمام راخ ل کرت ہی سکرحرتت خیصلقم نے حضرت ےل ان ای طال بکی 
رف دنیکھا اورظر مایا ( ےی )تم دنیا اورآخرت (دونوں ) یس مردار ہو۔ چس ن ےت مکو 
زخصت رکھا ا نے بک وت کاو رشن ےت وشن زان نے موک ون ادا 
زنن دا کا زع ے۔ اس گے اوراأمول سے انس رج مکو 7 وت 


(اورااہسار ۸۰ 


سز رد ۲ب رو ند وت روز لاح اک لاح را سو مود تہ اسر تا ا ا مل ا شف سرد زیر ہو رر دز رر زیو ر- روہ ایل جلاع اد رد راغ رو و اد مھ اروا ہل از بر و تر یرود جا نوم و جو ور نع لا 


س .۔] ‏ 4 :. ٠‏ 
شی مر ہرنے دامےےاضجا مر ے) 
امحرج احمد فی المناقب عن علیٗ قال جلس النبی صلی الله عليه 
و سلم فی حائط فضر بی برجلە و قال ”قم فو الله لا رضینک انت احی 
و ابوک والدی فقائل علی سنتی من مات علٰی عھدی فھو فی کنز الجنة 
ومن مات علی عھدک فقد قضی نحبہ و من مات بحبک بعد موتک 
ختم الله للە با لا من والایمان ما طلعت شمس او غربت “ 
اٹہ نے کاب منا قب میں جطر ت کل سے ردای تک سے تعثر ت گنا فر ماتے ہیں 
”یک مرتب )ا حفظرت نی عم ایت دبوا کے پا کٹ ریف فر ما ون اود جک پیر کے ارہ 
سے انایا ادرف مایا خدا کی ۱ رکم سے داصی ہوں کم مر ے بھی ہداورتہارے باپ مر ۓے 
باپ ڈیں( ا ےل ) جومی ریسفت کے خلاف اس سے ہچ گکرو۔جومیرےطریقہ پر( یل 
کم برا وو لت یں ے۔اور چوقہار ےظر یقہ پر چلادہ( گی )اہنۓ ( سید ھے )راستہ ہے 
نا اورخقت تن اکا اور ہے بحدتشہارٹی عحبت شی مر ےگا خداوندعالم ا کا خائضہ 
گی دا مان کر ےگا( ادد یچ ہے اج بک کک ہورم شا یاڈد تار ےگا '(یتنی اون 
کےط رقوں پر ین والو ںکا انام قیام تک کک رے ) 
(صواعق محرفهہ )۱٢۲۳١‏ 
(ورسالت الضبان ۱۵۵) 


(ع کا فیصل خد اک فیصلرے) 
عن اہن عباس ان النبی صلی الله علیہ و سلم اشتریٰ من اعربی 
ناقة بار بعة مائة ذراھم فلما قبض العرابی المال صاح الدراھم والناقة لی 
فاقبل ابوبسکر فقمال ”اض فیسما بینی و بین الاعربی “ فقال ”القضیة 
واضحة الاعرابی یطلب البینة“ فاقبل عمر فقال کا لاول فاقبل علی علیہ 
السلام فال ''اتقبل بالشاب المقبل؟“ قال ”نعم “' فقال الاعرابی ”الناقة 
ناقتی والدراهم دراممی فان کان محمد یدعی شئیا فلیقم البینة علی 
ڈذلک '' فقال عليه السلام ”خل عن الناقة و عن رسول الله سی 
قفاندفع فضربه ضربة (فاجتمع اھل الحجاز اه رمی براسه و قال بعض 
امل العراق مل قطع ممہعضوا) فقل یا رمول الہ نصد فک علی 
الوحی ولا نصدقک علی اربعة مائة دراهھم “'فالعفت ابی صلی الله عليہ 
و سلم الیھما فقال ”ھذا حکم الله لا ما حکمتما بہ“ 
رت امک نبال سے ددایت ‏ ےک قطرت علخ نے ایک اخرالی سے ارت 
درجم پرایک ناقہ خر یدا۔ جب اعرالی مال ( ددم ) نے کان چلا نے لا اک ودم اور فا می سے 
یل ات میں حخرت ابوبک رآ نے رسول ے الن سے نر مایاکی نمی رے اود انل ممرداعرالی کے 
ض23هەه2+ج ‏ رت الو ےکا ”ما مہ ظا ہرز برا رای دلیل ما انا ے( اڑا ک یکر : 
یل پٹ کل چا ےک آپ نے ا کو چا سدر ہم دئئ )پ رج ر٣‏ و یس 
کہا جھ اول (ابو گر ) ن ےکھ تھا۔ ات می جعفرت گی علیہ انام آتے ہد دای 
دئے۔ سو انے 2اس اع رالی سے )لو ر٠‏ کاٹ انس نے دانے جوا نکیا فیصلہ مان گا ؟ اس 


ےا ھا ای ردق یا رھرحا 
ڈو کر تے ہیں قذا نکواتنۓے ولوئی پر دلیل لاٹی ایت حر تل ن تن مرح (صسل ) 
رما ”(رےاعرالی )نا ہکویچھوڑ دےاوررسول اف کے متاممہ سے پا آ مان اعرالی نہ مانا تو 
1پ نے ا کو ایک رب ائی(ائل تا زیچ ہی ںکیآپ نے ا کو لکردیااو رض ایل مرا 
کاخال ہے لی نپ ئے ائن کم اکوئی حض کاٹ دیای ھا یصو اللہ مآپ پروی 
(نازل ہوئے )کی قمد لت نکر تے ہیں( اورلی نیس طط بکر تے بت کیا جیا سودرچھ بآ پک 
ری نکریی گے ؟“(ایس فیدل حر ) حضرت میصلق حضرت اوک اورتضریت عم رکی طرف 
مود ہو ۓے اورڈ ما اہ سے مد اکا فیصل:نک روج سکوقم لوکوں ن ےکیاتھا'' 

(صواعق محرقه ۱۳۱ ونور الابصار ۹ے) (قضاء )۱١‏ 

(٦) 


ان رسول اللہ صلی الله عليه و سلم کان جا لسا مع جماعة من 
اصحابہ فجاء ۂہ خصمان فقال احد ھما ”یا رسول الله ان لی حمارا وان 
لہذا بقرۃ وان البقر ة قتلت حماری.فبدار جل من الحاضرین فقال 
لاضمان علی البھائم فقال صلی الله عليه و سلم 'اقض بینھما یاغلیٗ “ 
فقال علی لھما ”الانا مرسلین ام مشدودین ام احد ھما مشدوداوالأخر 
مرسلاً؟“فقال ”کانالحمار مشدوٰڈاو الیمرةۃ مرسلت وصاحجھا 
معھا“فقال علیٌ ”علی صاحب البقرۃ ضمان الحمار''فاقر رسول الله صلی 
الله علیہ و سلم حکمہ و امضی قضاله“ 
خفرت رسو لسلتمابنے اما بک ایک جماعت کے سات نشیف ری تےکہ دنس 
آیں میس لڑتے جنکمڑت ےآ ۓ اوران میں سے ایک ن کہا ا رسول ای می ری ککگدھاتھا اور 


اسر تضیٔ 107 
کی ری ای رع اریہ 
ردان پیلک میں (ا بی حاض بین میں سے اہی بول اھ اکچ پالوں پک ذمداری 
کی ( چوک یڈیل فلا اس لع ) تحضر نے فر مایا یا تن دوٹوں کے درمیان ڈیصلہ 

مر تل نے ان دوٹوں سے ہہ چھا ”اد +گمدھااورگاۓ کھلے ہوۓ تھے با بند سے 
ہدئ با ایک الن می سے بندھا ا ھا اور وم ھا بہوا؟ انس ن کیا ” گمدجمابندعھا ہوا ھا اور 
ما ےکی ہوئی او رگا ئۓ کا ما لک ای گا ۓے کے بای بی تھا“ حر تک ما تا ےکا 
ال مد تھےکی(موت )کا مددار ہے حضرت رسولی نے اىیعلمک انا اوریی فیصلِگریا'' 

(صواعق محرقہ ۱۲١‏ ونور الابصار ۹ے) 
)٦۳(‏ 


(علی کے فصلہ بررسو ل کا سض 
اخرج احممد فی المناقب عن حمید بن عبدالله بن زید ان البی 
صلی الله عليه و سلم ذکر عندہ قضاء قضی به علیٗ بن ابی طالب فاعجیہ 
وقال 'الحمد لہ الڈی جعل فینا الحکمة اھل البیت “ 
ات نے منا قب شی لتربدرائن ابد داہن ڑ ید سے ددای کی ےک ضعقرت نیا سےنعضر تن ابن 
لی طالب کے ایک فیلکت کہ 1کاگیاتذ آپ پیھک اھ اورفر بای ” اس خدا اشک سے جنس 
نے اکم اہلیبت لم یکم تکوقراردیاۓ“ 
(مرقاۃ شرح مشکٰوۃ جلد ۵ ص ++ہ) 
(٦٢)‏ 


(نخر تی کے فیصل کا اک منظر) 
حتی اتی حلقةفی المسجۂ فیھا رجل اصلع فقال ”ماتریٰ فی طلاق 


المر تضیٰ 6 
مہ بر رت تمس ناسل قل ایاعر 
”تطلیقعان “فقال احدھما سبحان الله جٹناک و انت امیرالمومنین 
فمشیست معناحتی وقفت علیٰ ھذاالرجل فسالتہ فرضیت منە ان اومئی 
الیک فقال لھما ”اتد ریان من ھذاقالا ”ل“ قال ”ھذا علیٗ بن ابی طالب 
“شھد علی رسول الله (ص) لسمعتہ و هو یقول "ان السموات السبع و 
الارضین لو وضعتافی کفة ٹم و ضع ایما ن علیٗ فی کفة لرجح ایمان 
علی بن ابی طالب “ 
تعفر گر کے فی دوش نے ادا کر کے اق کےنتحلق سوا کیا ۔حضرت 

ران دوفو ںکوساتھ لن ےگس یش ایک تس (ححضر تک کے پا کے چھان دو( حضرت 
شی اپنے اضححاب کے علق می ں نشیف رھت تھے۔اور یہ بچھا ”گنر کےطلاقی کے پارے میں 
ار نکی کیا راغ ہے ؟ حر ت کیا نے اپنا را ٹھایا او رن کی انی اور بی کی نکی ے اخارہ 
فمابا تفر تعھرنے ان دوٹو ںآ دمیوں کہا ”دو طلا ٹیش فان دووں میس سے ایک تن کہا 

داوداہ جم آپ کے پاس اس مل ےآ ےت ےک ہآ پ ام رال ون ہیس (اود فیص کر میں کے ) 
ناپ رارف کے پایس لا ہے بس نے صرف اناو جوا تد داوس سان 
فیصلہ سے اض یبچھی ہو گت رتکمر رن کہا کات م لوگ جا 6 کی بیکالن ٹیں؟''انمہوں نے 
کہا ”یں 'حعفرتعر رن ےکھا نیک ان لی طالب ہیں جن کےٗتلق می سکوای دی ہو ںکہ 
وی نے ول اوش کت ہے سنا اکر عمق ںآ مان اوزز جن اک ہہ پراورٔکاایمان 
اف لہ ہرود یاجائے (اودنز لا جا )تو کلْ کےابیھا ن کا پل جک جا تن گا 
(ذٰخائر عقبی )۱٠۶‏ 


( الین نصرالی در ادن یں ) 

روی با ستادہعن سلمان الفارسی فی حدیث طویل یذ کر فیه 
قدوم الجاثلیق المدینة مع مائة من النصاریٰ بعد وفات النبی (ص) و 
سواله ابا بکر من مسائل لم یجبه عنھا ٹم ارشد ال امیرالمومنین عليه 
السسلام فسآلہ عنھا فاجابه فکان فیما سأله ان قال ”اخبرنی عن وجە الرب 
تبارک و تعالیٰ “ فدعا علیٗ بنار و حطب واضر مه فلما اشتعلت قال عليه 
السلام ”این وجە النار ؟'' قال النصرانی ”ھی وجه من جمیع حدودھا “قال 
'نذہ انار مذیرۃمصلوعد لابعرف وجھھا وخالتھا لایشبھھا وللّه المشرق و المغرب 
فاینما تولوا فٹم وجہ الله لابخفٰی علٰی ربنا خافیة“ 

حفرت سلراان ذاریی ایک لویل حد یٹم دی ےنس ٹیس دسول ال مکی وفات کے 
اق کےایک ونصسارکی کے ات دینج آن ےکا کر ہےےاود يک اک نے مفثرت الوکررے 
وس اتل ددیافت لان د0جواب دددے ےگ مال نکوتضرتتلی کی خدمت می حاض رہ 
ن ےک ہدایتک یی چنانی ا نے محخرت لی سے مس کل چو ین ےاورآپ نے اس کاجواب دیا۔ ان اتل 
ٹس ایگ م تہ یش تھا ”امیا ) آپ مھ با ہے خدا کا رہکدھرے؟''نعخفر تل ن ےآ گ اور 
جلائی جا والیگکڑئیمواگی اورک وجلایا جب شتبنک! ھ2( اشن ) سے مہ ھا تا ا سن کا 
چس رف ہے؟؟''نھرائی( اشن نے جواب داش ا لکا جرد اس کے مرو رف ہے آپ نے 
فان اگ ج بتائی ہو ادرمسنوکی ےا س کاچ ہق پا ناکیس جاسک ماق بر سآ ککا ال جواس سے 
ما یکس ہے( کی ےا کاچ بنا جا سا سے یادکھ الیمشرق اوخ رب میس جرف ہے ؛جھر 
مزکردیکھو گے أسیطرف خدائ رو( جل ہے (لقینکراو کول یشید نز مارے پا ےےدانے(خدا بر 
ٹیش“ (قضاء ٥ے)‏ 


”طبزےر رسو لی خلافت ً 


عن سلمان الفارسی قال سمعت رسول الله (ص) یقول ''خلقت 
اناو لی بن ابی طالب من نور یمین العرش نسبّح الله ونقد سه من قبل ان 
یخلّ الله عجزو جل ادمٌ بار بعة الاف سنة فلما خلق الله دم نقلنا الٰی 
صلب عبدالمطلب و قسمنا بنصفین فجعل النصف فی صلب عبداللهز 
جعل النصف فی صلب ابی طالب فخلقت من ڈلک النصف و خلق علیٰ 
۱ من النصف الاخر واشتق الله لنا من اسمائه اسماء فالله محمود و انا 
محمةّ واللّه علی واخی علیٌ و الله فاطر وابنتی فاطمة و الله محسن و 
ابتائی الحسنٌ والحسينٌ فکان اسمی فی الرٌ سالة و النبوّة وکان اسمة فی 
الخلافه والشجاعة “ 
خفڈر یں سارازن ای کی اش نک یں نے تعفریت ینوی خر با تے ہو ورئے 
نا آخحض ری ملف مارے ت ےکی حفر تآ دن کی پیدائٹی سے بر زار بل پیل می اور 
ایک بی پورےگبین جس پیا ہہوئے ریف وا ا7 تو و کپ ا 
نے تعفر تآ 3مک پیراکیا نب حضرت بد المطط بکی صلب میں تل لکردہئے مت اور ہار ےفورکو 
دوحوں می ل نی کرد اگمیا۔ ایک نص فکوصاب شحضرت بدا یی رکھاگیا۔ادرددصرےتص فک 
عفن (لوطالب کے صلب یں رکاگل پپلدٹصف سے یں پیداکیاگیا ادوس رےتصمف 
عفر تک پہدرا کے گے ۔اورغمزانے ابے دی اموں میں سے پچھ نام ہعاارے _ل نپ 
ف اے۔ یں الڈمود ے اور می تقد ہہوں۔ ائلدائلی ( بعد ۲ ہے اورمہرے بھائ گنا ہیں ۔القد 
اطر( پیر اگمر نے والا سے ب اود مر ابی فاعل سے۔اورائڈیشسن (ا سا نکر نے والا م۲ سے اور 


سز ا سو عو ند یسر لح وا سد یہد عوا یرد و یرد دسدہتور و نوز ناس ا حا گا عم ید مد بد سیر را نھد عر: حر غ-. .ہز خر طف رس .زع ال فوفس ارہ نا زارف ا ا یل سد قد چ۳ :مد لد تقد حا خر <غصرت رو خر یودھزر۔ رس ا درد از رد دم حا ددع 


مر دولولا بیج صن او ریمع ہیں یں میر امام (سلسلتیہ ) رسالات ونہوت مج سے(اور 

: قیامت تک ر ےگا )اور کا نام (سلسلع ) خلافت دشیاععت بی ہے(اورقیات کک ر سے 

۷" (٘حضاتصض علریدو فرائد البنمطین) 
(ے2٦)‏ 


) آفضریتگینبوتاوتخضر کی خلاف تکاس اتنس ران ) 
انی و الله ما اعلم شا بافی العرب جحاعء قرمه بافضل مماقد جنتکم 
بخیر الدنیا والا خرۃ و قد امرنی الله ان ادعو کم الیە فایکم یوازرنی علی 
ھذا لا مسر علی ان یکون امحی و وصیی و خلیفتی فیکم قال فا حجم القرم 
عنھا جمیعا و قلت و آئی لاحدثکم سناوار مصھم عینا واعظمھم بطنا 
واحمشھم ساقا آئی یا نبی الله اکن وزیرک علیہ فامذ برقبتی تم قال ان 
ھذا ای ووصیی و محلیفتی فیکم فاسمعوا لە وا طیعرا قال فقام القوم 
یضحکون و یقولون لا بی طالب قد امرک ان تسمع لاہنک و تطیع ' 
( اعت کے جن سیا کیرک خانے کے نز اکا ام ہواکا بنھو تک لک رکا اعلا نکیا 
جاے۔ چنا مچ نے مس دارا نترب کیا ذو تک اود جب س بکھائے سے ٹار رح ہو ئل 
آپ نے سب سے قطا بک کےافرما پا( ےردارا نت یش )”دا انم یش عرب ہی ںی 
جوا نئال جانا جوا نی تم کے پائس دہ لا یا ہوجو میرکلا کی وئی چ( دن الام سے جو 
۲ تہارے پا لا یاہوں۔الضل ویہتر ہو۔ میک ہار ے جاک دنا او رآ خر تکی ایلیا 
ہوں۔اورغمدانے بھےمگمد یا ےکی تم لوگو ںکوا(دمین )کی طرف وت دوں ( جا )تم 
یس سےکون سیا الیہا اض ہے جوا کا سم میں می راہ انح با ۓ ما کروی لڑگوں ٹس می راپھا گی می را 
بی ء( قائم مقام)اورمی اغلیذہ ہو۔'( آحضر کی ان سآق مایا نے جواب نہدیا) تام 
لگ نام ر ہے ہا ںت فک تعفر تک نےقم مایا( ما رسول اللہ یناو جود یک می اسنا ان سب 


رر رر رر در رر ں ڈگ رر ا رگ رر رو اہ ا ا ےس تی رم حسکتہ یہی نرہ تم یھت دججیفدم ںید 


لوگوں مسب ےکم ہے یرب ی یں ل اہی ہشیت بت سے اگنرورہیں کم پچھارگ اور 
پنڈڑلپاں (عم کے اخقپار سے ) پنگی ہیں ۔ یھی میس( انس لد چھ کے ا ان ےکوتیارہول اور ) آپ 
کاوز مر ہوںگا'' حطر ت کلف مات ہی کپ جنر نے می ری لکمردن پہ بات رکھااورطر ایا( دمھو) 
بیمیرے بھالی:میرے ویھی ؛اورتملووں بیس می رےغلیفہ ہیںں ' تم سب ا ناکم مانناا درا نکی: 
اطا عم تک ر نال( یک نکر )تما درا نت بی مت ہودۓ أ کے ہد ئۓ اور جناب 
اوطا لب ےکا( تہارا با مود تا ےکیتم اپنے بے (علن کی ہٹس س ناكم روا و را نکیا 
امام تگپالرو' (طبرانی جلد ٣‏ کامل جلد ٣‏ ص )٢٢‏ 
)۸) 
(غلاٹ کے متورقوت ) 
(قال رسول الله صلی الله عليه و سلم ) ”ان تولوا علیاتجدرہ 
ھادیا مھدیا یسلک بکم الطریق المستقیم “ 
رسولی این ےر بایا''اگرخم لو یکو والی (اد رمیا خلیفہ بلا صل بنا گے نم لوک 
رید موہ پش 
کے اورقم اوگو ںکوضص رای لیم (خداکےسسد ھت راستہ )ھی نیس 
بے ۵۵ئ)( 
(قال رسول الله صلی الله عليه و سلم) یا عماران رأیت علیًا قد 
سلک وادیاو سلک الناس وادیا غیرہ فاسلک مع علیٗ ودع الناس .انه 
لن ید لک علی ردیٰ ولن یخرجک من الھُلے “ 
آضرت' نے عمار بن بارس خر مایا اے نماد اگرتم عفر ت کل کو ایک راسنہ پر 
چلنا ہوا دیھواورلوگوں (ہاتی مھا کوحض رت کے راستیہ کے علاذہ دوس ۓ راستہ پر پیلیا ہوا 
یھو یا کو اقم حرتل جی کےراست پر چلناادرتماملوگو ںکوچوڑد ینا کین یب یت کو 


نود :نیس نہ سس سو پچووفشداوسوصوستددس سد ی2 ٭سس اد سد 


جا ہے ہت ۹‌) 

(قال رسول الله صلی الله عليه و سلم ) ”یا معشر الانصار الا 
ادلکم علی ما ان تمسکتم بە لن تضلوا بعدہ ابدا ھذا علی “ 

ارت ن ےگ زدوافصار سے خلا سک کےےٹر مایا کرو والصا رآ کاو 4 اڈ شی 
کوام یپ کاپ نا اہو ںکم اگ رتم ا کی ییروٹ یکرت رة کےذ ب یراو نہہو کے اور وت 7 
سی یں (کنزالعمال جلد ٦‏ ص )۱۵٦۷‏ 

(ممکودہ پالا احادبیٹ سے صاف ظاہر ےک ہآفضرت' نے انفرادکی اور انتا گیا ہر 
ضیشیت سے خلا ف ت تعفر ت کا اعلا نف ماد ما تھا ولف ) 

)٦۹( 


7 آ سے 
( رت بی خلیف رو ہیں ) 

فی المداقب عن سعید بن جبیز عن ابن عباس رضی الله عنھما 
قال قال رسزل الله صلی الله علیہ و سلم 'یا علیٌ انت صاحت حوضی و 
صاحب لزائی و حبسب قلبی و وصیی و وارٹ علمی والت مستودع 
سواریٹ الائبیاء من قبلی و انت امین الله فی ارضه و حجة الله علی بیته و 
انت رکن الایمان و عمود الاسلام و انت مصباح الدجیٰ و مار الھدیٰ ر 
العلم المرفوغ لاھل الدنیا یا علی من اتبعک نجی و من تخلف عنک 
ھلک و انت الطریق الواضح والصراط المستقیم و انت مولا من انا مولا 
۵ وانا مولیٰ کل مومن و مومنة لایحبک الاطاھر الولادۃ ولا بیغضک 
الإأحبیثٹ الو لا دق“ 

کراب مزا قب میں سعید جع جبیر نے حخرت ابن عبال سے دوای تکیا ےک 


المر تضیٰ 114 
کے وو اش کش ہے 
لوا جھر کے حائل ل(د ناش بر 2 دوست ‏ می رے ‏ گی اور رے لم کے وارث ہو _اور 
بج سے بسلے جا انا ءکرا مگنذد جک ہیں ان س بکی مرا ٹپ ینخم یک وپ رد کی سے تم دای 
زین پر خدا کے این ءادد خدا کی مخلوقی پر ا یکی مجت بونم ایمان کے رن ءاسلام کے 
ین خی سخ تس نت سار دن لونک لئ نا و ا ےکی نین 
ارگ پیرد یکم ےگ دو لدع ددٹائی باشجات پان ےگا او وٹ مکیچنوڑ د گنا دو پلک گا 
(او رہم یس جات ےکا تم تی دا اورسیرعارا ستعہ ہو اورمیش ہیک یکا موا ہو ں ٹم بھی ئن تھے 
موا ہو اور یں عرش کن اور ج موم کیا مو[ بہیں جس ل ےمم بھی ہر کن وم وہہ کے م ولا ہو 
علال ز اد مکودوست رگا اورترا ماد وین :رک ےکا" ' (ینابیع المودۂ خ۳ٰ) 

ر(ەے) 


( الو رر واورظلائت )کااعطان) 

عن ابی ضریره غن سلمان انه قال ”قلت یا رسول الله ان الله لم 
یع نبیا الا بین لە من یلی بعدہ فھل بین لک “ قال ”نعم “ علیٗ ابن ابی 
طالب “ 

(شرح بخاری علامہ این حخجر ضبھلانی پارۃ 1۸ ض (1۶) 

الو ہریرہ نے ححضرتسلمان فارکی سے ردی تکیا سے ححضرت سلمان نے ون کیا 
یارسول اود خدانے نس ن یکنا ائ کو تاد گال کے بدا کاو بی (اورخلیشہ )کون ہوگا نے 
کیا آپ ےےکجھی خدانے فر مایا ےک ہآ پکاوی (خلیفہ )کون ہوگا'“( آحضرت نے ۴ فر مایا 
مان ھررمے می( اورغیف )۶ یجن ای طااب ہوں گ' 

(شرح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی پارہ ۱۸ ص )٠۰۵‏ 

عن النبی صلی الله علیہ و سلم قال 'اذاجمع الله الاولین 


نا کہ نا حا ظا مک بلا ہے وع جو جو ہو وو نے عق وید نھد ا لہ لگا کہ لاگ- گا ×ا سی لاس کات .ا وت خد ‏ لاسرفہ لغ نابز اسیو ود یتوہ ور مود .× ھ ×. ہہ سا بدص- ا سس طا: ‏ 5 ج.- لا سرا لل مضہ لا سیآ سر اہ زاس عو زس راس ور جو نید نود شید رود تد 


والاخرین یسوم القیامة نصب الضراط علیٰ جھنم لم یج زعنھا احد الامن 
کاشت معہه براء۔ةۃ بولایة علیٗ ابن ابی طالب (ایضا اخر ج ھا الحدیث 
موفق بن احمد بسیدہ عن الحسن البصری عن ابن مسعود ایضا اخحرجه 
موفق بسندہ عن مجاھد عن ابن عباس رضی الله عنھما) 

عفرت نی للقم نے فر مایا جب قیاصت کے دن خدا گے اور ہلوگ و ںک ون نک رے 
ا پمپ پہ لی ضرا اص بحکمر ےگا اوداں بر سےکول گر رنہ ےگا سوائئے انس 0ک 
6 ہے !؟'"' نی اس بل بر سےا یگندر گا جوصحضر تی اوخیفہ 
اداد رآ پک کحبت اور پروی ارتا ہو )اس حید بی ٹکو موف٠ن‏ این اتجد نے تن گی سے اوران 
مسودے اورمیاپراورائن عباں سیف لکیاے۔ (ینابیع المودة )٣١١‏ 

(اے) 


”ضا لئ ےعلق رسوی کے دا شادات“ 
(سما بش الا یمان مین ہیں ) 


اخرج الدیلمی ایضا عن عائشة والطبرانی و ابن مردویه عن ابن 
عباس ان النبی صلی الله عليه و سلم قال ”السبق ثلائة فالسابق الٰی موسٰی 
برشع بن نون والسابق الی عیسلی صاحب یسٰن والسابق الٰی محمد علیٔ 
ابن ابی طالب . 

( اس حد بی ٹکو ) یی بھی حطرت جا ئشہ سے اورط رای وابین مردویہ نے ضرت 
ابی عباس 12 ےکآ حضرت نے فر مایا (ایمان یس )ا سیقت نے جانے دا لے ٹین 
ہیں (۱ )پش بن ون نے سب سے چپ محضرتہ موی( کی نبوت )کی تقد لی کی )٣(‏ صاحب 
یں نے سب سے پیل جعفر تج یکی (نو تک ) تد کی )٣٣(‏ اورحضی تل این ال 
طالاب نے سب سے پیل ”عفری نہ در( کی نہوت کی تحمد یق فر می 


المر تضیٰ 116 

7 ہے لسلست راو ہا 

عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلی الله عليهو سلم 
''الناس من شجر شتی و انا و علیٗ من شجرة واحدة " 

صحفرت ہاب بن بدا کی ہی ںک ہآ تحضرتےمصلقم نے فر مایا ”لو کلف درٰتہا ئے 
عاب سے ہیں ۔لن می او لی ایک جیا کو بی شائیشس ہیں 

(صواعق محرقه "0م" 
(ے) 


(صث ہی مین ٹیں) 

اخرخ ابو تقیم و ان عغسا کر عن ابی لیلة ان ضول الله صلی الله 
عليه و سلم قال ”الصدیقون ثلاة حبیْبّ النجار مومن ال یاسین قال یا قوم 
اتبعوٴ'المرسلین و حزقیل مومن ال فرغون الذی قال اتقتلون رجلا ان 
یقول ربی الله وعلیٗ ابن ابی طالب وھوا فضلھم “ 

الوم اورایح عسما کر نے الو سے رواجی تکی ےک ہآ تحضر صلقم نے فرمایا 
” صمد یق مین ہیں۔ 
 )1(‏ عیب نجار مو نآ این نہوں ن ےکہاتھا ”ا ےق م دالس ری نکی پر یکر ۔ 
(۲) 3 ایل موم نل فرعون جنہوں ن کہا ٹا" یتم ا سح کا لکرنا جات ہو ج تا 
کال مر ا روردگار ے؟'' 
(۳) نبال طالب ادرددان دونوں (حویی مجارا ور ٹیل )سے ال میں“ 
۱ (صواعق محرفهہ ٠ ۲٢‏ 

اخرج البیھقی و الدیلمی عن انس ان النبی صلی الله عليه و سلم 
قال ''علیٌ یزھوفی الجنة کک وکب الصبح لاھل الدنیا“ 


سمش عرجچدس ہی وم +ودسجج ہزرہ ان ا انا اکا نیا ا میں سک اک ایا ناک شک 


-٭د چی۳ سی ا یت 
(صراعق محرقهہ )۱٢١‏ 
(٣ءے)‏ 
)یی ایا اک ا امم وظیرت) 

۱ اخر ج ابن ابی شیبة عن عبدالر حمٰن بن عوف قال لمافتح رسول 
الله مکۂ انصرف الی الطائف فحصر ھا سبع عشرة لیلة اوتسع عشرة 
لیلڈٹم قام مخطیبا فحمد ال واقنی اب لم قال "ویک بعترتی خیرا وان 
موعد کم الحوض والڈی نفسی بیدہ لیقمن الصلوۃ ولتوتن ال زکوۃ ولا 
بعٹن 'الیکم رجلامنی او کنفسی یضرب اعنا قکم ثم اخذ بید علیٰٔ رضی 
الله عنه ٹم قال هو هذا“ 

ان ای شیب نے عبدالاشن رن کوک سۓ رواب کی ے >رل الد تا لن گے 
طیا لن فتش لیف لا ۓ اود طا ن کا ست ہیا ای رات مھا حرہ سے ر ہے ۔ پچ رآ پکھڑنے 
ہو ۓ اوداوگو ںکوخطا بکمر کےا رک یت ربیف دشا کی ادرف مایا( اے لوگ ) میس ای عتزت کے 
سماتھتد ا کنیا سلو فک ن کیم س کو وعی کرت ہوں اد و یکو تم تی گی عددگاد ے( من 
میس توف کوٹ رق سب سے مو ںگا )او رم ہے اس فا تکی مس کے فعض قد رت شی مرگ جان 
ےکم ضرورنما ودج ربراور زگا اد تۓ رہبراور یقیاً یی ںیم لن ایک ات ہادر ولوگگوں 
و جویھ سے ب گا یا می رے می ایہا ہوگا۔ جو( اگ رم ش رلیعت کے راسن ےبہٹ گئلز )تہارگی 
گمرومیں اڑاد ےگا چلرآب نے حضر تک کا ات پکرا ادرف مایا دومردییہ ہے رق یہ ہی 
مر ےئ متام ہوں گے اد مکود ین کاراست با خیں گے اور گرم ش ریشتت اسلام سے ہٹ گے 
وخخم سے چہارکر بی گے ) (صواعق محرقه )٣۱٢٢‏ 


ند مد ڑا رود یڑ تع غیت کا یلد ا ید ا ہد لد بد ععہ رید عواا یعس درد نرہ یی با یچ رات رہ نیرت رد بر ود ععرت موا تر ا لوس لاد اب اد لد اہ ×ط می ا یع ید عم لد عیدد لاہ دج .اک ید یدع د :کا عی- اعد کا ہی طلہ عق نے ا سا سیر لق سی ری علق ھا ید لت زا سی و عو سی و عو جج 


( فرش حر لی کےکھ کے ناوم تھے ) 
اخرج الملأفی سیرتہ انه صلی الله عَل و سلم ارسل اباذرینادی 
علیا فرأای رحی تطجن فی بیته ولیس معھا احد فاخبر النبی صلی الله عليه 
وٍسلم بذدلک فقال ”یا اباذر اما علمث ان لله ملائکة سیاحین فی الارض 
قد زکلوا بمعوتڈال محمد صلی الله علیہ و سلم “ 
۰لا نے اپ سرت مآ کیا ےک( لیک مرح ) آتحضرت' نے رت اذ کو 
ریت کے نے کے لھا تفررت او نے خفت اع نگ یں این بی لن 
( خودخود) یل رت ای اوروہا ںکوئی ذرتھا۔خخفرت ابوزر نے ائس پچ کی حضرت رو ل مل موقر 
یا ۔آآپ نے فر مایا اے او رک اص بی ں یں معلو مکہ خداوند عا لم کے پجھفرشت ز نین برکھو ا 
کرتے ہیں ج نکوخدان ےآ یھی خدمت کے لن مقمررفر بای ہے(اذا تل کےکھ میس 
مک یکا نہہونا اور یکا خو دنو دچلنا پا عد تج بی سکیونہ ال کا لا نے والا فرش تھا ) 
(صواعق محرقہ ١ك١)‏ 
عن ابی ایوب الائنصاری قال قال رسول الله صلی الله عليه و 
سلم ان الملالکة صلت علیٌ و علی۔علی سبع سنین قبل ان یسلم بشر“ 
جخرت اواب الصارئی نے نطرت رسول صلتم سے رداجی تکی ہے ۔آپ مے نمیا 
ضبکوٹ بھی اسسلام من لا یا تھا ای سےسمات بی لے خدا کے ا لے بے براورتضر تل 
درور بڑتا“ ینا الموَۃا 0097 


(غپ مرا ( 
عن ابن عباس رضی الل تعالیٰ عنه و بلال ابن الحارث و ابی 
حمراء قالو اقال رسول الله صلی الله عليه و سلم ”لما اسریٰ بی الی 
السّماء رایت علٰے ساق العرش مکتوبا لااله الا الله محمد رسول الله 
وایدته و نصرته بعلیٰ . زارجح المطالب ۳۵) 
تعفرت ائن عباس ہ لال اور ال خراء سے رویغ ےک رت صلقم نے ف رمیا 
”جب ججھے(غدانے )شب م رارع ہلا یا قش نے ساقی عرش ب لگا + ود میھا۔ لا الہ الا انڈ رخ 
رو اداد پیش نے ان لم ) کی تادراو طصرت تحضرتکلی کے ذو بی دکی' 
(ار جح المطالب ۲۵ ) 
(قال ابی صلی اللّٰه علیہ و سلم ) رایت لیلة اسریٰ بی مثہتا علی 
ساق العرض آئی انا الله لا الہ غیری خلقت جنةعدن بیدی محمد 
صفوتی من خلقی ایدته یعلیٗ نصرته بعلیٗ “ 
حفرت بی صلعم نے ف مایا ”معرا ع کی رات ساقی عرش پہ ٹس نے بیککھا داد یکا 
نس ىی ممدا ہہوں ۔میرے سو اکوئی خد انی ۔ یس نے عدا نکی جن کو اثنۓ پاتھ سے پیا 
کیا مض تم ینحلوق میں برک دہ ہیں۔ بیس نے ال نکی تا تیراو رت ین لن ےکا 
(کنز العمال جلد ٦‏ ص ۱۵۸) 


(حضرت تام صفات انا کے عائل تے ) 

قال رسول الله صلی الله عليه و سلم ”من اراد ان ینظر ال آدم 
فی علمہ والی نوح فی فھمه والی ابراھیم فی حلمہ والیٰ یحی بن زکریا 
فی زھدہ والی موسلی بن عمران فی بطشه فلینظر الّی علیٌ بن ابی طالب“ 

عخرت رسول اوڈرصلقم نے فر مایا ”جو٘ش پا ےک حضرت آ و مکو ان کے مم 
ج .حر تو غکوان کک می ۔حضرت ابرائی مکوان ک یلم می جعفرت نی بن رک ریو 
ان ہنی اوزتفف رت زی جن عمراا نکوا نکی طاقت ٹیس د کے ان سکو جا ی ےک تحضر تل 
بن الی طا ا بکو دہ نے (ریاض نضرہ جلد دوم ۲۱۸) 

عن انس ابن مالک قال قال رسول الله (ص) ”مامن نبیالاولد 
نظیر فی امته فعلیٗ نظیری (اخرجہ الخلعی والدیلمی) 

اس بن مالیگ ہۓ رودیت ےک یضر فضلمم نے ف ایاج ن کت شال جس 
گی امت مض در ہوٹی ہے(اس امت میں )حطر تی می ری عثال ہیں '(اس روای وی 
اوردیھی نے ئ٢‏ لکیاے) (ارجح المطالب )۲٥۵٢‏ 

(ےے) 

( یا ےئ کےےتمامصفا تکیوں نہ ظاہ ری ) 

فی مسند احمد قال رسول الله صلی الله عليه و سلم والذی 
نفسی بیدہ لولا ان تقول خوائف من امتی فیک ماقالت النصاریٰ فی 
عیسی ابن مریم لقلت فیک مقالا لاتمر بملاء من المسلمین الااخذرا 
التراب من تحت قد مک للیر یڈ“ 


اپضا 


اوج احما قی مسندہ مذالحدیث بلفظہ عن ابن مسعوڈ. ۱ 
ایضا 
”اخرج ھذالحدیث موفق ابن احمد الخوار زمی“ 
نت رسوللي خُدا اڈ ےا" 2 کا ای شف شی رتشن" 
می گیا جان ہے اگ جج وکوا لکا خوف ن ہو تک( ا ےکی بھی رکی اعمت کے بہت کرو !ھا رے 
پارے بی دی اعنقاو رکھنگیں گے جوبیسا کی حفبت ٗی این ریم کے بار ے مس رھت میں 
می مھا رۓ ملق ای چند ہا تح سکچتاک رت مسلرانو نکیجنس جماعت کے پا ےگ رت وہ 
لگ برکت کے ٹل مھارے پائوں کے نی ےکی می اٹ اکر نے جانے کت ۔ 
(اسں عد بی ثگوامام اتد ہناشب نے اپنی دیس ان سود تےٹخ لکیا سے اورم ون 
امن احدخوار کی ن جج اعد یش کیا نگیاے) ‏ (ینابیع المودة )۱٣١‏ 
(۸ے) 


(ص لی بعد ی) 


قال رسول الله صلی الله عليه و سلم ”یاعلیٌ کیف انت اذاز هد 
الىاس من الآأمحرة ورغبوافی الدنیا واکلو التراث اکلا‌لمًا واحیّر المال حبّا 
جم واتخذوا دین الله وغلا ومال الله دولا ”فقلت ات رکھم و ما اختار وا 
راختار ال ورسولە والدار الأخرۃ واضر علی عضیبات الدتیار بلواھا 
حعی الحق بک ان شا الله تعالیٰ “ قال ” صدقت اللھم افعل ذلک بە “ 
زاخرجه الحافظ الثقفی فی الاربعین) 

ححضرت رسولصلقم نے فر مایا یا عاتمہاراکیاحال ہہوگا جب لو ک؟غرت سےنفرت 
رن میں گے اورد ٹا گی رف موم ہو خانشیں ےرات کے ما لکو پور ٹج رک رکھا نی گے 
اود مال کے ساتھ بہت عحب تکر یں گے۔(وو لوگ )وین خحداکوکروفر یب( کا ذر اچ )اور مال 


رر رر رنہ رر کہ ہر رہد ہا ہر اڈ تر ہے رر ڈر ٤ت‏ رر ز رر یی تی یج ہہ متلی ہبہ 


روہ اور جک گ صظ ,- پموڑ رو سے 
اور خر تکوانخش رکرو ںگا_اورو میا گی مصیمتوں اور ز مائنٹوں پصب رکرو ںگا۔ ییہا ت کفکانشاء 
ال پکی خدمت می پہو پچ جائوں“ آفحضرتصسلتم نے فر مایا ا ےنام نے ےکھا 2 جنقی 
ضرِورتم ان یں ےتا ہو جا گے اوزصب کرو ظ )ا خمدا نو یکو ای طط رع (صب کر نے 
اورچرآاورکرا 7۸۶۲ھ ۶ ۳ انا ٹین ال نالیاے) 
(ریاض نضرہ:کنز العمال جلد ٦‏ ص٦٥)‏ 
ر(وے) 


( روگ کی ایک ام تی نکوکی) 
(قال رسول اللّے صلی الا علیہ و سلم ) ”یا علیٗ ان الامة 
ستغدرُبک من بعدی و انت تعیش علی ملتی و تقتل علیٰ سنتی من 
اجبک احبنی و من ابغضک ابغضنی وان ھذاسیخضب من ھذا“ 
طفخرت رسو لک رم نے فر مایا ”نیا عی انف یب میرے بعد مراممتتم سے نے وفالی 
وک ۔اورٹم خر ے نہب پر پاگی رہوگ گے اور( گل تم می رکی سخ تکو ارگ یکر گے ا 
لے ش ہی دکردتے جا گے( ا ےی می ن نم سےمحہ کیا اکس نے مھ ےبحب تکی اد رس 
نے تم ےنفف درکھا انس نے ہج ےٹلف رکھا ( پچ رس راد رای مار کفکی طرف اشار کر کے 
ناس رن )اس ا ےون ےکک رق ہد ےکا ٰ 
(کنز العمال جلد ٦‏ ص غ۱۵2) 
(قال رسرل الله صلی الله عليه و سلم ) ”یا علی انت بمنز ل 
الکہةتوتی ولا ناتی فان اتاک ھولاء القوم فسلموھا الیک الخلافة 
فاقبل منھم و ان لم یاتوک فلا تاتھم حتیٔ یا ترک '' ٰ 


المر تی 123 ۱ 
1 إضررت لم نے فر مایا ا ےق زا کعب ہو۔ لوک نا نرکعہ کے پا جائے 
یں خود ا نہکعبہ کیا کے این جانا۔ پچ زمر ےوصالی کے بعد )اک برا ھارے پائل 
میں اور خلا تھا ر نے حوا کر یں قو لکرنا اور اکر نآ یق تم ان کے یا شہ جا ناجب 
[07ِگ7-0ٔ- دع پا غا گل“ 
(اسد الغابہ جلد ٣‏ ص ۳۱) 
(۸۰) 


۱ . 
(صےرسول) 

قالت عائشة رضی الله عنھا ان رسول الله صلے الله عليه وسلم 
لماحضرتہ الوفاة قال “ادعوا لی حبیبی قد عوا له ابابکر فنظر اليە ٹم و 
ضع راس ٹم قال ادعوالی حبیبی فد عو اله عمر فلما نظر الیه وضع رأسہ 
ثم قال ادعوالی حبیبی فد عواله علیا فلماراہ ادخلہ معہ فی الٹرب الذڈی 
کان عليه فلم یزل یحتضنہ حتی قبض ویدہ علیہ“ 
(انمحرجه الرازی) 

صحرت عائٹ لٹی ہی ںکہ جب آححضرت صلق کا دنت آخھآیال آپ نے فر میا 
می رے عو بکا ہلا ڈ''لوگولی نے معفرت الد رکو بلایا آپ نے دیکھااورمر تج( جیہ بر ) کو 
لیا۔ چلرآپ نے فر مایا 'میہر ےی بکوبا 2 لوک نعطرب تک کو لا لا ۔آپ نے ال کو دسیکھا 
اارسر یج( تھی پر رک لیا( یی خر اگ رآپ ئے ماپ تح تل لی کر ا آپ 
لگ حر تم کو ہلا لا ےج بآپ نے حطر تگ کو ویکھا ٹیس ابی حیادر نی ش سک 
آپ ادڑھھ ہو تھے نے لما اود برابر ای طرح لج رے۔ پپہا کت فک خعر تک دوخ 
مار کم افدرسق سے پ دازک کی نے آ پکا ات تحضر تک کےا تھا اس عد بی ثکواما مرا 6+7 
فی کیا نے (ریاض نضرہ ۱۸۰) 


دس شش شش جج چچ وگ وو وڈسووس 


ابی لوگویں و بی می رےخلیفہاو رجا نشین ہیں خولف) 


اتد 0 نی کعمکمسممعسمومسموکوجھھجوججچجوجیٹٹوووویویڈنججیہییہیا 


(اعادۓےواوال) 
تعفر تی علی السلا مک یخصبیت وی رسول عوالم ( خو دض لم علیہالسلا مکی 
نکاو یس 


عن عامر بن واثلة ال سمعت علیٔا قام فقال سی کول او مدوتی ران 
۴۶" 


عا مرن داشللہ کت ہی کہ یش نے معفر تک کو( ایک خطہ یٹس کو ڑزے ہوک رسکیتے ہو ئۓ سنا 
( آپ نے مر مایا) اے لوا اس ک ےکن مھ ےکھوٹیٹھوہ جب چھنا ہوجھ سے کو لو( کوک 
میرےانٹھ چانے کے ب دم رے ای اکوٹی نہ ےگا جس ےم سوا لکرس 


(مستدرک جلد دوم ۳ك"٘۵مَٗ) 


(ہو لک ری نے مر پر ون مع رکی) 

اناوضعت فی الصغر بکلا کل العرب و کسرت نواجم رون 
ربیعةو مضر وقد علمتم موضعی من رسول الله صلی الله عليه و سلم 
بالقرابة القرییة و المنزلة الخصیصة وضعنی فی حجرہ وانا ولید یضمنی 
ای صدرہ ویکسفنی فی فراشہ ویمسنی جسدہ ویشمنی عرفه و کان 
بمطخغ الغعی تم یاقمنید و ما وجدلی لب فی قرل ولاخطل فی فعلِ وٴقذ 
ضرن اللّے بە صلی الله عليه و اله من لدن ان کان فطیما اعظم ملک من 
ملائکته یسلک طریق المکارم و محاسن اخلاق العالم لیله ونھارہ ولقد 
کت اتبعه اتباع الفضیل اثر امه یرفع لی فی کل یوم من اخلاقہ علما و یا 
مرئی بالاقعداء بە “ 

ون کسی فقی ٤ز‏ نشین بے بدے با دن خزرب کے بن زنشن رگوارے 
ادرشیاعان قبیاع رجہ مر کےس رن ڑ ڈاثے(اا نکوحلست فا دبی )اور بے یکم می کی اس 
رر ومطزات اورقرابت خر یہ سے واتف ہو جو مج رسول اڈ صلتم خی طور سے حاصسل 
شی جب مین ہت تھا أحضر نے میرک پردزش اب یگکودی کیپ جھدانے سے 
ات تھے ادراپنے سرماک پراپنے ہلوس جھدلڑاتے تےاوراے یا ک ح رکوہ سس 
رت جے اور اتی ہوۓ خوش بج سوا تے جے _اد رآ پکولی (مزا) جانے ھے اور 
و و بپ کے خر ےکن ون تن وت نی نل میں اض 
نیس پائی اورنس وقت سے آنفضر تا لڑھایا گا خداوند الم نے افنے فرشتیں 
اک زنک رن رخ آلا ین کو کا بھم ین قراردبا جرردات ودنآپ 
کے ساتھد د نیا کے الا کب کے راست بے چنا اور سپ کے ہیی جییہ اس رع چا یے 


المر تشیٰ 27 
اف کا اتی اں کے کے یی چنا ہے۔آپ جرد اجے اخا قک یکول جج غاب 
فرماتے مخنےاو را کی یدک یکا رہ جا 
(نھج البلاغة خعطءہ )۲٢۳۳‏ 


)۸۲) 


(یمس بی کیم الین والزارہوں ) 

اشرج الدار قطنی ان علیٰا قال للستة الذین جعل عمر الامر 
شوریٰ بینھم کلا ماطویلا منا جملتہ 'انشد کم باللّه ھل فیکم احد قال لە 
زسزل اللَاصلی اللَُغیدوسلم*اعل اك شی الساوالازیوم 
القیامة غسری “ قالوا 'اللھم لا“ زومعناہ مارواہعنترہ عن علی الرضا الہ 
صلی اللہ عحليه و سلم قال لە انت قسیم الجنة والنار فیوم القیامة نتقرل 
النار ھذا لی و ھذالک) 

دانفنی کا ان ےک تحضر تی ے الن جن اشنانس ےم نکوتخرت مر نے شورکی 
کی کاب رقراردا ھا زادرخلاف کی مبرا نکیٹی کے ڈیصلہ چو ڑا ھا )ای لو نظ 
فر مایا سک وکا ایک جزو نے اےلوگوا می ں مکوخداک اد ینا ہوں چنا می رے علاد ہکیاتم 
ےوک ایا ےجس کےُتحلق رسول الڈصلنم نے فر مایا وکیا ےل قیا صت کے دنت ہی 
نت او رم کر[ اسر یں نے لک کیا دا بیس( اس عدیت 2 
مصعقا کس حد بیث کے ممطا لی مس ٘ سکوکز ونے اما رضا ول اکسلام کا ا جک یآ تحضرت 
ےن ریکل ےت ات نت ورک تک اوک ید 2ر 
دنم اہو گے رم اہے(مینی جنت مس جا ےگا )اور تم اے( یش چم میں ر ےا )' 

(صواعق محرقهہ )۱٢۳‏ 


) یس جی رسو لک ریم کاوارت ول ( 

کان غلیٗ یقول فی حیاۃ رسول الله (ص) ان الله یقول اقان نات 
اوقعل انشلبیعم علی اعقابکم والله لأاتنقلب علی اعقابنا بعد اذھدانا الله 
والله لن مات اوقتل لاقاتلن علٰی ماقائل عليه حتی امورت اوالله انی لاخوہ 
و ولیە رابن عمه و وارثٹ علمه فمن احق بە منی" 

تل یخلت مکی زندگی جی یں فرمایاکر تے جے 'خداوندعالمکاارشاد سے 
کیااک ررسو لی واوصال ہو جاۓ یادو شی کرد تئ جا یں تو غم امے+سل افو !ہے بے پروں 
یٹ جا گے؟ خدا کی ام جب فخداہھارگی برای تکر کا تذ اب ۴م کے پادوں ہرز نیش یئ 
کیم اکم ( مہ ) اتال غ2 لئے پا شی کے گنو می بھی انیس پانین برڑنوں ے 
ککرو ںگا جن بافوں ب قب نے جن گی۔ یہا نج ککہ یں مر جائؤوں۔ غخدا ام یس 
آحضرت کا بائی ہیں ۔آ پکادٹی ہویں۔آپ کے ھا کا با ہوں اورآپ کےعلو ما وارث 
وی ۔ ہف اھ ےبڈ 00ھ۰28 تی رار جوا 

(مستدرک جلد سوم )٣۱٢۷۲١‏ 

عنٰ علیٗ فال ''کانت لی من رسول الله منزلة لم تکن لاحد من 
الخلق “ 

فرت ملف ماتے ےکی مقر سے یھ د وق بت وزات حاصل لی جو تما لوق 
می سس کی حائصل نہ ون 


(منتخب کئز العمال جلد ٢‏ ص ۲۱۸) 


المر تضیٰ 129 


)۸۳) 
رہ نے تل بفین ماورشہروا نکی لڑ ائاں رسو لگرمم 


روی اہن عساکر عن علی قال امرنی رسول الله (ص) نقتال 
الٹاکٹین والمارقین والماسطین (والمراد بالنا کٹین طلحة والزبیرو 
اصحاب الجمل و بالمار قین الخوارج و بالقاسطین معریه) 
اع سیا نز لئے زوا کی ےک حضرت گی نے فر بای ” یہ رسول صلتم ے 
]کین ءمارن اورمامطین سے چہاۃکرن ےکا عم دی تھا( کین سے مرا:طلیروزہیبراور جنگ 
۴تل وانے مارشین ے مرادخوارر ؛ اور قةاصبین ے مراد چیک صفین ۴یس لڑ نے وائے امیر 
محاوے یں) 
(مستدرک جلد ٣ص‏ ۱۳۹) 
عن الشعبی عن علی انه قال الحمد الله الذی جعل عدونا لیسٹا 
لنا عما نزل بە من امردیة ان معاویة کتب الی یسٹا لی عن الخنٹی فکتبہت 
الیه ان ورٹه من قیل مباله “ ۱ 
شی سے ردایت ےکر نعفرت کل نے فر بای ”دا کا شک ہ کل انس نے "موا تناد 
رت خطاغ ماب اہ ما رے شک نچھی دی ا موریس چم وا لکر تے ہیں ۔معادبمتنے بادے 
پا کوک رسوا لکیاکنفٹ یکو طرح میراٹ دئا جا ۓگا۔ بی نے (جواب )لھا پش کو 
الس کے پا بکر نے کے مظام کے اتہار سے می اث د ے' 
(منتخب گنز العمال )۲٢۳۵‏ 


زی نیصر تق اکر براور فا روق ا شمرمرن) 

اس ماما احسا فی مسشااة وابو عم والقتای واتجموجی 
اخرجوا جمیعاعن عباد بن عبد الله قال قال علیٗ ”انا عبداللہ و اخو 
رسول لی فا الصدیق الا کبرلا یقو لھا بعدی ال کذاب و لقد صلیت 
قبل الناس بسیع سنین '' 

این ماجہ؛ اتد الوأم پھبچی ہو بی نے عباد من کبداش سے دوای تک ہ ےک تر تن 
فرمایا کرت تھ۔ میں بندة خدا ہوں اود رسولی: خدا کاپھائی ہوں :اور یس صصد لی اکر 
بویا مجر تنب ڑا ۓکر با عیبر ےۓ علاوہ دوس ۓےکو ٢‏ صمد لن ابر کے دہ لیا موم 
اود سے لف ا لعل ال ات اترام لوگیں بت بک ارت یی تک نماز 
وی (ینابیع المودة )٦٦‏ 

عن ابیذر قال سمعت رسول الله [ص) یقول لعلیٗ انت اول من 
امن و انت اول من یصافخی یوع القیامة وانت الصدیق الا کبر وانت 
الفاروق الِّی یفرق بین الحق و الباطل وانت یعسوب المسلمین و المال 
یعسوب الکفاء “' 

تثرت اہوزر سے ہی ںکہ بیس نے رسول الع مرکو تحت میا سے سیت ہو نے سنا 
رین تم سب سے یی میہرے او پرایمان لا ۓ اورتم سب سے بے قیاممت کے دن بے 
سے مھا فیکروجے (ا ےکی نم جی صعد لق اک ہواورقم بی ددفاروق ہو چون اور پل کے 
در میا نر لکرتا سے تم مسلمانوں کےسردارہوادر ما یکا رو ںکیاس دارے_ 

(ینابیع المردة )٦٦‏ 


( رکون یں ) 

بنا اھتدیتم فی الظلماء و تسنّمتم العلیا وبنا انفجر تم عن السرٌار 
و قرسمع لم یفقه الواعیة و کیف یراعی الیباء ة من اصمتہ الصیحة ربط 
جنان لم یفار قه الخفقان:مازلت انتظربکم عواقب الغدر وائو سمکم 
بحلیة المغترینءسترنی عنکم جلباب الدین وبصرنیکم صدق الئیةءاقمت 
لکم علٰی سنن الحق فی جواد المضلة حیث تلتقون ولا دلیل وتحتفر ون 
ولاتمیھرن" 

”(اے لوگ9 !) جمارے کی ڈر ای تم نے جا رنیوں مس ہدایت پا اور بکند باں 
سن کا بر سوار ہو اود جعارے ای سی مم سب ے رات کے اپنی رے میس من کا ایاڑا 
بابا۔د و کالنا ہہرے 6 چا نی چھ(میری) مل دالی با تکو زی دوکان پگ یآدا زکیا سن سا 
ےج کی سے پر کا ہ٭(جوئیکی جڑر آوازکو ناماو می کی لوا رکا سن نا سے دہ 
رل مخبۃطر ہیں جن میں خداکاخوف ے۔ می پمیشتم لوگو ںکی طرف سے ہے وفای کے انام 
خنظارر اور مکو دورد نے دالوں کےل راس شں د تار ایانم میرےل بای د بین نے بے 
قم سے بہاں رکھا اود می کی می تک صداقت نے تار عالی بے پر اہ رگردیا- “ او رر 
راستوں میں تہارے لج کےراستہ برکھڑ ا وکیا( اک مو کا راستت داش اد دک رای کے 
رات سے جھائوں دہ ایا وت تھاکہ )تم رہب وحن جھےگ رکوئی رہچمانتھا اور مکنوئیں 
کھورتۓ تےکر پا نیس پک تھا لیس نے جیتھم سس بکوگمرائی اور ہلاکمت ےتا تددگاددتم 
توب و ےئپ 

(نھج البلاغہ مخطبهہ )٣‏ 


کچ و لی جار لیلد ا ط× لد تھی ا قد مد تع ×۳ تر وید ععمت ود دورد ور وہ و سر نز ہے عی۰ وریہ ارز سے ناس وریہ زوس نا ہز یی نز سد ہز ہسوسو سز جڑوہ اسر اھر۔- ایا بد دہ مضہ ئ آد: در ید بد ید کہ حا اید جیریہ. ا حمست ئا بد نل قد جصد دید ید چچ دز بد ہجرد یو 


”و الله لااکون کالضبع تنام علی طول اللدم حتی یصل الیھا 
طالبھا و یختلھا راصدھار لی اضرب بائەقبل الی الحق المد برع ر 
لسامع المطیع العاصی المریب ابداحتی یاتی علّی یومی فوالله ما زلت 
مدفوعًاعن حقی مستاٹرا علّی منذ قبض اللہ نبیّہ (صلی الله عليه وا اله ‏ 
حٹی یوع الناس ھذا “ 

”دا یحم می اج کی طر میں ردسکتا جود یک نی دینے سس جاۓ یہاں 
ککہشکادکی ال کے پا باہو ثئج اوداسے دوک د ےک رپھڑ لے بہ یس تن والو ںکو سرت 
نے ازع کون سے جن کرد ںا جو نکی رف سے تحرف ب و یئ ہیس اور چولو کت نکی 
باٹیس سن ہی اوراں گی پچرد یکر تے میں ال حکوساتجھھ ‏ ےکر ان لوگوں سے پش اڑج رہو ںگگا_ 
جھناف ‏ مان ہیں او رت نکی بانوں شش شی کر تے ہیں۔ ییہا ںت کفکہمھی رک نگ ین جو جائۓ۔ خرا 
1 انم رسول ای لم کے وصال کے بعد سے میں پرابرا پت تن ےجرد مکیا جار ہا ئوں بیہا تک 
ہآ لج گل )اد فنآتعمیااودلو کآ رح جھد لن ےآ ۓ ہیں 

(نھج البلاغہ خطيه )٦‏ 

(حفرتٹلی علی السلام نے ام ادوار خلا ف تک لسو یش یق الڈا با شی سکر دی اور 

ا ہرکمردی کیہ ہرددرٹ لآ پا تاخلافت تر دم گئ جاۓے رے۔مولف) 


(۸۸) 
ْ (میہرےد بی خحد مات اورم تل خلافت می نما موگی ) 


”فقمت بالا مرحین فشلوا وتطلعت حین تقبعوا ونطقت حین 
تعتعواو مضیت بنور الله حین و قفواو کنت اخفضھم صوتا واعلاھم 


فوقا فطرت بعنا تھا و استبدت برھانھا کالجیل لاتحر که القواصف ولا 
تزیلە العواصف لم یکن لاحدفی مھمز ولا لقائل فی مغمز۔الذلیل عندی 
غریر سی اخذالدق لو والازی متدی ہف سی آعة اق نا رضت 
عن الله قضاء ہ و سلمنا لہ امرہ اترانی اکذب علی رسزل الله غیلی الله 
عليه واله؟ واللّه لا ناازل سن صدقہ فلا اکون اول من کذب عليه . 
فنظرت فی امری فاذا طاعتی قد سبقت بیعتی۔واڈالمیثاق فی عنقی 
لی 

یس (دین اسلا مکی بدد کے سل جےکھٹڑرا ہوا ج ب ملا نکزو رفک رآ ۓ میں نے 
اپ نےکونظاہرکیاج بکہدہ ماب زنظرآۓ۔ بی ( ق کی با ٹیس ) اولتار ہا جم دہ بر نان و ران 
-كفترقتقل رق الواکلکممگرو لد یی ٹس اکرے کرس 
الع ین( علم کے اخقار سے اسب ےڑیادرم1واز اور( لم وشاحعت کے ا ہار ے )اسب 
سے ڑر یادہ بلنل تھا ۔ نہیں ٹس عزان فضائ لیکو نےکر اڑااورغ ضا لکی دوڑ مس سب کے کے بڑظ 
گیا۔ یش الس پہا ڑکی رع خابت رم دہاش مز ود ہوامکت شردے گے۔اورآمرعیاں 
سے اتی کی تن پٹاتیل قرغ نیپ وشن لی سے لے کنیا بھی اود نہ کیا عیب 
علائ شکرنے وانے کے لئ عیوب ا لی ےکا موٹع تھا ء یل (مظکلوم )می رنے نز دکیک بز رگ 
سے بیہاں تت کلم ا کا ی0 ( ناکم سے دائیں نےلوں ‏ اوٹو گی میرے نز دی ککمرورے 
ہا ں ت کک ( کرد رکا)ن ال سے جن لوں :تا ء ای سے خوش ہجہوں اورانس ک ےمم کے 





نے رچھکا .ا ہوں کیاتم کھت ہدک میس رسول ادڈ صلخم پریجھوٹ بولو ںگا عالائک غد ا امم ٠٠.‏ 


یس بی دہ ہوں کس نے سب سے پپیلے ا نکیاتحمد بن کیاشی و پھرمیس پل دن ایس ومک جو 
انی وف کے بین ےے بے معاملہکودیچھا( تق می پایا کم بے عم رسو کی اطاععت 
انی میعت سے پیضرد دی ہو یی اورمیریگردن یش دوسرے کے ساتھ ان وامان سے 
رت ےکا بد پڑاہواے' (تھج البلاغہ خطبہ كۓ۳) 


) 46 ی نا لاق تم لوگو ںکو با ان رون 


”ایھا الساس لا یجر مکم شقاقی ولا یستھو ینکم عصیانی ولا 
تتراموا بالابصار عند ما تسمعونہ منی فو الَّذی فلق الحبّة و برأً الىسمة ان 
الذڈی ائبنگم بە عن النبی الامی (ص) ماکذب المبلغ ولا جھل السامع. 

ای او نہیں مکی ڈشئی اوزخالفن تی ںگہگار (پلاک) ن رگم دے اود می رگی 
اف مال سیل ران دب نان نکر درے۔اود جب (علم مت اورغیب ) ک کی بات بج سے 
ون ایک دوس ر ےکی ططرف اشمارد نہ وم سے ائں ذا تی جن ے دا لا چا ککیا اور 
انا نگا چیداکیا۔ یں سلیں جو کی نجرد با ہوں (دء ابی طرف ےکی بلہ ) ہٹس رکی طرف 
سے ہوئی ہے (یادکھو) میأغ ( تحضر مسلم )جھونے تھے نہ سے والا (خووحفر تک ) 
ادن ۓے“(ائن لع ہو نمی سکبوں ال لپکالیشی نکر وکیونک غیراہرقول دش ل تحضر کےق لد 
کے ماق ے) (نھج البلاغہ خطبہ ۹۹) 

”الا ان مشل ال محمد (ص) کمٹل نجوم السماء اذا حویٰ نجم 
طلع نجم فکا نکم قد تکاملت من الله فیکم الصنائع وارا کم ماکتم 
۳ 

'اے لوگ ! لی نکر دک ہل م کی متا لآسان کے ستاروں جٹڑی سے جب ایک 
ساروڑوتا ہے دوسا اھ راآ: ہے(اىی رح آ لحھ می سے جب ایگ جاجا اذ دوس ال کا 
قائم متام موک را ہ رہد جانا ہے )یش اس طط رم خد انح ت تم لوگوں کال ہو چچگی ادررنس چت کی 
تم آرذوکرد ہے تھ ویش ن یں دکمادگی'' (نھج البلاغہ خطبہ ۹۸) 


١ 
7 جم اہلبیت ال علوم ای‎ ( 

”نحن شجرۃة البُوۃ و محط الرّسالة و مختلف المللکة و معادن 
العلم و ینابیع الحگمءناصر ناو محبنا یننظرا لرحمة وعدونا و مبغطنا 
یننظر السطرةۃ“ 

ہم (ابلبیت بی ) درشت نبوت ( سے ) ہیں۔ ۴م می یٹ رساات نے کہ اک اود 
گارے ب یگ ریش فرشنو کی آبددرفت دبی۔ ہم بی عق لکی کا میں اورحکمت کے س رش 
گ۔ضارۓ رگا راووز رکٹ رسرت ای کےختظ ہیں اور جار دن اور بھم سےفنحل رکھٹے 
دا نےااشد کےحضب کے کمنظرر ہیں 

(نھج البلاغۂ خطبہ ۱۰۸) 

”الله لقد علمت تبلیغ الرسالات رو اتمام العدات و تمام الکلمات و عند 
نااضل البیست اہو اب الحکم وضیاآً الامرءالا وان شرائع الدین واحدة و 
سبله فاصدة من اخذبھا لحق و غدم و من وقف عنهاضل و ندم “ 

دا کم بیس اکا رسمال تک تن سے اور خدائی دعدو کو و دانکر نے سے اور 
کات (علم دمکمت ) سے( خوب انی طرع) واتف ہولں۔ ہم ایت کے پا ٹحمت کے 
دروازے اود دای ام کی ری مو جود ے۔آ گا و ہو جا دی نکی شریجنیس ایک ہیں اوران کے 
ران سید ھ ہیں جواسے پا لگا وج سے جال گا اود فائحدہ مشش رگا اور جھاے تہ یا کا 
دراو ہوااورشرمیروہوا' 

(ا کلام سے اشمارہ ‏ ےکببقن عفر ت لیب کی طرف ے اسلئ ا نکی ابتا کر وتا 
یڑ سے چاموور امیا کا مگررائی اور بای ے۔ولف )(نھج الباغہ خطبہ ۱۱۸) 


( ہجو میس اورقم لوگکوں میں فرق) 
”لم تکن بیعتکم ایّاى فلتة ولیس امری و ام رکم واحداءانی ارید 
کم لو انتم تریدو ٹنی لانفسکہایھا الناس اعینونی علی انفسکم و ایم 
الله لانصفن المظلوم من ظالمہ و لا قردن الظالم بخزامته حی اور دہ 
منھل الحق وان کان کار هًا.“ 
(اےلوگو! )تم نے می ریمعت بے سو بجی ںکیامی ( لہ اقم کو یانے 
خلا فت و لکرنے پرگزو رکیا تھا ادرخو ببج وک میری بیع تکاتی۔اس لئے اب تم میرک 
بیع ت و ڈنیل سکتتمہارااو دم را محا مہ ایک سان کیو میس ہہیں غوداکے لئے نات ہوں اذ 
مھ سے اپ ذالی فائد گی زم جاتئئ +9( یڑ ٹس جاہتاہو ںک ینم د ین دای رقائم رہوادر 
ان عدودمی روک راہن اسخوفاقی کے مطاب بت سے خصلداوریم بکھھ سے اسینے لے دنیاءامارت 
اورر با ست ودوات جا ہت ۶ اےلڑگو! ای نلفسوں ( خواہشمات ) پمیر ددکر0( ےس 
کی یرد کی کرد ہمیرک پیر و یکر اود مد اکم یں مظلوم اور نلم کے درمیاان ضرودفیصملہ 
رتا رہو ںگا۔ اد رجا کو سکی کل ینک رکھییو ں ما ہا ں تح فک میس ا کون ک کاٹ 8 
لاؤں۔اگ / چپ بات اے:اگوارکیوں ثگڑ رےۓے 
(نھج البلاغة خطيہ )٣٢۳٣‏ 
(۹٢)‏ 


2ری با میں و رےسنو) 
”لم یسرع احد قبلی الٰی دعوۃ حق و صل رحم وعائدة کرم 
فاسمعراقولی ودعوا منطقی عسلی ان ترواھذا لمر من بعد ھذ الیوم 
تنتضٰی فی السیوف رو نخان فیه العھود حتی یکون بعضکم ائمة الاھل 


الضلالة و شیعة لاھل 7 702371 0 رت 

'(اے لوگ بادرکھو) جھ سے پیل نی نے وت نیہ ابی ک کے جس جلدری 
گی ءنصلعہ رکم میس یی ق یی اور نہ بی جشنشش وکرم می سآ کے بڑھا۔ یں میرئی با تس سن داور 
مر ےو لکو انی طر مآ یادرکھو بہتیشکن ہ ےک ہآ رع کے بحدرتم لوگ اس ام خلا تکو اس طرح 
دیھوکہاس کے لوا ری می جایں ۔ادد جوعبدد پان ہد گے ہیں دہ اس (خلات کو 
عاصلک نے کے تے نٹ دپے جا میں بیہا ںت کفکیٹم یش سے پکجوا وک گھراہوں کے امام بین 
ای اور یلیگ چاباوں کےفر بانبرداربن چاکیں'' (نھج البلاغة خطبہ )٣١2‏ 

( یقت ہج ےکہام خلافت شی تو ود ہو نے والا ھا تی عل الام نے لے 
کی ےسب پکجھ یناد ہا تھا۔اگ رآ پکویسل مان ش روغ بی سےخلیفہ مان لئ ہو تے ناشن فا ت تی 
رہاظ مہوت ولف ) 

)۹۳1) 


م اف ٭ 
(رسو لکربم نے بے سب تہ تناد ماتھا) 

" والله لوششت ان اخبر کل رجل منکم بمخرجہ و مولجہ و 
جمیع شان لفعلت ولکن اخاف ان تکفر وافی برسول الله صلی الله واله 
الا وانی مفضيے الی الخاصة ممن یومن ڈلکے مه والدی بعٹہ بالحق 
راصطفاہ عغلی الحق ماائطق الا صادقا ولقد عھد الی بدلک کلە و 
بمھلک من بھلک ر منسجی من ینجو و مال ھذالامر وما ابقی شنیا 
یمرعلی راسی الا افرغه فی اڈنی وافضی به الیٔ. 

ایھاالناس آئی و الله ما احٹکم علی طاعة الاو اِسبقکم الیھا ولاانھا 
کم عن معصیة الا واتنا ھی قبلکم عنھا “ 

”د ایام ماک رش چا ہوں خم میس سے رای ککوا کی ابا رانا کرد دوں 


سے موسر ہیں چس ور سر 
دی پکارکر لو( ن) میس ان ماس لوگو ںکوجنن پر بے اشمینان ے رو را یاخ٠روں‏ سے 
اج رکرو ںگااوراس دای ارس نے اض تلع کوقن کےسسا تج کشا اور ا نک وقرا توق ہیں 
سب سے بلندخخن بکیا میس جھ رھ ھکہدد باہو دہ پچ ے اور رو دای نے جھے لاک ہو نے 
وال گی جاۓ لت( جم ادزنجات پانے وا ل ےکی جاۓ پنا و( نت ) کت رد یی 
اراس اھر( خلافت ) کے انام کے بارے ٹی اور نے واقعات مھ رکف رنے دالے ہیں ان 
سب نے لآزنتولی نے ۳ نجھ پاش رکردباتھا۔ 

ےلوگوا می کسی اطاعح تکی طر ف ”ہیں متوجہ کرو گاج بت ک کیم سے پیل یس 
خوداس پل زرکرلوں اورک یناہ کے رقاب سی شددوکو گاج بت فکخودائل سے باڑ 
ذرہوں' (نھج البلاغة خطبه )١٠2۳‏ 

(۹۳) 


( بین پرہوں او مر نبال پر) 

لد علمتم المستحفظون من اصحاب محمد صلی الله عليه 
واله آنی لم ارد علی الله ولاعلی رسولہ ساعة قط ولقد و اسیتہ نفسی فی 
المواطن التی تدکص فیھا الابطال وتتاخرفیھا الاقدام نجدة اکرمنی الله 
بھاو لد قسض رسول الله صلی الله عليه واله وان راسە لعلی صدری 
ود سالت نفسه فی کفی فامررتھا علی وجھی ولقد ولیت غسلە صلی 
الله عليه واله.والملکۂ اعوانی نضجت الدار والا فیة ملاء بھبط 
وسلائیعرج ومافارقت سمعی هیمة منھم یصلون عليه حعی دار یناہ فی 
ضریحہ.فمذااحق منی حیا ومیتا؟ فانفذ واعلی بصائر کم ولتصدق 
نیانکم فی جھاد عد و کم.فوٴ الله لا اله الاھو انی لعلی جادة الحق وانھم 


لعلی و الباطل اقول مانسمعون واستغفر والله لی ولک" 

بقی ”یق اصحواب مرصلمم نے جو( ٹم ران داحادیث کے ) حافظ ہیں جا نلیا تھ اک ٹس 
ہر( یھ بھی ) خدااوداس کےرسولی کیم سے دوڑڑیں ہوااو شر کے لج ا پا جا نکی ایی 
بای اہن ری ردام 7 مال ےت بڑے بڑے ہاور پا کن نے ے اور پڑ رے 
بڈڑے پپہلوان تی ہ فآ ۓ ( بیس سو لکی مددک رتا ر ہا اس بادری اورشچاعت کے سراتجھ جو 
خمدانے جن عطا ف را ےاوزرحو لک روب ا عاللت می تخل وٹ یک ہآ پکا رمبارک 
میرےسیدنہ پرقھااودمیرے بی پاتھوں پآ پکیا جانآپ کے سارک سے جدا ہوئی ۔ یی 
ٹس نے اپے ہاج اپنے رہ بر لے۔اور بیس نے ہی رسول انڈمصلع یسل دبا ورفرشتوں نے 
ری حددگی .مجر ک ےگ اورشن انگ مود اکا ک یآ داز بلندہہوگی (ز ٹیس نے دیکھا) ف رشن اکا 
ای کگردہآ تا تھااورایگردہ جانا تھا اورا نکی نماز جناز وکا جم می رےکانوں سے چدانیں ہوا 
یہا ں‌ت ف۔آپ آراممگاہ(قر )بی رکعد امیا ےچک تحضر کین دکی میل او ز١ت‏ کے بعد 
ھ سے زریادہ ا کان دارکون ہے۔اس لم لوک صفا کی قلب اورصدرق یت سے میہرے 
سماتحددوکراپے شھنوں سے چہارکر تے ہداس دای ینس کےسد1کوئی دیس بی ج ین 
پر ول اددمیرے دن پاشل پہ ہیں۔ شی د ہکہد ا وں ےت کن رہ ہو۔ یش خداے اپنے 
لئے اوکہارے لئ اس ظا رک رتا ہوں' (نھج البلاغة خطبہ ۱۸۸) 

)۹۵( 


(رموزقرالی بج سے وچھو) 
اخرج ابن سعد علە قال ”والله مائزلت ایة الا وق علمت فیم 
نزلت و این نزلت و علی من نزلت ان ربی وھب لی قلبا عقولا ولسانا 
ناطلقا' 
ائن سعدرنے دای کی ےکر تعفر تل نے فر مایا خدا کی کو یآ یت ای یں 


300 سم سجچچچ شج یہدجحمممہ دمحا 


ہش سکو میں نہ جا اہ ںںکرینل بارے می نال وگ ہکہاں نال ہول ورس پرنازل ہو 
ےئگ می رے خدانے کین والا ول اور ہو لے والی ز بان (فصاحت ) عطافرمائی ے_' 
(صواعق محرقه )۱٢۲١۵‏ 
اخرج ابن سعد و غیرہ عن اہی الطفیل قال قال علیٗ ”سلونی من کتاب 
اللہ فان لیس من ایة الا وقد عرفت بلیل نزلت ام بٹھار ام فی سھل ام 
جبل“ 
سے کنل 3ے وآ یت زنظر ت۴ نے ماما امے لکو! 
زاب دا کےنتعلق جو جا سے بھھ سے ىہ چا کین کوٹ یبھی ای یآ یت یں جس کے تحت میں نہ 
چا نا ہوں خواددورات بی نا زرل وگ ادن شی یاخمف من پر یابھاڈ ' 
(صراعق محرقهہ )۱٢١‏ : 
”ایھا العاس سلونی قبل ان تفقدونی فلانا بطرق السَمًا اعلم 
بطرق الارض قبل ان تقشعر برجلھا فتنة تطاء فی خطامھا و تذدھب باحلام 
قرمھا “ 1ف 
ےل وگول اس کے کم مج ےکھوٹٹھو۔ جو او یھ سے لو جرلو دکیوگ میں ڑ بین کے 
راستوں سے زیادہ سان کے راستوں سے وانف ہہوں (جھ سے کو جچمو ) اد پیک 
انقلا بات اور نے اب فدم اٹھامیں اور( کل اون فکی ط رج ) دج جا یں لے جا یں اور 
قو کی متقلو ںکویھی نے نا میں“ 
(نھج البلاغة خطبيهہ )۲٣۳ ٢۱‏ 


ہی ا یا لوت استدھ ‏ ناسل اہ اتپ ات یز سو ود یو رھ وت بوشوف رس پوت وو رر پر رر و .ا دزن بد جو وو سو سس 


(روایات) 
گی عل۔ اڑا عبت اسححاب واز واج رسول وا مکی ڈگا؛ش“ 


قال المام احمد بن حنبل والقاضی اسماعیل بن اسحق واہو علی النیسا 
بوری والنسائی ”لم تروی فضائل احد من الصحابة بالاسانید الحسان ما 
روی فی فضل علیٗ بن ابی طالب “ 


امام نل قائضی اسماعیل بن ا اق ءایشا پور اودضما یکا یہہ جکیڑصحا ی۲ ضسی 
ھی ری اسنادتے ان فضائل مر دیس جت تھی علی السا ما شان شش 
ردئیہیں'' (نور الابصار ۸۱) 


تل حفرت الو رکی گا میں 
( یراط ےلذر ےکائروادہ ری ےا لکرد) 


روی این السماک ان 007 اض سمعث رسول 
اللہ صلی الله عليه وسلم یقول ”لایجوز احدالصراط الامن کعب لاُعلیٗ 
الج از“ 
انس اک روا تکر تے ہی ںکحرت الوکر نے رسول الڈرصلقم سے سنا ۔آ تحضر 
فمارے تھے رکون یخس لی صرامط ےن سکنر گاج بت کک راس کے پا حعفرتت کا 
ھا ہوا( عحراط ےگفھر ےکا اجاز ت نام تہ ہوگا' 
(صواعق محرقه )۱٢۲٢١‏ 
صن قیس بن خازم قال التقی ابوبکر و علی بن ابی طالب فتبسم 
ابوبکر فی وجە علیٗ فقال لە ما لک تبسٌمت؟ قال سمعت رسول الله 
(ص) یقول ”لا یجوز احد, علی الصراط الا من کتب لہ علیٗ ن الجواز“ 
(ایردایت ےگقی تی تصب ذ یل روای بھی سے ) ۱ 
ٹس ابنالی خازم کے ہی ںکہ(ایک م رہپ حضرت اک رکی حر تا سے ملاقات 
ہوئیمعفرت او تحضر تل کے چروکو کوک سر اۓ تر تل نے النا سے لو چا ہپ 
کیو ں سمراۓ ؟ ہخرت الوجمرن کہا کیٹ نے رول الڈ سخ مکوغر مات ہوئۓ سنا ہ ےکوی 
تس( قامت میں )پلی صرالط سے ںیگنر گاج بت ککہاس کے پاس حضرتتل یکیو ہوا 
( گر نےکا)اجازرت با ےہیگا'' 
(ِذخائر عقبیٰ اہ 


و رح ا رج ا کو ا و رود جیا اس سنج ہسوسو ج سد سرد وف وے بھی جو و وو تھے بے وج ہد س ہم وس وا ماوق عم بے توم کے سی یں 


(عفر تک کی زار تکرناحپارت ے ) 
کان ابوبکریکٹر الظر الی رجه علی فسا لته عائشة فقال 
سمعت رسول اللہ (ص) بقول "النظرالی وجہ علیٗ عبادة“ 
رت الو راک تحفرت لی کے چ ود یھ اکر تے ےا رت تھا نے ان سے 
ھا( رآ پ اکٹ تفر تک کے چب ردکوکیوں د یک ھ اکر تے ہیں نطرت اور نے جواب دیا 
نے رسول الس مکوفراتے ہو سنا ہےکحخر تل کے چ روکو یکنا ارت ے ' 
(صواعق محرقه ۵ك2١)‏ 
قال ابوبکر ”علیٗ عترۃ رسول الله (ص) ای الذیٰ حث علی 
الٹمسک بھم 0 
رت اوج رک اکر تے مج ےک تع تک روگ ایڈ لت کی عنزت ہیں شی ان لوگوں 
یجن کےسساتھدداہست در ےکا اد رش نکی یرد یکن ےکا رسول !یسلت ن ےچ یا ے۷٠‏ 
(صواعق محرقہ )۱٢١‏ 
)۹۸( 


) تطرتیلی ہشیت سے سو لک رم ربز گن تے) 
امحرج الدار قطنی عن الشعبی قال بینما ابوبکر جالس اذطلع 
علیٰٗ فلماراہ قال ” من سرہ ان ینظر الٰی اعظم الناس منزلة و اقربھم قرابة 
وافضلھم حالت واعظم حقاعند رسول الله (ص) فلینظر الی ھذالطالء “ 
انی ےی اف کراتۓ ھی کک کہم سب معثرت ااوبھر کے اکنا 
یھ ت ےک ران بی صعخرت نشیف لاتے ہہودۓ د یھکید پئے۔تعفرت الوم نے عف رت 
ودج ےک رکا" جوٹس ایل انسا نکودجیےکر خوش ہونا چاہے جوقا ملوگوں ٹن ہپ نےڑیارہ 


شک شس شش شش و اکر رہ 


رسولی الد کےنن کک منزات میں بلند رایت میں تیب شی او بی ) رات میس اتل اود 
تو شی( مرا وخلافت ) کے اظتبارےت بلک رتھا۔ ال لو جا یم ےکا ںآ نے وا لے( ٦ضرت‏ 
سی مود کے (صواعق محرقه ۵ك٠)‏ 

)۹۹( 


(حضر تپ کی ولا ہ تک زبرروس تج ہُوت) 

قال ابوبکر و عمر لعلیٗ بن ابی طالب یوم غدیر حم ” امسیت یا 
بن ابی طالب مولی کل مومن و مومنة “(اخرجہ الدارقطنی) 

تعفرت الو اور تی عگمر نے دیفم کے دن ححضر تک جن الا طالب ےکا 
اے ابوطااب کے فرزن آپ دنا کے ) قخرام مین اورمومنات کے موا ہہو یئانس 
لی ےا اع نا 

(رکزرہ بالاحدیث سے شابت ہوا کہ وڈابیت خریت گی علیہ السلام سے ا کا کر :ا 
حعفرت الوک راو رت ہت کےا وال او رتشن سے اکا کر نا ہے مولف ) 

ماب گر ال قال رسرل ال "ایک فی کف_ 
علیٌ فی العدل سواء “ 

سرت الویگر ے روابیت زی ےک رت سو لکری صلتم نے فربایا اے الوگر 
عدرالت اورانصاف بی می راو زی کا ات برابر کے اس عد یثکوصا دن ےچ کیا 
تا (ینابیع المودة ۳۴ك٣"“"‏ 


(ہ( 


ز(ال مع لآا۶زت 2 ۱ 

اخیسر نی عبدالله بن عبدالوهاب حدٹنا خالد حدشا شعبة عن واقد قال 
سمعت ابی عن ابن عمر عن ابی بکر قال ” ارقبوا محمد ١فی‏ اھل بیتہ“' 

عمپدالفہ اہن عبدالو ماب الد شعہ:وائکدگی ءوائدگی کے پاپ نے این عمر سے 
روای کی ےک حفرت ااونگر ن ےکہا'( مسلاٹو !) حضرتش کی خوشنودب یکا خیال رکھوء ان 
کے ایل بیت کے سماتھھ تھا لو کر کے رت سی وفت خوش ہوں گے جب تم ان کے 
ال بیت کے ساتجھامچھا لو کرو گے احادیت سے خابت 6د جا ےکرائل ہت سے خرا 
تر تی انفرت فاطرت بنحضر ت تسوئْءاورتحضرت مہم السلام ہیں ). 

(ُبخاری جلد دوم حدیث نمبر ۹۰۸) 


)١( 
منرت کی گا مال‎ 
(عزال مشکلات)‎ 


اخرج ابن سعد عن ابی ھریرۃ قال قال عمر بن الخطاب ” علیٔ 
اقضانا ' 
این سعد نے محخرت ابد ہریرہ سے ددای تکیا ےک معفر تکعمرربن خطا بکہا کر تے 
ےکیز تل (جی ) چم سب میں ہم سب سے بہھرفیصلمگر نے والے ہیں 
(صواعق محرقهہ )۱٢۲٢‏ 
عن سعید بن المسیب قال قال عمر بن الخطاب ” نتعوذ باللّه من 
معضلة لیس لھا ابوالحسن یعنی علیا “ 


ید ائنع می کت ہی ںکرمتفرتگ جن خطا بکپا کے جھے عم خمیداتے اہ 

گے ہیں ایل شکل میں جس( سے بیانے ) کے لے ابوئسن تی حضر تی مو جور نہ 
(صواعق محرقه ٠ )۱٢۳۳‏ 

ان غمر سال علیاعن شی فاجابه فقال لە عمر ”اعوذ بالله ان 
اعیش فی قوم لست فیھم یا اباالحسن '' 

( ایک مرج ) خر تگھرنے تفر تک سے پچجھ با ۔تخذر تل نے اہ کا جواب 
دےدیا و خر تگھرن کہا نٹس خداے پناہ ماما ہن ا اپوائس نکی سی توم میس بای 
رہوں اورآپ اس میں نہ ہوں''( کنل کو ںکوک لکمر نے دانے او رآ فنوس سے ہیا نے وا لے 
آپ ںی ہیں )'' (صواعق محرقه ےكء۱2١)‏ 

)٠٠١( ٰ 

(اک لوک حضر تپ کی عبت برا تفا کر لیت ) 

عن مر بن الخطاب رفعہ الی النبی(ص) قال ”لواجتمع الناس 
علی حب علیٗ بن ابی طالب لماخلق الله النار“ 

تطثرت عم زع خطاب رواجی ت۷ر تے یکز غیت می نے فر مایا اگ ا م لوگ 
تفرت کل کی ععبت برانفا یکر لیت نو خدراوندعا مال جن مکونہ پیر کرت 

(ینابیع المودةۃ ۵ءے) 

اخرج ایضاعن ابن المسیب قال قال عمر رضی الله عنھما 
''تحببواالی الاشراف و شود دوا واتقواعلی اعراضکم من السفلت 
واعلموا انه لایتم شوف الا بولایة علی رضی الله عنہ " 

ا یتپ سے یلگ رایت اخقول ہک رجعرت رت ےکا لے اواب شیٹوں 
ےس یراب قترں سے ا پٹ علزت بی اد ری نکر لوک را فخت کا لیس لق سو “لہ 


المر تضیٰ 147 
ود بد ھ نودد تھ نوی۔ وہ ند نود جو۔ بی ن.۔ ور ہچ نود نچ ہج ود نب ود نو۔ بد ود نود جود نج ھد بد بد ۔ت۔ نجد لت طز سے رر سو و سے رف سز سج سط سو و ا عق سس سا جو ود ہد للا بجی دہ ید ید اد مدع سد ×۱ سد جط: ود سد (عد لع حر سج ا سی .سی نا - کا 


تحطر تی کی ذل یت حاگل ہو" ہے (صواعق محرقد ١ك٠)‏ 
)٠۰۳١( ۱‏ 


( می نکی شناخت) 

واخرج ایسضضا انه جاء اعرا بیان یختصمان فاذن لعلی فی القضاء 
بیۓھما فقضی فقال احدھما ھذا یقضی بیننا؟ فوثب اليه غمر واخذ بتلبیبہ 
وقال ریحک ماتدری من ھذا؟ ھذا مو لاک و مولی کل مومن و من لم 
یکن مولاہ فلیس بمومن ' 

ہیی ردابی تک یک ےکمددذ اعرالی (نسی معارلہ میس ) آ لیس میس لت بھمڑتے 
۔حعظر رت عمرنے منرت لی سےگہ اک آپ ان دوٹوں کے درمیان فیصلہ یٹ ان 
دوٹوں(ا۶رالی شس ےیک تن کا کارب( علع ۷ ہمارے درمیان فص کر میں گے؟“'( بین 
کر ) رت نے اکس برع لیکیاادرا لاگ یمان کک کہا اے پدشینر کیا جات ےک ملا لن 
کن ہیں؟ (ن )تیر ےجھی ولا ہیں اود ہ رون کے موا ہیں اود شس کے ہرم ولا نیل وہ 
مین بیکڑیس ہے (صواعق محرقۃۂ ےكءك١١)‏ 

)٠٢( 


حر کی ایی ) 
قال غمر بن الخطاب ”لقد اعطی علیٗ بن ابی طالب ٹلاٹ 
خصال لان تکون لی خصلة منھا احب الی من ان اعطی حمرالنعم “ قیل 
''وماھن "قال ”تزوجه فاطمہٴ بنت رسول الله وسکناہ المسجد مع 
رسول الله یحل لە فیه مایحل لە والرایة یوم خیبر “ 
تحفرت رین خطا بکہاکر تے ت ےک تر تک بین الی طال بکی تین یں ایی 
ہی نک ہاگ ان بیس ے ای کک ھی ہولی فدہ جھیے اس سے زیادہ نشی الہ مسر اونف 


کے ا رہ ای ہت و ای و سو رت مو اسیج کے کیو و شر کے 


بس رہ ارم ے السا ملغ وہ 
اںکاان کے ل بھی علال ہو زا( ۳) خی کے دن مکا با نا“ 
(صواعق محرقه ۱۲۵ ر مستدرک جلد ٣ص )٣۱۲۵‏ 

)٥١۵( 


( رت ان ففضائل می منفردجے) 

عن عمر بن الخطاب قال قال رسول الله (ص) ”ما اکعسب 
سکسب ٹل فضل علیٰ یھدی صاحبے الٔی الھدیٰ وبردہ شن 
الردیٰ.“(اخرجه الطبرانی ) 

ہعقرتعم بن غطا بے ہی ںکہرسول اللر نے فر مایا ”ینف نے حعضر تل کی 
ط رح ندال اف کین سکئے۔ 9( اجے دوس کو راب ت کا رات دلھاٹۓ ا اور امت بک 
جات ہیں(ا عد ی ٹکطرائی نے ڈکرکیاے) ۔ (ذخائرعقبی۔۷۱).---- 

عن یح بن عقیل قال کان عمر یقول لعلیٗ اذاسألہ ففرح عنہ 
”لااہقانی الله بعدک یا علی“.(اخرجە الخجندی) 

تی انٹیل کت ہی ںکرحفر تع رحفر تک سے جنپ پھ وت تھے اوران کے 
اب سے خوش ہوتے تھے نو کے تھے یا کیا ندا جج ےب کے بعد زندہ شر ر کے“ '(اس 
روا ی تکوود گی نے لکیاے ) 


( رت لی کے فضائل شا رمی می ںآ کت ) 
عن عمر بن الخطاب رفعہ (عن النبیٗ) ” لو ان البحر مدادو 
الریاض اقلام والاٹس کتاب والجن حساب ما احصوافضائلک یا 
اہاایحسن “ ۱ 
تعضرتںعر بن خلا یت میں کرحضرتت تہ صعلقم نے فر مایا ”اگ رسندررروشنائی ہو 
ای اور با نلم بنادئے ای :اور الما ن کک وانے اود شا ت ضا بگمر نے وانے ہو 
جا( ری ۷ے وا نآ پ کخدا اش کر کے“ 
(ینابیع المودة "ے) 
قال عمر ' اللھم لائنزلن شدة الا وابوالسحن الی جنبی “' 
(منتخب کنزالعمال جلد ٦‏ ۳۲۲۷) 
تفرگ رکپاکرتے تے' ‏ خدایامیرے اد کی مصیبیت نہنانز لکرگرائس وقت جہ 
اوائکن مہرے پا موجودہوں ا کن سیت ات اض ض“' 
(ستخیات کنزالعمال جلد ٣ض )۳٣۷‏ _ 
(ڑے٭۱) 
(حضر تل کی انار ہجائیسن ) 
سی مسز ابن الخطاب کانت لاصحاب محمد ثمائیة عشرۃ 
منابقةۂ شخص عتھا علیٗ ثلاث عشرة و شر کنا فی الخحمس ' 
مر تعمر رہن خطاب سے ددایت ہ ےکا حا بج کی اٹھار ہتس نہیں جن میس 
ہے مرخ یں عر فحعف تک فصو تھیں اور( باقی )پا یتو مس ہم سب ش رک 
ك۶ (دررالسمطین )۱۲١۹‏ 


(اخرج الطبرانی عته قال 'کانت لعل ثمانیة عشرۃ منقبة 
ماکائت لاحد من هذہ الامة)“ 
(لیکن طبرالی نے حخرت ابن عباس سے دوای تکی ےک حخر تک کی اھارہ 
فیس ایی جواس امت می لک کواھی نیب نہیں ) 
(صرواعق محرقهہ ۱۲۵) 
)۸) 


( ولک ری مکی عبت حفرتکیعبت بر قوف ہے ) 
قال عمر رضی الله عنه کنت اناوابو عبیدہ و ابوبکر و جماعةمن 

الصحابة اذڈضرب البی (ص) بیدہ علی منکب علیٗ فقال ”یا علیٗ انت 
اول السومٹین ایما ناواول المسلمین اسلامًا وانت ملی بمنزلة طرون من 
موسلی اکذب من ڑژعم انە والائیو یبیغضشک “ 

حطفر تک کت ہی ںکہ می ء ایرد ہتحفت ا اوک راور حا بک ایک جماعت سب 
( نی کے پا ٹیٹھ بت ےک ہی نے انا تح تحخر تی کے شانے پہ ماراادرغر مایا معن یمان اور 
اسلام دوٹوں اقار ےق تام مرن اورتاع سلیشن یس سب ے اول ہو اورنہارکی جھ سے 
و بہت ہے جویعخرت پارو نکوتحضر موی ےےعھی۔دوبھوٹا ہے جو ضیا کر ۓےکہدہ بج سے 
عبت ءکتا ہے اورقم سےئنتس ومن ی ]نیس کومی بیکائل مب ہدج ی نی تی ج بک فک دہ 
تم ےی عبت نکمرے )ا (ذخائر عقبیٰ ۵۸) 


( ینک تی کا ایس تم ر) 

رری مسلم عن ابی ھریرۃ ان رسول الله (ص) قال یوم خیبر 
”لاعطین ھذہ الرایة رجلا یحب الله ورسولہ ویحبہ الله ورسولە یفتح الله 
علی بادیه ”قال مر بن الخطاب رضی الله ما احببت الآٴمارۃ الایومئذ قال 
فتعطاولت لھار جاء ان ادعلی لھا قال فدعی رسول الله (ص) علیٌ بن ابی 
طالب فاعطاہ ایاھا وقال ” امش ولا تلعفت حتی یفتح الله علیک “ قال 
فسار علیٗ ماش ٹم وقف فصرخ علی یا رسول الله علیٰ ماڈا اقاتل الناس؟ 
فال 'قاںلھم حمی یشھدون ان لا الہ الا اللہ وان محمد ارسول الله 
فاذافعلوا ڈلک فقد منعرا سک دماء ہم و اموالھم ا لابحقھا وحسابھم 
علی الله ففتح الله بیدہ “ 

مسلم نے الو ہ ریہ سے دوای تکی ےک تحت مصلقم نے تیر کے دن فر مایا ”کل 
لے ار فا قرال کم ل ارس کت ےاورالٹراورعول 
( ھی ) ا لکودوست رک ہیں ۔ خداائ یکو سے مرفرازفر مآ ےش تس ع رسک ہیں 
نے مس وائے اکس ادن ک بھی ارت ل( وت دم رزوارتی )کی خو ئن کی ۔( چنا دھرے 
دن یس نے اس امارت ل( مس ردارکی کو عاصس لک نے کے لئے ابی ےکو بلندہکمر کے دکھا اک شمای 
اہی پکا لیا جاؤں لن رسول انلم نے ححضر ت٦‏ کو جلایا او رآ پالم در ےک کہا ماع 
پاڈادر جج بک مدا میں ری سے مرفراز طدکرے ما فک رئا خض رت کلم عرل ززاتہ+اۓ 
پر چدددر جاک رکھوڑرے ہو ۓ اور ےآ وا جلنٹر مایا یا رو الد بش ان لوکوں (شھنوں )ا ے 
کن اتک لڑو ں٣‏ تحضر نے ف مایا ”اس وق کک لڑو جن بک فکیزدہ لا ال الا الد ادرھد 
رسول الد ہکہرد بی اور جپ دوکمہ ہے دی ںو ندال کا خون نات پہایا جا سنا ھ اور تہاا اکا 


سج ےک ام ہر ےہ یھ سر وو ای کی سی 


ا چتھ یس آ۹( 
)١١(‏ 


(حضر تی کا ات رحضرت رو لکا اتد سے ) 

عن عمر قال سمعت رسول الله (ص) بقول لعلیٗ ” یا علیٗ یدک 
ین یدی تدخحل معی یوم القیامة حیٹ اذخل“ 

نر تع کے ہیک ریس نے رسول ادڈ لم سے سنا ۔آ آ نر تل سےفرمارے 
2 تھے اے !تاراما جحدمیرے پت میں ہے قیامت بی ترادا ات کیا ادع رای جا ےگا جدھر 
یس انا اتد نے جائ ںا (ذخائر عقبیٰ ۸۹) 

قال النبی (ص) لعلیٗ ” انت منی و انامنک “ وقال عمر ”توفی 
رسول الله (ص) وھوعنہ راض ' ۱ 

نرت نی نے حعطب تی ےن مایا ماع تم بج سے ہواور می کم سے ہیں 
رزگ کت ہیں”جب رسول ادڈ ملق رکا وصال ہوا نے 1ض یلق تحضر ت کل سے راشچی 
چۓے (صواعق محرقہ و بخاری پارہ ۱ ص ۳۸۲) 


(ااا) 
(مرائل شیع حخرت کل ہی سے پیگھو) 


عن اذینة العبدی قال ” اتیت عمر فسأّلته من این اعتمز قال ”ات ' 
علیا فسئلہ“ و یہ ۱ 
اذ یز بدئی سکتے ہی یی حعفرت چم ر کے پا ںآ یا اوران سے و چھا کس رہ 
کہاں ے پاندعوں؟''(حضر تع ھرنے )کہا حطر تل کے ان جاؤ اورااع سے لیو" 
(ائس روا الو اوران مان نےعوافتت ران لاے)---- 


(ریاض ئنضرہ جلد ۳٣‏ ص ے۵٥۲)‏ 
قال عمر بن الخطاب ”لا یفتین احدفی المسجد و علیٗ حاضر“ 
تمرم تگم بن خطا بکہ اکر تے جے( تج ردار )”ا ال رخ ت ناحجر نیل موجودہوں و 
ہنکوئی ددم رای فئی نے (ارجح المطالب ۱۲۲) 
)٢٢(‏ 


( رگم راو رتحضرت امن پیا سک یآ کا وس 
عن ابن عباس قال ””مشیت و عمر بن الخطاب فی بعض اذقة المدینة 
فال ' یا بن عباس استصغر واصاحیکم اذلم یولوا امور کم فقلت والله 
مااستصغرہ رسول الله (ص) اذاختارہ لسورۃ براء ة پفروھا علی اھل مكة 
فقال لی عمر الصواب تقول و الله لسمعت رسول الله یقول لعلیٗ بن ابی 
طالب "من احبک احہنی و من احہنی احب الله ادخلہ الجنة'“ 

تحفرت ان ع ہا سکتے ہی ںکہ ایک م رجہ یس او رضم تم بن خطاب مد یک ای کی 
شش جارے تھے تعفر تگمرن کہا اے ان عمائس لوکوں نے ےتہہارےسرآصی (ححضرت یکو 
(عمرمیں ) بچھوٹا مھا اوراکی لئ ا نکوغم لوگو ںککادالی ( خلیغہ نکی بنایا بیس نے جواب دیا 
د خداک یم رسول اڈ صلخم نے ا نکویھی ( عمرمی ) چون نہ ڑھا مور جرت ای لم کوستنانے 
کے لئ نی ںکونق بکیا' جب جعفرت مرن ےکھا (ابنعاس )بج کے ہیں مس نےبھی 
رسول انڈرسلمم سے سنا ےکآ پ ححفرت ا سےفر مار ہے تھے( ا ےک )نمس ن ےت مکودوست 
رلاا نے گوزضت رلھااور نے کوارزغری رات نے بدا زوس رفاو کن 
ناکود ت کا کات ین وش کر ےج 

(کنزالعمال جلد ٦‏ ص ۳۹) 


(اگرحضر تی نہ ہوت ےت کیا ہو'نا؟) 

فی کشف الغمةعن ماقب الخوارزمی لما کان فی ولایة 
عمراتی باسرادة حامل فسألھا عمر فاعترفت بالفجور فامربھاان ترجم 
فلقیھا علیٗ ابن ابی طالب عليه السلام فقال مالھذہ فقالواامر عمر بھا ان 
ترجم فردھا علیٰ و قال لعمر امرت بھا ان ترجم؟ فقال ئعم اعترفت 
عندی بالفجور فقال ھذا سلطانک علیھا فما سلطاتھا علی مافی بطنھا؟ 
ٹم قال لہ علیٰ فلعلک انتھر تھا واحفتھا فقال قد کان کذڈلک قال اوما 
سمعت رسول الله (ص) یقول ”لاحد علی معترف بعد بلاہ انه من قیدت 
ارحیبست اوتھددت فلا اقرار لە٭. فخلی عمر سہیلھا ٹم قال ”عخجرت 
النساء ان یلدن مثل علیٌ ابن ابی طالب لولا علیٌ ٹھلک عمر '' 

فالغ یل مزا نوارزی عروابعے ےک ےنظری گر کےڑ ما ڑعکومت ان 
ایک گورت لا کی بج دی حتف تگھم رٹ اس سے ود یاق تکیا۔ امس کورت نے اپینے ج رکا 
انتا فکرلیا۔ خر تم رن عم دیاککہائ ںکوسکسارکرد یا جاۓ ات بیس تحت لی علی السلام 
سے ا ںقور تک ملافات ہولی۔آپ نے پا مچھا ”اس عور تکاکیا محاملہ ہے ؟''لوکوں نے 
یا عفر نے ایک ناک رن ے کاردا ے: تعفرتکل ےے اںقور تک وت رست گر 
2 پان لوٹا دیا او رر کر سے لو تھا" 3: آپ نے از خفازت کو ستما کر ن کا ۶ دا 
ہے؟'' رت گھ رن ےکم منہاں کہ اس نے میرنۓ سمامے اپنے بجی مکا اختزا کیا ہے 
”تی ےا آ بک مورتچ لکنا ٹن اس پہ بآ پککم پل کے 
یں جھ اس کے چٹ مس ہے ؟'' مرف مایا ” آ پکو چایئے تھا کیہ اس عور تکو (ھرکاتے 
ڈرا رت رر ےآیا ا ابی ھا ؟“'صطرتب نے جواب دنا کیا آپ نے ول 


---ے 


المر تضیٰ 155 


2۸دح س0 ا سسمممسمجوجوجھجڈججوججچ جج و_ےیگرررو شڈ 


نیس جا کیم کے اعت راف کر نے بر قی دک نے پانڈرانے دھرکانے کے بحدکوئی نیش ژگاکی 
چا '( یک نکر )خر تعرنے اکور تکوچھوڈ دبا اورک اکر عورتیں حعضر تل کےنشل سدا 
کرنے سے ماب ہیں۔اگر( آج علض ہوت ےآ عم ملاک (گراۃ )ہو جا ے٠‏ 

)۳٣ ٣٢٣ (قضاء‎ 


)٢١( 
) ظا غاد لے‎ ( 

فی المناقب ھم عمر ان یاخذ حلی الکعبة فقال علی عليه السلام 
”ان القران انزل علی النبی (ص) والاموال اریعة اموال المسلمین فقسمو 
ھابین الورثة فی الفرائض والفی فقسمہ علی مستحقہ والخمس فوضعہ 
الله حیث و ضعه . الصدقات فجعلھا الله حیث جعلھا و کان حلی الکعة 
یومئلذ فتر کە حاله و لم یرک نسیا نا ولم یخف عليه مکانہ فاقرہ حیث 
اقرہ الله ورسوله فقال عمر ”'لولاک لافتضحناءو ترک الحلی بمکانہ'' 

کاب ہنا قب میں ےک حطر تکھر نے خلاف ان دکعہ نے لی ےکا اراد کیا 
جرت ہی علیہ السلام نے فا یک جب نیمسکم پرقرآن نز لکیاانز اموال چا حم کے جھ 
(۱) مسلمالوں مامال ا ںکوڈرائض (اورتحسوں) کے مطا نی وارنڑژں یھی تی کہ ا رات 
()ٹئی تو ا کو پش کود امیا جوا کا تن ھا۔ 
) اس اذ ا ںکوالدے نس میقیت ے( ولا وا ے۔ 
(۴) صدقات لوا سںکوشھی خدانے جس( ”قاع را ےپویے اورف : 
خانکعبرااس وق تھی فھائیان رحل نے ان کوائی حال روڈ دبااودائ ںکوآپ نے مو لکر یا 
ال کےخوف ےکی چچھوڑا تھا۔ اذا آ پکبھیا ا کو و ہیں ٹچھوڑ دہیتئے ہا الہ ادرائس کے 
بسولی نے کچھوڑا ےل( پک نکر ) ض بت گر ن کہا( ماع )اک رآپ نہد تے نے جم ذلیل اور 
رس اہو جاتے" 'او رپچ رمالا فیک وا تی لہ برٹھوڑدیا۔ (قضاء )۱٢۳‏ 


( تج راسور) 
عن الغزالی ان عمر قبل الحجر ٹم قال ”انی لاعلم انگ حجر 
لاتضر ولاتدقع ولولا انی رأیت رسول الله (ص)یقبلک لما قبلتەک 
فقال علیٌ عليه السلام ”بل هو پضروینفع“ قال  ”‏ وکیف“ قال ' ”ان الله 
تعالی لما اخذ المیثاق علی الذریة کتب علیھم کتا باٹم القمه ھذا الحجر 
فھو یشھد للمومن بالوفاء وعلی الکافر بالحجود فذلک قول الناس عند 
الاستلام اللَهم ایماناک وتصدیقا پکتابک وو فاء بعھدک ٹم قال لە لا 
تل ذلک فان رسول الله (ص) مافعل ولاسن سنة الاعن امرالله نزل 
ن یامفزالی روا یتگر تے ہی ںک تعفر ت مرن جھرا سو دکا لوس رد یااد کہا ا ےگ راسود 
ٰ نم مان اہو کرت پچرے ذنقمان پہو میاسکنا سے نع ورگ میں رسول ادس مکو جے 
اوسم۴ڑ ےھ ئے نہ دن تق یی ںی سے پوت ید تا“ خطرتکل ایا“ جم راسود) نقصالن 
بھی ہو ما ےگا اور ع بھی بی مک سط ؟'(زحفرت لیا نے )کہا جب غدانے اولاد 
حر تآرم سے ع لیا تو ان کے لئے ای نو شیکھااودال پھر کےم میں ڈالا نو پھر کن کے 
لئے وڈ اکی او افخ کے لگ اٹڑکا رگ یگواہی د ےگا اور یھی معن ہیں جب لوگ الام کے وٹ 
کے ہیں 'اے خداتیرےاہ بایان لایا جا ا بک تحم دب کی اوھ سے جوف کیاتھا ا کو 
پرایا'' 

پچ ری نے حتف روش کیا آ7 ٭* کی ول لم نے نین کوگ یکا مکیا 

روح اما لىسہكْآ لف هن (قضاء )٣٠٢۳‏ 


”حر تکلی نت عما نکی لگا 
(ایں ور کے دوکیڑے) 

عن عشمان بن عفان عن رسول الله (ص) قال 'خلقت اناو علیٰ 
من شور واحد قبل ان یىخلق الله ادم بار بعة الاف عام فلما محلق الله ادم 
رکب ذلک النور فی صلبه فلم یزل شیا واحدا حتی افتر قنا فی صلب 
عبدالمطلب ففی النبوۃ وفی علیٗ الوصیة “ 

حضرت عنان من عفان نضرت یل رع سے روایی گر تے ہی سک ںآ ن٠ضرت‏ 
ص٥ل‏ نے ف مایا ”می اور ایک بی فور سے حطر تآ دی مکی پیدائ سے ار نرارسال پیے پیدا 
ہو ئۓ جب غدانے نعطر تآ دش مکو پید راک ان اس فو رکواا نکی صلب مھ تر اردیا۔ میفو یک ید ہا 
( اور الاپ انھیاء ی۲ فنفل وجار پا یہاں تم کک ہم ححخر تعبدالمطلب کی صلب بیل جدا ہپ 
جئۓ لیس بج میں نبوتآ کی اورکئی میں ومتیت (غلافتٹ)'' (ینابیع المودةۃ ۸۰) 

(ڑےا) 


) مر تک کے جم مارک سے فرشتقو کی فلقت ) 
۱ غن عشمان بن عفان قال ''سمعت عن عمر بن الخطاب قال 
”سمعت ابابکر بن ابی قحافه قال سمعت رسول الله (ص) یقول ”ان الله 
خلق من نور وجە علی بن ابی طالب ملائکة یسبحون ویقدسون ویکتبون 
ثراب ڈلک لمحبہ و محبی اولادہ “ 
حفرتعان بن خغان ضرم تع رن خطاب سے اورو و تطرت اوک جن الو اذہ سے 
روابی تکرتے ہیں ۔حثرت الوکر کے ہی ںکہ یس نے رسول الڈ رصع مکوفرماتے بہوئئ سنا 


جم یم اس مم تم٠ىجہیھمممصم‏ امہ ہارمہ چو ہس سس سور وت 


غداوند ماگ نے خر تی کے رہ و میارک کے ور سے یف رشن ے پا کے ہیں و( خداگی) 
تج ور فی سکرتے رت ہیں اور کا اب ضحضرت اورا نکی اولا د کے دوستوں کے نامع 
ا مالس کت ہاۓ یں“ (مقتل الحسین الخوارزمی جلد ١‏ صے۹) 
)۱۸( 
حفرت ام المونن حضرت عا ککشرکی ڈگ میں 


) حم لپ نا تحضر تک کو وت کھت سے7 

اخ رج الرمذی عن عائشة رضی الله عنھا ” کانت فاطمة احب 
الناس الی رسول الله (ص) وزوجھا علیٌ احب الرجال الیه " 

نمی نے حعفرت ما نے رذای نکی ےکی ریسول الع تام اوکیں ما اضپ: 
ے زیاددنضرت فاعم کوادرتمام مردوں بی سب سے ڑیادو ان کے شوپ رتخفر تک ودوست 
رک خی (صواعق محرقهہ )۱۱١‏ 

عن جمیع بن عمیر الٹیمی قال ”ندمت اع قمی علق جانا 
فسئلت ای الناس کان احب الی رسول الله (ص) قالت فاطمةً فقیل من 
الرجال قالت زوجھا ان کان ماعلمت صوامافواما “ 

اب نگ کے فی کہ( ایک دن )یس اتی پھوچھی کے سماتحر معخرت ماش کے 
پا کیا اوران ۔رے اک رسول ادص لت تام لکوں ہیں سب سے ڑزیاد وک کو دوس رھت 
ھے حطرت جا کشر ےکم ” حطرت فاطم کو ران سے لی اگ یا کہ او رمردوں ٹیں؟ “کہا 
”ان کےشو ہر( حر تک پکوادرقم جا بی ہوک دو( عحفر تل بہت روز و رکٹ دانے اور 


بی نمار یں ہڑ نے وانے جے' (ترمڈی ٦ےك)‏ 


اق اس سے ا ا 1ج111 1 ا اس ا ا ا7ا 0000000000000000 0اصا 


( جوفضا لکل بس شی کفکرے وکا فذرے ) 

وذکر عند عائشة فقالت ''انه اعلم من بقی بالستۃ“ 

عحفرت ماش سے( حعفر تک یکا ) تک روک یاگیاتذ آپ نکیا ”( حعضرت ینام 
لوکوں یل )اسب سےزیاد وت ل(رعول )کے جاتۓ وا نے میں“ 

(صواعق محرقہ ۲)۵( 

عن عطاء قال سالت عالشة عن علیٗ قالت ”ذلک غیر الیشر 
لایشک (فیه) ال" کافر “ 

عطاء کے ہی ںکہ یس نے مخت ماشہ سے جضر ۰ل ک ےت مو مھا و نہوں نے 
کہا”' ود( حر تک )اقرام انمانوں میس مر ہیں۔۔ جوان ( کے فضاکل ) می شی کفکرے رکا خر 
0 (بنابیع المودةۃ )٦٢٢‏ 

,)٢۳( 


( خر تگلگ عرب کےمردار ہیں ) 
من ام المومنین عائشۃ قالت ”گنت عند النبی (ص) اذدخل علیٌ 
فقال ''ھذا سید العرب “ 
ام ال وشن حفرت جا نکی ہی کی حخرت نی کے ا لی حر ت کی گے نے 
آحضرت نے (ا نکو دک ےکر )ارب جورارڈن 
(ارجح المطالب )۲٢‏ 
عن عائشة قالت کان اذادخل علینا علیٗ و ابی عند نالایمل ... 
من النظر اليه فقلت لە 'یاابت انک لعدیمن النظر الی علیُ “ فقال ''یا بئیة 
سمعت رسول الله (ص) یقول 'النظرالی علیٌ عبادة '" 


أکوجھحمحص سے سو اہ ہہ ہے ای اہ ہےر ےکوی اھ مو یٹ کس سا 


71 َ2ت تس 

تھے رر جے۔ میں نے ان سے پا چھا بب آ پل براہ تفر تک یکو د یتر ہیں 'انہوں 

ےو تو بی یں رت وق اق ےتا ےآ پفزمایارتے تھے لعف تک 

کی رف د یناعہادرت ے' (ریاض نضرہ جلد ٢‏ ص ۴۹۱) 
)٢١۱(‏ 


( یش سک ان میس نازل ہوٹی ) 
حلشڑا ابر یکر می صد اللا فا9 تا مضہ بن بٹیرعن 
زکریا ن مصعب عن صفیة قالت قالت عائشة حرج النبی (ص) غداة 
وعلیه مرط سرحل من شعر اسود فجاء الحسنْ بن علیٰ فاد خله ٹم جاء 
الحسينٌ فد خل معه ٹم جاء ت فاطمة فادخلھا ٹم جاء علیٌ فاد خله ثم قال 
"انم یرید الله لیذھب عنکم الرجس ال البیت ویطھر کم تطھیرا* _ 
اوھ بین عبدائلد یھ بن بش زکرم ءمصحب جصفیتضرت مع ئش سے روایی تکگمر تے 
ہیں حخظرت عا ئن کبتی ہیں ( ایج رسول اوڈی لم اس عالت می کک ےکپ سیا بالو نکیا 
ںیت پادراوڑھھ ہوئۓ تے_ا تم میں ححفرت زی انآ تۓ رسول نے ا نکدارتی 
پادریش نےلیا۔ب رنطرت ئ1 تۓ دویی اد میں دائل ہو گئ ۔بھ رخرت فاطلم ڑآ میں 
آ پکویھی رسول نے ادد میس لےگیا۔ پھرتعقرت کے اودا نکوشھی رسولیٰ نے یادر شش 
داش لکرمیا( جب یہ بانچوں افواد ادررٹ ئع ہو گے ) یی ررسول اللہ نے فر مایا م'امے اب ہبیت 
مداجاہتا ےکم سے برائیو ںکودور ر تھے اوت مکو اک دیاکینزور کے جوتق سے اک وماکیرہ 
رک کا (صحیح مسلم جلد ٢‏ ص ۲۸۳) 


0000 0 ییئئئیوو ا ضف شش ماشو میرحت 


7٦‏ و 
عن شریح بن ھانی قال ”'سالت عائشةعن المسح علی الخفین “ 
قالت ائت علیًا فانه اعلم بذذلک منی “ فاثیت علیٔا فسالته عن المسح '' 
۱ (صحیح مسلم جلد ١‏ ص ۱۱۵) 
شر جن انی ککتے ہی ںکہییس نے حرت حا نکشہ سے دوفوں موزوں بر کر نے کے 
متلق دریاف کیا انہوں ت کہا حخر تل کے پاش جا کوک اس مت کو دہ بج سے بر 
جات یلپ ریس تطر تل کے پا ںآ یا اوران سے کے صلی دد اف تکیا۔ 
(صحیح مسلم جلد )٣۳۵1‏ 
رت عائڈرنے شر کونعضرت کی کے علادہ او کی صھالی رسولی کے پائ کی کیا 
کیل دہ جا تھی سک سال شرع کان چانے والاسدانۓ حضر تک کے اورکوئی شتھا مولف ٠‏ 
عن عائشے رضی اللّ عنھا لمّا بلغنا موت علی قالت ”لعضعم 
العرب ماشاء ت فلیس لھا احد یٹھا ھا “ 
رت جا کش سے روایت ےل( جب اگ لکوں کے ا مس تعفر تٹ کی شہاد تک یتر 
۱ پہو گی ) تحفرت عائکشہ ن کہا ”ا بعرب جو چا ہی ںکر ی ںکیونگہ( محضر تم کی شارت کے 
بعد ) ا ب کوک ای ای جوانکو(یر ےکا موں ‏ کےکمز نے سے با روک سی 
(ذخائر عقبی )۱١۱۵‏ 


”رت امام ومن : ت ام سل کی کاٹ ١‏ 


(جن لی کےساتھھ سے اور یت نکیسا تج ہیں ) 

لمّاسار علیٗ الی البصرۃ دخل علیٰ ام سمة زوچ السی (ص) 
یردعھافقمالت ”سرنی حفظ الله وفی کنفه فوالله انتک لعلی الحق و 
الحق معک ولولا ائی اکرہ ان اعصی الله ورسوله فانه امرنا ان نقرفی 
بیوٹیا لسرت معکے“ 

جب مر تفگ ( یتر ے) بعر ہکی طرف (ام اک وشن رت جا کشر تحضرت 
لی بحضرت زی رکش وک یف نکر ) ل2 ام ال وشن مخت ام سز وھ رسولی کے پا 
تق ریف لا ۓ تا کان سے رخصت ہوںپذ رت ام مل نے تفر مایا( ماع جا بے ا رآپ 
کی فا تکرے اور پکواٹی پناہ بے دای مآ پ تن ہیں اور آپ کے سساتھ 
سے۔اورآگر یھ الڈداورائل کے رسو لکی ٹا خر مائی کاڈ رنہ ہوتاکیوک چم ( عورتںکو )عم د بانگیا 
ےکم اپنےگھروں میںٹیٹھیس وی بھی ض رورپ کے ساتھ 2 میدران میس ) جقی'' 

(ستدرک جلد ٣‏ ص )۱٢۹‏ 


)٢٢۲۳( 
ضٹر یپ امت ضیل جا خرفت کج+داگیںہوۓ)‎ ) 


عن ام سلمة قالت و الذی احلف به ان کان علیٗ لاقرب الناس 
عید ابرسول الله (ص) عدنا رسول الله (ص) غداة وھو یقول جاء علیٔ 
مراراققات لاڈ فان سای ساحلاقالت فا ند فالک امم 
فظینت ان لە اليه حاجة فخر جنا من البیت فقعدنا عند البیت و گنت من 


شیج شب ون اع ا ا انور ا لا وہ رس تل لا لا ا یلا دو نو و رہ چم سی ہہ ہے لس من مج یں اش>×جددت 


ادنا سم الٰی الباب فاکب عليه رسول الله وجعل یسارہ وینا یه ٹم قبض 
رسول الله (ص) من یومه ذلک فکان علیٌ اقرب الناس عھدا' 

ْ تعفرت ام مرش مکھ اک جیا نکر پا ہی نکی مان کے اغتار سے رسول ادڈ لغم سے سب 
سے زی دق یف حفطررت کل تھ کیک وی ال کی نار کے زا غ یس )ہل لوک ای کت آپ 
گیاعیاد تکو ئآ پر ارے تھا کیا یع مھ ؟ کیاعلی می ؟ اورپ نے بی جم لن 
مقر مایا جخرت اہ کہا 'شا یپ نے ان( لی کو ام سےکییجا ہے ات میں 
حر تیآ مج حعفرت امس /بقی ہیں یس نے خیا لک یا اض رتس مکوعضرت یل سے 
کوکیککامم ہے اس لئ پعم لوگ (کمرہ ات از گن دنن گ ری جیا یھ ھن اوز ین 
یرواز در لُگ لقر یب بی یٹ ھی زی نے دی اکلہ رسول ادڈصسلقہ نے تفر تع یکو کے 
ےلگا بااور لے کے بای ںکرتے رہے۔ائی د نآ ضر تکادصال ہوگیا۔ائں لئے وقت اور 
زمانہ کے اعمارسےرسولی سے سب سے زباد وت یب نظرت لج 

(مستعدرک جلد ٣ص‏ ۱۳۹) 
)۱٢۵(‏ ' 


(تضرےےیل اورقرا لن یدسا تج سا تھ ) 

اخرج الطبرانی فی الاوسط عن ام سلمة قالت سمعت رسول 
الله (ص) بشول ”علیٗ مع القران والقران مع غلیٌ لا یفتر قان حتی یر دا 
علی الحوض'' 

برای نے اوسط یس ذک رکا ےکر حضریت ام لہ نے فر ایا میس نے رسولی انلم 
سے سنا آپ خر مار ہے تھے ' عق رآن کے ساتھ ہیں او رق رآ ن٣ل‏ کے ساتھ سے میدوول ایک 
روصرے ے چجرائ موی گے خیسااں مج گل اعت میمرت اس جو کو پداببیولں 
پا (صواعق محرقہ )٣٢١۱‏ 


ین ام مسا ےا ان انی ؛ص) کسان اذاغطضیب لم یج احد 
منایکلمە غیر علیٰ ابن ابی طالب “ 
فرت امس کا مان ےک جن بھی حول مکوخق ہآ نا تھا ہم یل ےس کیا 
امت نہ ڑل یگ کیب ےکنفنگڑکرے سوا ۓ ححفر تی بن لی طااب کے“ 
(مستدرک جلد ٢ص )٣۳١‏ 


)٣٢١( 
) (حضرت امیرمواد یک ناو ٹل‎ 


اخرج احمدان رجلاسال معاویة عن مسئلۃ فقال اسال عنھا 
علیٔا فھو اعلم فقال یاامیر المومنین جر ابک فیھا احب الی من جواب 
علیٌ قال بلس ماقلت لقد کرمت رجلاکان رسول الله (ص) یغرہ بالعلم 
عزا ولقد قال لە انت منی بمنزلة طرون من موسی الاانە لانبی بعدی وکان 
عمر اذااشکل عليهە شی اخذ منه“ 
(حفف یگ لکل من تعفرت کل بی سے ہہ اکر تے تھے ) 
اف لکراہ ےرانک نے امہ ہاو ےآیاس م لہ چھا۔ ماد نکیا 
اس مت کو تحضرت کل سے کچھ و ہکیوقل دو سب سے ڑیادہ جا تن دانے ہیل اس نس ن کا 
'اےامیرالئڈنشن اس منلہشی بجھےآ پکاجواب فعخرت گا کے جواب سے زیادہلیند ے“ 
ائیرمتادیرنے جواب دیا نے بہت رآ گیا نے الیٹشھ سکو نا پہندرکیا یش نکی ان کی مکی 
یبر سے رسول مملتم بہت عز تکیاکر تے تھے اوران کےمتلق فرمایاکرتے سے 2ےک 
تا رکیفیزت ہے نج دی ہجۓ جو ہار وا نکیا ےمج یر کیم ے گی ىیا نہ ہوگا' (اس 
کے علاو:) تر گر پر جب گی یکوئی مکل وقت؟ جا تھا آپ معضرت کن کیا سے یچ اکر تے 
کے (صواعق محرقه ےك2٠١)‏ 


ان مرو و ون لزٛود اروا الف 0× نود دیز رر عو رر جو ربز ےرا وہ زا دسا لع یھ :سے ون سر ضا حا لح :ا زی ہد ہو ای حر نال کس .ا ید ای ا ا 


قال معاویة لخالد بن معمر ”لما احببت علّا علینا “ قال ”علی 
ٹلاٹ خحصال علی حلمہ اذا غضب و علی صدقه اذاقال و علی عدله 
اذاحکم “ 

اہر مواوے نے ماد ین'“عمرسے ۷و ما تم رت یکو جم سب سلاد ون 
رر ھمز؟''مالرے جواب دہا' زی نر تک واان کے تین صفا تکیا وج سے 
(درست رکتا ہوں )(1) جب وونمطناک ہدتے میں دا نپصلھمکو اتد ےکڈیں جانے دیے 
(۴)اور ج گنت وکرتے ہیں فو پچ بی کتتے ہیں () اور نب فیصلہکر تے ہیں و عداات کے 
معلاای ہوا ے' (صواعق محرقهہ )٣۱۳١۶‏ 

)٢( 


(ہخرومامات) 
رلعا وصل الیه فخر من معاویة قال لغلامہ اکتب اليه ٹم املاء 
علی ۰.:, 
"محمد النبیٗ اخی وصھری.:. وحمزة سیّد الشھداء عمی 
وجعفرن الڈی یمسی ویضحی .:.یطیرمع الملئكة ابن امی 
وہنٹ محمد سکنی وعرسی .:. منوط لحمھا بدمی ولحمی 
وسبطااحمد ابنائی منھا .:. فایکم لە سھم کسھمی 
سبقتکم الی الاسلام طِرا.:. غلامامابلغت اوان حلمی“ 
قال البیھقی ”ان ھذالشعر ممایجب علی کل احد متوان فی علیٗ حفظه 
لیعلم مقاخرہ فی الأسلام ومناقب:علیٗ و فضائلہ اکٹر من ان تحصلی." 


جب ضحخرت کی کے پاس امیرمعاویہ ک ےھر ومباا کشر( ان کے خط کے ذ ریہ 
جو با آپ نے ابی خلامم سے فر مایا کی ”ماد یکولگھرآپ نے (حصب ڈ یل اشعار) 
گکواۓ _۔(اے ماد گر بیقم جا ہوگ ربچ ھی سو مج نی خدامیرے بھاکی ادورمیرے 
ہے اور تضرت تمہ سید الشبید اء میہرے ھا ہیں _اورنطر ت نظ جو وشمام (جنت 
یس )ا علمامکیہ کے سما تج روا کر تے امت لی گی مان کے گے لیر بای ب ہیں ۔اور 
ضعضرر تنگ دی صا جز ادگی می رگ یدگ یس اورا نکاگوشت می رے شون او دم رےاوشت سے سا 
ہوا ہے( نی می رک اق می رشتدار ہیں بضحخرت ات کے دونو ں ٹوا سے می رۓ جم ہیسا پا تیر 
کے سراتھھھ وی را تہ سے وونم لوگوں بیس ےکی کا ہوسلم ہے۔ بی لم سب سے می الا ملایا 
( یہ )عمریس ہت میم ونا تھا اورحد باوخ کوکی نہ یہو یاتھا“(مبلی کے ہی ںکہ پ روہ ۶ 
تفر تکلی ےعحبت درکتا سے اہ سکو ای کیدائن اشھارکو یادکر لے تا کمددہ ہد ےک ہآپ نے 
الام ی لص رح تر دسبابا تر مایا ے او رتخفریت پا کے منا قحب دفضا سے ات ذیادہ ہی کہ 


ان کا شارجی یس ہوسکتا) (صواعق محرقہ )٣۳١۱‏ 
)٢٢(‏ 
سے تح خلفا ما ےط لکافااش“ 
خر تکہد رامک نع پاش 


( ریلم کے بر خار سے ) 
الرحیم لیلة فانفلق عمودالصبح فرایت نفسی فیجبہ کالفواۃ فی جنب 
البحر المشعجر“ ۱ 
تحخرت امن ع با سک ہی سک ایک رات نحخر تم 'ولد الکن ال جم ک ےقرف با 
کےت کی شرجح نے گے( سارک رات گنی اود کے نا را ہرہ وم (کو نی رخ ظہ 


نز اف اع رہز سرتاو ٣ور‏ ىد رہام عہ ارسود و رد زنر سر نو خر دخ ام ا حا ا .شک لد چیا دک ح بد لغ ا سرک دک ہا سد اچ ہہ بعد پر زوپ ور روہ نو رر ور رود زع و لد سیک ود ا 


ہوئی )نے بیس نے انئے (علمکو) عضرت کن کے (عکم کے ) ساتے الا پا یا ےای ک فو خارسحندرر 
کے سما نے ایک سم ول یک ڑا 

اعلم ان جمیع اسرارالکتب السٌما ویة فی القران و جمیع مافی 
القران فی الفاتحة و جمیع مافی الفاتحة فی البسملة و جمیع مافی 
البسملة فی باء البسملة و جمیع ما فی باء البسملة فی النقظة التی تحت 
الباء قال الامام علی کره الله وجهه ”انا النقطة التی تحت الباء“ 

(ححضرتیلی علیہ الستلا مم نے فر مایا )ا ابن عاس یش نکر دتھا مآ سای کائوں کے 
راز ق رآن بیس ہیں اور جھ یتما مق رآن میں ہےسودرٗ فاٹس ہے اورقمام جو پھوسو ر٤‏ ات مس 
ہے کم الد الکن ال تیم میس سے او تام چپ سم الکن ال رجیم میں ہے وو مس الد ک حرف 
ب یش ہاو رتمام جھ رف ب می ہے اس فقط بل سے جوب کے مج ےل( حعفرت ڈگ یکرم 
الد چہدے ‏ ,1۸ا)' نیس دی نقطہوں جوب کے یج سے“ 

(ینابیع المودة ۲۹) 
(۳) 


( مب روقتےآ خرف رکیوں زلم سے ) 

عن ابن عباس قال ”لما اشد باللبی (ص) وجعہ قال ”اتونی 
بکتاب اکتب لکم کتابالا تضلوا بعدی ”قال عمر ”ان النبی (ص) غلبہ 
الوجع و عند نا کتاب الله حسہنا “ فاختلفوا و کٹرا للفط قال ”قومواعنی 
ولا ینبغی عندی التناز ع“ فخرج ابن عباس یقول ''ان الرزیة کل الرزیة 
ماحال بین رسول الله (ص) و بین کتابہ . : ۱ 

حفرت این عپاس کچ ہیں'' جب کیب رسک مکو (مستر و جات پر بط ت لیف 
( یں )وئی 2ب نےفر ایا می رے یا سس ایک دق لا 3 کی سن مک9( ایک ضرددی چتز) 


و ہد سد ا ات .دی ا سا وف ہز ےنسا اہ ا ا لاح ا هی جو اہ ا ا دا و و اس اہ ا یہ 


آبوروںج الیم سب شر ے دک نہ ہو سو تعفر تک نکراک اس دنت بر ردردکاخلب 
ہے اود ہمارے پاں تو دا یکتاب“وجودتی ہے جو ہمارے ل ۓکاٹی ہے یکو کین 
ک یکیاضرورت )انس برلوگوں میس انتلاف ہوااورقا صا لڑنے بھھڑنے گے( یہ د یدک ) 
نف با پ۳ میہرے پاش سے دورہد جا و مییرے پا انا ہنکڑ نا مناس بی ان ا کی یہ 
ہر لاسی سج سید غر را دو او رین 
ال ہو گین''(زلڑنی رسو لکوککتن زدبادرنہ بعد ٹل غلاطت کے سلسہملہ میں کول اخلاف گان 
ہو) (صحیح بخاری پارہ ا ص )۱١١‏ 

عن ابن عباس قال '' اول من صلی علیٗ “ 

ححفیت این ع با ل کے ہیں ۔ سب سے پیل حطر تل نےنماف ڑگ 

(ترمذی جلد )۲٢۳۵ ۴٢‏ 
)٢۳۱(‏ 
رت سعد من ائی وقائل" 
حطر تک یٹس رمول) 

عن عامر بن سعد بن ابی وقاص عن ابیە قال امر معاویة بن ابی 
سفیانسعدا فقال ”مامنعک ان تسب اباثراب؟ “ فقال ” اما کرت ثلاٹا 
قالھن له رسول الله (ص) فلن اسبه ولما نزلت هذہ الایه ” ند ع انباء نا 
وابناء کم ء دعا رسول الله (ص) علیّا و فاطمةً وحسًنا و حسینا فقال 
ظط الھم هو لاء اھلبیتی 7 
۱ اع نے سعد یکن الی داش سےدوای کی ےک ایک عرتبہ ما ام رمعاد مہ نے سعد 
بن الی دقائش س کہا ”حم ابوقر ا بکوکیوں برایں کیچ ؟'' سعد ین ای دقاگ نے جواب دیا 
”(اے معاوہ )کیائ مکود دقن ہا یں باڈئیس جورسول ادڈڑصلتم نے ححضری تا ک ےتا فر مکی 


الع تضیٰ 19 
یں ہرگ ا نک مرا راو ں گا زان کن باون مل سے اک ےآ ٤‏ نپ 
( آببللہ )" 2پم اپینے بیو کو لا" میں اورقم ان یٹ ںو پا" نال ہہوئی نو رسول ا ذصلمم نے 
نت کل عحفرت ڈاعل نت س اع اور نت سوا کو بلایا ادرف مایا ”اے خدا می میرے 
اہلییت ؤں'' (صحیح مسلم جلد ٢ص‏ ۸ے۲) 
)٣۳٢١(‏ 


رت ز رین العوام“ 
(حضر تل بین بر حے) 


اخرجالحاکم و صححے و البیھقی عن الاسود قال شھدت 
ٹر خرح بری سنا لال خی ااشناف مل سست رسرل لل 
(ص) یقول ” تقاتلہ و انت لە ظالم “ فمضی الزبیر منصرفا وی روایة ابی 
یعلی والبیھقی فقال الزبیر ” بلی ولکن نسیت “' 
ماود ہبی نے اادالاسود سے ددابی تکی ہ ےکم( چک پل میں ) بیس نے ز بیکارت یی کے 
خلاف(میران بیس ) لکل ہوۓ دیکھا۔حظر تک نے ان کہا" از ہیی سکم مکوخدا 
گیا د ےکر پا تا ہوں لیخ مکو ایا سکہ )تم نے رسو لکوفرماتے ہد سنا تھاکیئم بج 
سے نل٣‏ کفک۷رو کے او را مہو لیکن گر )زج باٹ ف اور بتک نل) 

اب وی اورتا:لی گی روایت ٹیش ےک بیرنے خخر تل س ےکا اس( سوا بے 
فر مایا ھا ری س مو لکیا تھا( اب یادآیااسل لے آپ سے ٹک نکگرو ںگا)'' 

(صواعق محرقہ ۓ ا٤‏ 


ٹر آلیژرز“ ' 
(حفرے لی کے تحلق رسو لکی ایک پی نکوکی ) 

عن ابی ذر قال کنت مع رسول الله (ص) وھو فی بقیع الغرقد 
قال ''والذی نفسی ہیدہ ان فیکم رجلایقاتل الناس بعدی علی تاویل 
القشران کما قائلت المشر کین علی تنزیله وھم یشھدون لا ا لە الا الله 
فیکبر قفلھم علی الناس حتی یطعنوا علی ولی الله ویسخط عمله کما 
سخط موسی امر السفینة وقتل الغلام واقامة الجدا رلله رضی “ 
(اخرجه الخوار زمی ) 

طرت اپوز رکتے ہی سک بیس رسولی الد کے سات ات خر یس مو جو دھا جک ہآپ 
نے فر مایا انس ذا کیم شس کےتبضیہ فدرت میس میرکی جائن ہے بت لوگوں بیل ایک ا لے 
تس (علی ) ہیں جمیرے بحدتا وی ق رن پراسی طرع بن گفک میں مے جس ط رع میس نے 
مر کین ےق ہن کے نال ہدنے کے وش جک کیاشھی حا لان رو ولک لال الا الد سے ہوں 
جے( یی مسلمان ہوں گے )جب دہ( عم لوگوں سے چچیگکر میں گنو لوک برا جھیوں گے 
انز دا کے وٹی بن نکر میں گے ۔اودران کے ائ ال( تک با سے بارائش ہوں گے جن طرح 
ہر موی یڈنول ےک یکرنے اورد ار کے جانے رای ہے تھے 
عالا( می کور ھا کا اف کر نااوددیوارکابناا) اللکی مرش (اورم) کے ما لن تھا 

(ارجح المطالب ۴۱) 


(ا زوا ول ال میتی ضول فیس داش جن ا 
نی لے قح ئن رق الاضلى اللةطایفرسلمقال ڈلکت 
یوم غدیرحم ژھو ماء یاللحجفة کما مروزاد ” اذکر کم الله فی اھل بیتی 
“قلنا لزید ' من اھلبیته ِسائوہ؟“ قال ” لا ....... واللَه ان المراءة تکون 
بغ ائرحل فر ین کر نروھھالز رت ال انا وکردز اقل یہ 
اھله وعصبعه الئذین حرمو الصدقہ بعدع “ 
گطارسسوی اے ہے غفقا ورس 
مقظام تفہ یٹش ایک چنش کا نام ہے (( ید بن ام کے ہی سکم عد یٹ فدمرییش رسول لق نے يہ 
الفاظا شی فرماۓ )''اے لوگ !می تم لوگ ںکوائ اہلیت کے تل اوڈ دک بادد لاج ہوں (شڑ 
اٹل ببیت کے ساتھ اچھا لو کر ےکی وعیم تک رتا ہوں پل( را یکنا ہے ) م نے ز دجن ارم 
سے لہ پھاککرکیا رسولی کے ابلویت می ا نکی جید یا بھی داخل ہوں؟''ز ید ت کہا ”ضحم خداکی 
پر نی ۔ثورت تذ اپ مرد(و ہر )کے ساتج بجھز انگ دای سے پچ جب شوہرنے ا سکو 
طلاقی دے دک ت دو اپنے اپ کے پا اپنے قبیلہ یش چپ جال ہے (لدا رسو لک بیدیاں 
اہلے بس داش ل یں ہولیس )ا رسول کے اہلعیت آپ کے وو ائل اودرشتہ دا ہیں جن ب رآپ 
کے بعدرصدقہ تر ام ے' (صواعق محرقہ )۱٢۸‏ 


نرک تن اصحاب رو 
) حر تکلی| اسم جے) 


عن سلمان ؛ وابی ڈروالمقداد و عمار و محباب وجابر و حذیفه و 
ابی سعید الخدری وزید بن ارقم رضی الله عنھم ” ان علیٗ بن ابی طالب 
ارل من اسلم و فضله شو لاء غیرۃ “ 

ا مت سمارمان ءاوزر: راد :ظمار:خباب ہن مر جار گن گبدا ال حر لیف افحد 
ایز بن ارک رصشی ال یھ رکا نمدے/' ححضرت لن بن الی طالب سب سے پیل الام لائے 
ادرآ پ تما مسا ئل سب ان تا 

۔(استیعاب غلامه ابن عبدالبر “ 


(الگ) 


لی علہ لستلا مم خی ت فک رین اسلا مک گا میں 


یاتی نھج البلاغة فی المرتبة الثالة بعد القران الکریم و الحدیث 
الشریف و ان الفاظه وتراکیبە و مافیه من اوجه البلاغة وراء کل نقدو 
فرق کل استد رک “ 


عمرفروغ می الین عفر علی علیہ السلا مک نی تکوطدااود دحل خدا کے بعدترام انہانوں 

ے اض لی مکرتے ہہدۓ ددراست کچ الہلائہ 1برا سط رم مق از ہیں ۱ 

قرآ نکر ادرحد یٹ شرلیف کے بعدتسرے مرتہ بنا بلاغۃ ہے۔ا کے الفاظطبکیہیں 
اوراسشں ہل لات وروالی ہرتحقید رہ سے بلند سے ۔ 


”الوالاسووال رو 


( قواعدزبان گ۶ کی بیاد) 

عن ابی الاسود الدوئلی قال دخلت علی علیٗ ابن ابیطالب فرایتہ 
سطرقا مفکرا فقلت ” فیما تفکرت یا امیرالمومنین ؟“ قال ”' انی سمعت 
لے کم ھذالحنا فارذت ان اصیع کتابا فی اصول العربیة“ فقلت ' ان 
فعلت ھهذا حیہتناؤ ا بقیت فیناھذہ اللغة '' ثم اتیته بعد ثلالة ایام 
فالقی الی صحیفة فیھا ' بسم الله الرحمن الرحیم . الکلام کله اسم وفعل 
و حرف فالاسے ما انباء عن المسمی والفعل ما ابناء عن حر کة المسمیٰ 
والحرف ما ابداء عن معنی لیس باسم ولا فعل “ ثم قال لی ” تتبعه وڈر 
ماوقع لک واعلم یا ابا الا سودان الاشیاء ثلائة ظاھر و مضمر وشی لیس 
بظاھر ولا مضمر“ قال ابوالاسود ” فجمعت عنھا اشیاء وعر فتھا عليه 
فکان من ڈذلک حروف النصب فذکرت منھا ان وانّ ولیت ولعل ولم 
اذکر لکن ' فقال لی ” لم ٹ رکٹھا؟“ فقلت ” لم احسبھا منھا ' ققال ” بل 
ھی منھا فزد ھافیھا' 

ابوالسوددوگی سک ہی سکیس تعفر تی بن ای طال کی مت میں حاض رجہواد ھا 
آپم جک ےشکر یٹ ہیں۔ می نے عون کیا ا امی لمج نآ پکس منلہ می شحگر ہیں 
۹پ نے فرمایا ٹنمیس نے تہارے اس شہ میں لوگو ںکو(زبا نکی خطیا نکر تے سنا 
ہے۔ اس لے بیں چا”تا ہو کی پان عر بی کے اضصول برای کنا بک دوں' یش نےکھا اکر 
آپ ایا کیا آپ نے ۴ھ س بکوز ند وکرد ہاور ہماری ز با نکگی با رگھا۔' نع و 
بعد جب میں پگ رآ پکی مدمت می حا ہوا آپ نے بے ایک یف ینا یت فر ما یس میس 


و و ا و وو ےوہ یا وہ ںا او ےہر ہا ےکر اہی ےہا رکا و ہے راہ کے ہی یی ہچ ںیہں ہت ہیک ہیں ہا ا ںہ ہک ہہ ےا اہ 


کیا ہوا تھا سم الین ال ریم ۔کلا مکی لن میس ہیں اما ل٣‏ رف٣‏ ۔ائھم ود جچھ 
ا گی چچائے بیعلل دوے وا گی کی ترک تکو جا ۔اورترف دہ سے جوا لیم یکو 
تاۓ جوداسم ہونی٥ل‏ لچ رنضرت نے مھ ےر بای ا ابوالا نود اصول ز با نککاسنک اد 
ْ ہے۔ انی رت اعد عمارت تیارکروادرضر درک مس بڑہاتے چا ادد ادرکنا قمام تی تل نم 
یا ہیں ایک ظا ہر ایک مض( یشید اد ایک دہ جو نہ اہر سے تیضع'ابوالاسودسکتے ہیں ء یں 
نے (حفرت ک ےمم کے مطابن اہ تک یزیت کس اورتعخفیت کے سما نے نی کی ان 
بس تخروف ناص بای بیان تھا یش نے اع اق لیت مل او کا کا ڈگ رک اگگ رلک ماب کر 
وس حریں نے وا لک کوکیوں چو ان اننیس ن ےکا رن شیا یلق 
طر فنص بیس ے لف مایا لال بیج ی جرف نصمب سے۔ائ لکوگھی ( حر وف ناصیہ ٹیل )بڑعال 
(ینابیع المردۂ )۲٦٢٢۵‏ 
(ےك٣٢)‏ 


علامدامین ای ایر تل 
(فضائل حر تک بائی ر ہنامز سے ) 


فالاحادیث الواردۃ فی فضله لولم تکن فی الشھرۃ والاستفاضۂ 
وکشرة النقل الی غایة بعیدة لاتقطع نقلھا للخحوف والتقیة من بنی مروان 
مع طول المدة وشدة العداوۃ ولولا ان الله تعالٰی فی ھذالرزجل سرا یعلمہ 
من یعلمه لم یردفی فضله حدیث ولا عرفت لە منقہة “ 

لا مہ ابن الی الد می شرع سکع الیلاغۃ جلد١‏ ۲۵۸ ء کک ہیں تحت می علیہ 
الم کے فا کی رشن اگ شر نے ملف کی افو ل نی ا جانے و ریت سے 
قول ہو ےکی حیقیت سے فی رملمولی حدکک نہ اہو گی ہو ت بی مردان (یی ام )کی 
عرصہددا زتکعلوممت اورائل بیت کے سا تحدا نکاشد بدعداد تک اوج تآ ران (اءاد یی ) 


00020000000000 7۵0۵0۵0000 0ری ۵ر2 220 270ر 2000200 000 0 ا ا وہ کر رہ رہ ا کے رر ری یر من ہم تد تر نرینو کو ار نمس سیسنمینحہمہسر ‏ سی 


کا یت ھی نہ ہا( کون خو فک وجہ سے لوک اہلوی تککا نام چیا ز ان بن لا سک جے )او راگ ران 
بزرگ( کے فضائل کو باقی رن یش خداود مال مکاکوٹی خائ راز نہہ تا آپ کے فضا لک نہ 
۳ قرکوئی عد یثپائّ جال اورتاً پک یخو کا بت چتا“' 
(شرح ٹھج البلاغة جلد ١‏ ص ۲۵۸) 
)٣٢۸(‏ 


ای ںفلرون'' 
( رت کا رد نحکرت وع مک زشاعت سے ) 


انظر وصیةعلی رضی اللّهعنه و تحریضہ لاصحابہ یوم صفین 
تجد کٹیرامن علم الحرب و لم یکن احدا بصربھا “ 
۱ دن ایال انح فلا کرت ین۔ 

میرانصفین میں حضر تک کی جدانتوں اورلشگ رکواچھار نے کیج ری ککو دنو ین 
ہلک کے ہے ہوےرازمعلوم ہوں ےار یی نکر اہ ان نک می الع سے بے کر 
کوئی صاحب اضیرت ھا (ابن خلدون) 

زعم اھل الڈواوین انہ لولا کلامه صلوٰة الله عليه و خطبہ و بلاغة 
فی منطقه ما احسن احدان یکتب الی امیر جنلدو لا الی رعیتہ “' 
صاحبے٭ ند رضو شر رر ےک نا۔ 

عرب کے انشماء ردان و ںا شال ےک اک تقر لیک لا مآ پ کے لی اور پک 
تعرس نوج ں کوٹ ایس بھی زمیک رکواورنہ ہی انی ر جا اک بلک کت“ 

(فوائد رضویه جلد ٢‏ ص ۵۲۲) 


۳ بب [ت7تصت ‏ 7 0 09090-010 ہہ ےس سی ےار دہج 
ےی ۔ رت تپ ×ظ ٌ3 ی١‏ بد یں ہپ بسشدچچہ ادگ 


می این ری لی 
(حضر تی معن علوم ون اسرار یم ) 


سمی رسول الله (ص) القران و عترته ثقلین لان الٹقل کل نفیس 
خطیر مصون و ھذان کذلک اذکل منھم معدن العلوم اللدنيه والسرار 
والحکم العلیت والاحکام الشرعیة ولذاحث (ص) علی الاقتداء 
والتمسک بھم والتعلم منھم و قال ” الحمد للّه الذی جعل فینا ألحکمة 
ال البیت .'' 

ٹم احق من یٹحمسک به مھ اما مھم و عالمھم علیٗ بن ابی 
طالب لما قدمناہ من مزید علمه ودقائق مستبنطاتہ'' 

( رآن وت ے ءراہلیت رو لیک اق اادرپیردگ یکا زگ رک رت ہو ۓ افرعرییٹ 
لین پرررشنی ڈ انج ہد ۓ محر ت اک نجج ری کر تے ہیں ) 

ححضرت رسول ارڈ صللم ےج رن اورا فی امترزت (اہلبیت اکوانٹزپنی ےکس رف مار 
کنل ا یر ہے جو میں مع ارول برا رط ہو اور ےدولول (رآن اور 
عثزت ول )ا مے دی ہیں ان می ںاہ ایک علوم لد لی کا مخزن اوراسرار وم علو البٰیہ وا<کامات 
شھرعی کا جانا ہے۔ ایا لآ حضرت؟ نے ان (اہلمیت )کی اقتراادر پروی اوران ےتصول 
عل مکانم دبا ے اوراسی لے آنحضرت نے فر مایا ےکی شک ہے اس غدالکا نس نے پم ایت 
س لمت قراردٹی'' پچ راہللییتں رسولی ٹس سب سے زیادہ اق ا ماود روگی کے تنا رین بن ال 
طااب ہیں :جاک مآ ب کےیکم وکس تکی سذ اود ہار یکیو ںکا یلت کر وک کے ہیں 

(صراعق محرقہ ۱09م"۷ۃ0")( 


(زبا گر لٰ کت مثزات) 

لا نعلم بعد رسول الله (ص) فیمن سلف و خلف افصح مِن علیٗ 
فی النطق ولاابل منه ریقافی الخطابة کان حکیما تتفجر من بیائه 
الىحکمة و خطیبا تبندفق البلاغة علی لسانه وا غطامل السمع والقلب و 
مترسلا بعید غور الحجة و متکلما یضع لسانه حیث یشاء و ھو بالاجماغ 
اخطب المسلمین و امام المدشئین و خطبته فی الحث علی الجھاد 
ورسائلہ الی معاویة وو صفہ الطائوس والخفاش والدنیا و عھدا لاستتر 
السخعی ان صلح ذلک لقد من معجزات اللسان العربی و بدائع العقل 
ا یہ 

اج تن ذبات اپنے ز مانہ کے بلنعد یابیادیب اود مورغ اٹ کاب تا رن الادب 
الع لصفم ۶ ےا رکمظرازہیں_ 

ھی جان ےک رسول ازڈیصلت کے بدراوٰشن اور خرن میں تحضر تک ےزیادو - 
نگ داورآت ری کو یبھی کین ر باہو ۔آپ ا لی کیم ےلہپ کے از نے لبق کے نج 
جاری ہدجاتے تےاورالیےےتعلیب ت ےکآ پکاز ان مبارگ پردد یاۓ بااخمت مویٹس مارتا تھا 
اورا لے داعلہ ےکآ پکاوعناسا معراو رق بکو ہلاد تھا ۔آ پ نہابیت مب9 ط او دگہرٹی یل 
کر نے دانے افشا پرداز اود ای مر ت ےک نس م وضو پر جا تھے بلا طکلف ہو لت 
تھے۔آپ بالانتھاقی تام مسلمانوں یس سب سے بڑ ے تعلبیب او رنیم انتا پداڑوں کے ارام 
تھے جک پآ ادہکر نے کے ل ےآپ کے نل ام رمعادیہ کے نام آپ کے تطوماصورہ جیگاڈر 
اوروٹیا گی اھر سآ پک یکن ری می اود ما لک اشن کے نام لومت ) کادستورہاگر رس بک 


ہت ایک ہی کی ہے .ےک وو وس یی تا ہک و ا 


اق شی ۴ 0-0 
(ا۳1٦)‏ 


یں" 
(حضرت نورق رآ نکی زندەتال سے ) 


'”لقد کان المجلی فی ھذا لخلبة علیٌ صلوۃ الله وسلاِمة عليه 
وما احسبنی احتیاج فی اثبات ھذا الی دلیل اکٹر من نھج البلاغة ڈلک 
کتاب الذی اقامہ حجة واضحه علٰی ان علیا رضی الله غنه قد کاناحسن 


مثال حی لنور الفران “ 
(محمد حسن ائل المرسفی المدرس البیان ) 
(کلیةالعزیز الکبری مصر ) 

و ض۰ ال رک مرف ما حون 


”ایخ ےکی صلی و ارڈ دسلا مث علیمیبران فصاحت د بااعحت کے سوار تھے اور 
7۲ ے ضیال بی ا کوفاب تےکر نے کے لے الات (ا اڑسی ع ینغ راب ) کے بعد سی دیل 
کی ضرودتنجیں۔ یناب ا با تک دا یل ہ ےک منرت لی علیہ السلا فو رش رآ نکی 
زارروشال تج 


ھا هر رش را رضا“ 
حضرتک کا جعفر تک رکوا بک مفیرمشورہ) 


واعظم من ڈلک کلە الاثر الما ثور عن سیدنا علیٗ فیما اشاربہ 
علیٌ عمر رضی الله عنہ بعدم اخطرق حترانة الکتب الامگندریه وقال,انھا 
علوم لیست تخالف القران العزیز بل تعاضدہ و تفسرہ حق النفسیر 
لاسرارہ الغامضة الدقیقة وھر قفول معروف عنہ وقد احر ج الخبر بە 
مفصلا الحکیم المورخ الاسلامی القاضی الائد لسی فی طبقات الامم 
فیہما نقل غنه العلامة المحدث ابن غیش القرشی الیتمی فی بعض مفاطیع 
القسم الاول الجزء الاول من'کتاب الکشف عن الغثاثۂ فلیرجع اليه “ 
علا مہ رشدالر ضا تارج الاستاذ الا ما مخ یحبد ویش کک ہیں :۔ 

ان خمام پاڑوں سے ذزیاد ٹیم اود قائل نررووورول سے جوححضر ت گی سن 
ضر تگھر کنب ممانہاسکندر ہہ کےنرز امو( کتماہوں )کوضجلا ۓ جا ن کا مطیرمشور ود تۓے 
ہوۓ ارشادفر مایا تھا ”( جم ردار )ان کابوں میں علوم کےنمزانے ہیں جوق رآن می کےنخایف 
کیل ہیں پان ےق رآ نکی ای ہگ اود رآ نکیا با رییوں ادد مو زک ینف کر نے میس 
ا ا و پا 

( تفر تک کا عفر تگمرکو )یمور ود یناہ تن شہورے۔ا سن کامفصل ذکرمورغخ 
الام سیعمز مان ڈاشی اننڑسی نے ا نی کاب ططرتحات الام می سکیا سے ما کی خلا مہ می شف ری ض 
نے اپ کنا بکشن گن الف کے بجز واول یکی ہیام می ن٠‏ لکیا ہے( جن سکوا سکیافصیل بنا 
)دہ( کاب ) گیط رف رج ا کرے ‏ 

(تاریخ محمد عبدہ جلد ١ا‏ ص ۵۳۵) 


تقد با عق مد بد لد تد لد قد راع بش بد وا- ھوے کا لوا لاس ا سیا ہف تہ جا ید بد بد عفد بد بچید اس رمیا بد مجمئدہ ید سرد و بد یذمد .اد ید عم بعد ید عقد شر مد تہ :ید عید یل مد کت مع ید ععد بد ید ید ععہ یع یر عم اد مد جک یآ ہہ و رق و و نود وتوہ رہز بعد تو 


یسا 

ان ال حکمة مائورۃ عن سیدنا امیر المزمنین علی فھولا جدال 
سید الحکما و عنهتروی اللحکمة فی مواطن السراء والضراء و 
قدوردت ال حکمة علیٰ لسانه الشریف فی کثیر من رسائله و خطبہ 
واقواله حتی قالوا انه کان بنطق بالحکمة فی کل موطن اقام فیه و مجلس 
جلسەرموقف رقفەبل کانت جمیع اقواله الشریفه و اعمالہ المنیفہ 
حکما ماثورة“ 
یراج طا کی تر تی عل اسنا سم کےفضا لکا ا سط رح ا ہا کر تے ہیں۔ 

'فسفضہاودععمت کےسہا و جوتف لی علیہ السلام سےمقول ہیں سوک یی نکرنا 
پماتے 7 پنیا مرکم بروفاإ سہ گے زار کے اور شی کے وحم رز اورعمت گی ا نی 
کیاکر تے تے۔آب کے فخطو مہ لے ادراتو ا لکو دس ےک رمعلوم ہنا ےک ہآ پکیا نز بان مارک 
سے جکبت وفسفہ کے چنشے جارکی ہیں ۔ الکو ں؟اکہنا ےکرینس مو پآ پتش ریف نر ماہوے اور 
و ین نآ نے ش رکم کی اورٹس متام ب رجہ امروز ہو ۓے ہی علرم وتکر کی 
اف نکر نے رے پپائکاب اع یا گید اقوای اود ہلن دک د ارکٹ تحت کن ۔'“ 

(القصید المبار کڈ العلويه ے )۵٦‏ 


و یدب سو سوہ |ےساو وو زاسیع زع موہ- و وپستود- تو خوتوھ رو سوہ وا لیر یز سو عیسو عوہ عچسپوف ز.تو ور ود ھود لود بد نود ×-. ہہ .دہ ×× سد ہد دہ -ج- تا رہ تا ے- کا حا جا حا لہ 3ہ تاج کا دج سی .کا سو جع سو یو ہد -۔ و حر توعد زی بعد یو رد سد 


(مطل ما میاب) 
”فھو اول فی العلوم فی الشجاعة اول فی السخاء اول ٹی 
ال حکم والصفح اول فی الفصاحة اول فی الزھد اول فی العبادة اول فی 
الد برو السیاسة اشد الناس رایاواٴصحھم تدبیرا لولا لکان ادھٰی لعرب 
کائما افرغ من کل قلب فھو محبوب الی کل نفس ظھر من حجاب 
العظمة بموالیه فاستولی الاضطراب علی لاٴذھان وللدارک وذھب 
العاش فی متذاعب خرجت بھم عن حدود العقل والشریعة فاھل الذمة 
تحبہ والفلاسفة تعظمہ وملوک الردم تصورہ فی بیوتھا و بیعھا ورئوسھا 
الجیوش تکتب اسمہ علی سیوفھا کائما ھوفال الخیر وایة النصر 
والظفر“ 
ا طف نیک ضعف کی علیہ السام سےںگصپ اہ نظ یا تکا انظہہار ان اللفاظہ ۴ی مر تے 
ہیں:۔ 
بے( حطر تل )علوم میس ہشجباعت یس +فادت میس ہ بد بادکی اودد رگن رک نے 
ٹس :فصاحت دبلاعمت میں ز ہرد کی ٹس :عبادت میس نہ ردساست میس (خمام لوگوں سے ) 
ال تھے پا لوگوں سے ار اور زار ٤ور‏ ہوۓ تے_اگر(د بن اور خداکا )توف 
نہ وتا ےآ پ تما معرب ٹل سب سے (یادوسیاست کے جان وانے ےآ پ کا ذکر ہرقلب 
ڈ ہے اور پک عحبت ہرول ٹیس سے۔آپ سےمطلمت اور بلنعد یو گی ابی یک رای٠سں‏ اہر 
. ہوٗی کیپ کےیتحلق راۓ ائ مککرنے میں لوگوں کے زپن پر بیان اورا نکی مقلیں ران 
دنین اور کون 2 نی دش ریت ے باہ رپ کے تلق را ۓ مات کیلمت یآ ب لوخد 


جج ود حاامی ور حر حر ا یک ا محچسبسسر نئتچعسر سمتیصمتسس یصو تلغرمہارنہتعرارنینیرا یج ے ایر رگ ا رہ رر رہ .ٹب 


کبہ دی )کافر دی جیا ا پکوددست رھت ہیں فلاسن بھی آ پکی علیہ مکرتے ہیں ددم کے 
(عیسائی ) پادشاد اٹ ےگھروں اورگر جا5ں می لآ پکی نموم بناکررسکنت ہیں اودس رداران گر 
آ پ کا ام مارک ا ینلواروں بر فال کیک اورکامیال یکا شا نب ےک نات ہیں 

(حماة الاسلام جزء ارول )۱٢۲١۱‏ 


المرتضیٰ _ 184 


.۶اد لازنا بر پر :ند ید ا .بد عم ید دی ز× شید ا دی دہ ہہ لد ید ماد اہ لہ اب بای اید ار لی عمد بر ہد ہے ہے ہے ھتے۔ نوہ نود جج سوہ ور ود ہے وریہ عجانودہ اھ نچ وو اود ھھ۔ یی ریہ و ۓ۔.ھ وہ اد ہو۔ تھ.. ود ات ز. .دص ۷ بد تد فا ص۳ بعد ۰ مد ید مد بد سا 


)٢١۵( 


”ا میعی 
( فلا تحضر تل ) 


۸۱ ا٥٤٤٥۷۲٢‎ ہ٥‎ 1١ 5٤3٦٢٦٥ ۴ہ‎ ۱٥3۲٣٢٢ ٥1١ 
501]60 ا٥‎ )]١ ۷۸۰ اہ‎ ا٥130]‎ ٥٢٠٠۱۷۶۰۹۱1٣١ ۸۲1٤9 
ڈاا‎ ۲٥٥٥٢۲٢٥٢ 53۷۱۲٣و‎ 3٢٣٢ ۱٣١ ۲)٥ ۷ا٣9:‎ "٣٣۱۲6 ٥" 
5ا 66ات5‎ ا١‎ ا9٦65‎ ٢ ٥٢٢٥٢ں٢.‎ ۳٣ 65ا1‎ :, ٥۹ 
۷۵ا9‎ اا٤٤‎ ا٠٦‎ ا٥٤٥٥.‎ ٦٦٢ 0٤٤٢8٢٥٤٤ ٣۲٥3٥٢٥٥٤٥ أ]ہ‎ 3 
کا ہ۲۲۱3‎ ء٥٥٥٢“.‎ ا٦3٤۲3اا‎ ۷ 5ن٦‎ 5611118015 ٥ 86 
3۲۲م‎ ہ٤‎ ط١‎ ۷۸۵۶۸۱٥۲ 3011 )]١ ء5٥۶۶ ۲ہ‎ ٣٣١ 1٥٥تا قهام‎ 
3۷و9‎ 19 ]٥ اأ|! ج‎ ٥۲3۱ 0ا٣٤‎ 48٦1 38010113161 31] 65 
۷۷۲۲ 8 16٥:١٤٤ ؟٢٢‎ |٥3۲ ۰ 

۲٦6 ۱۷۵۸5۶۲ 3١ ٣٦٢١٦٠١ 0٥ا٤٤‎ ۶۴ 
50:۷۵۲ 1651٢٥١٥ ا٥‎ ۲٥۵۱۱۶6 1١ ام5‎ ۲٣٦ ہ٤ 5ءة“ا ڈاا‎ ٥95 
۲٦۷51 160٭؟ا|‎ ٥ ا٣١‎ ۷۷۷۲۲۵٣> ہ٤‎ )٣١ >٭‎ 1٥ا3۰‎ ۷۷۰/۲۵ ٤۴ 
2۵امآا٥‎ ٥ م۲۵5و‎ ]۲١ ٦٦٥٥٥٢٢٣ ہ٥‎ )ا١‎ ۷۸۸۵۹۸۱۴۲۹ ة٤‎ 
]]٦١3٢ .آل5ۃ‎ )١ ا٥ا‎ ۱۷ ٥0 :1اا‎ ۱١ ا٢١٥0 ةامات5ا0‎ ٤ 
0۷٥0٣601 الڈ٣٢‎ 31010 5۹٥ ۲۳٢ 86, ٥ 
95ا6368]‎ ا٦5اناا٥٤‎ ۱٦ ٤٢ ا٢۶٢‎ ا٦٠٤٥‎ ۲٣٢٢ ۷٣٢۷٣٣۵ )۵8 
8تا‎ ۲١ ٤6١٠١ 'ن0ا)ا‎ 

(|الف ٢٣۲ف‏ ۷ما 362ح (3۲۰اذا آہ ۲١‏ ام5 ۲6) 


امھریی اپنے خیالا تکااظہماراال طر کت ہیں :- 


ححفر تل کی تق ریریںعلم کےعللف شمہوں بر چو ںییم اور ا نکی اصلاح 
وہ یدوہی کے لج بہت مفیدراورمزاسب ہی ںآپ کے لیھ ہد نے رر بین اقوال ش سے نر پر 
ہیں :'' عزن کی نکی موقوف ےل کی بلنددی بر جوشصی لعل میں مرجائۓ د٣بھیکنییں‏ 


اش ای ا ا وہ تع ما ہے ات تو را کو 


مھت ما ناخ 
خی لمکم شون پا گردیا رت نے خود( ملف مقابات پر ) اعلا نف ماد اک جن 
آحضر کی ناما کی روحاخی تکوکھنا جیا تا ہوا سکو رای ےک جنفر تل کے ال کو ور کے 
(ز کول ) تحضر تی سے پڈہ نک رکو نآ حضرت کے الٹھا با کے معال یکون سا تھا تخمر یت پیا 
آحضرت کے محبوب دوست وفادار عحالیٰ اور جتے پتیاذاد پھائی اور ےج (راباد) 
ھے.( تحضر کی پاک اور 7ر اس رانیم جق حر کل کو کت کی یں یی 
لںک/ر6 ضف ےت ظا تو ہے رق یرتا نے جاعلی مآفضرت سے 
ا ینہ میس حاصل یھی اس ےلم کے چٹ جاری ہو اورلدکوں نے اےع مکی چیا 
بھائی) 
(امپرث آف اسلام )۳٦٣۳۲‏ 


بے رر رر دہ ۔ ری رر ۰ یں نی دیحو بر ہد بب رر بجر ہر ہہ ہہ ہے رر ےر ںہ ےد ہج رہ میس رید جیججو ہی 


(ب) 


نیل عل یسام تنصی نک ربخ بک ڈکاشل 


. انانبدء الیوم بنشر منتخبات من ٹھج البلاغة للامام علیٗ بن ابی طالب اول 
مفکری الاسلام 


ایک عیسمانی اد ی مات ابلاغنشع بوردت ۹۲ء یش عفر تی علیہ الام کے عالات 
اواقو ال ونھ بروسیاسیات سے تا شر ہوکرعتاے:_ 


سراف وس کا بنا طالب کےخطبات س ےگوہ 
اللان نے ک فلا تکوش کر تے ہیں 


ددگیں؛ء رخوت وخلاش تکااعل|ن))| 

۷3۸۲٢٢ ۷٢٢٢٢ ۳٣٢ 5|81۱۷ ٤٥٥٥ا‎ ٣٤٥٥ ۱ ٤ 
0۱۷٥۲۹۱٥٢ ٤6۷۷۲٥۶٥ م۲٥۰٥‎ ٠٤٢ ۰ 1١١ 11۲5۱1 ذاانا)ا؟‎ ٥ ٤ 
5516ا‎ ..... ا٦‎ ٣٤٤٤۶٤ ؟ماد۲٢٢‎ ٣۵۲۰ ٦٣ 38550۲6٥0 )٤ 
:8ہ 16116 ۲8م‎ 310 ۲٥5۵۱۷۱۳٣۷ ا٥‎ ا٥3۳‎ ۱٥ ۳٠۹ 7 6٤ 
أہ 5۲واا‎ 01۷۱۴١ 1٢د٠‎ ٦٣٦ ٌم٣۵م‎ ۲۶۹٥ 3 ا3٥۵۷‎ 2٤ 3 ا٥ا,‎ 5 
ا۷ط 3 3010 .5310 ە ا )ا‎ ٥٤ [ا٤‎ ٥٥٢٢ 1٣٢ ٥٤ئ٤‎ ۲3۱٣۲٥1٥5] آت‎ 
10۴۱٢ ک>ا65ناو‎ ہ٤‎ ٥٥ي‎ ٤3ج‎ ہ٤٥‎ ٢۹۹5۳٢. “۴۲۵۱۵۲ ٥8 
۴5٦12 .'' 5810 ١۷۷٥۲3۲۱٢۹٥1 ا٥٠‎ ۲۲٢ 56۲۲م‎ ۰ )۲ 
۷٢ں‎ 361 | 3ء 08ا2‎ ٥١ا٤٥٥,‎ ]]۴١ ۲۱٢٢٢ م٤ آہ دنہّ[ہ۴‎ ))٤ 
)۲٥85ئان۲65‎ ٥٢٥ 5ا]‎ ۷۲١٢ 31:1 ٥أ‎ 15٤ ۳۷٣۲۱٣ 0ک .٥٥ن نا‎ 
۲3۹5 ٥٥٥٥3٢٥٥٤ ۲۱٥۱٢ ہ٥ ۵ت۷ ا3ح‎ ٠٥ ۱ا١۹ ی880‎ ۵۷٥ 
وہ815‎ ۷٢ ام56 اا۳‎ ٥ ۱١٢ ط٥٥‎ 27 ج۷۷۲‎ 23۲٣٥ہوچ‎ ۷۵ 
۷۸۷۹۱ ات٤‎ ٢١۷ ٥٥63٦٥٥ 36001 ۲٦٦۷ ۷ ۵2۳':۶ ٣٢ 3۷۷۸۷۷۵۲ 5 
۲٢۷۲۱۶٢ |الا‎ ٣١ داا٤٥٤:٥‎ ہ٤‎ 38015106] 311 ن48‎ ۵4۸ 
0٥٥٥۶٥٥٥٣ ۷۷35 3٦ ۱٥٥و٠٢٣‎ 5٣ت‎ ×> +٥ ۷نا‎ ]]١٤ ٢6 1 
,أة ۶ہ 36نا‎ 3 ۷۵۱۳۷۸۱ ۱٤٣٦ ٣٣١ ٤ہ٥٥٥۶ء۶۱۱‎ ۷٥۵۲ ”وه دا آت‎ 
ن'"'‎ م٣ہم٦:اا‎ ۱ 361 15٤ ۲١۹٢ ۳٣٣ ت5‎ ج۷٢‎ ٦565 351ي3‎ 
5أ ات 135 553۱۱ ۱| ۳۲6ا‎ ]6٥61٤0, 168٢۳ الات‎ ۳ا٤‎ 6٤۷5۵ ۳۴ 
- ]امم 0 ۔ااءِط ىا ما ع٢٣ ,دوعا علط‎ ۱ ۷۷۱ ط١‎ ۱۳۷ ۷۵2:۲ 
0۷8٢۲ 1٦ئ8.‎ 

۷۷۱۲3۲۱۲۲٢۲٢۷۶٢۹ 0 ٣٤٥ ء٥‎ ٥ )۲)3 1 080 
اطم‎ ٦3ازاج‎ ۷۳8۶۰ ۲٥٥٠٣٠٢ 6×50 ۲٢6٥ ٠) ۲٥۶۰م)‎ 6 
5ال]58٥۲0٢ 5ا۱ آہ ۷ال‎ 505 '' 
)]]66100 300 ۴3۹۱ ٥ا‎ ٣٢٥٢٢۹٢ ام۴۲‎ ٢٥۱۱۷/ہا‎ 51ا٣‎ ٣ ۷ا‎ 
۰(ہ صا5ا‎ 


٭حقہ لاد مہ سد ا×لدطلا لہ طلا طتہ +5-ظا-ل:سلامے-طا کہ تا ا لا دک طاداکہ تا دک کتھالکہ 5 تد 2-6::ق جہن کالکسک جس لاسٗو-جو و دو و ہی وہ۔ونود موہ وردوو۔ج دوجو و ُوٛ-و۔ ح-وُد-حیھو یی وس عوسی جوف وہ رومیووکو تو نود وجوہد وہ وویوہ ورستودع 


کے _ ور پکامشپور ومعرونےمفگ ر حر علی علیہ السلا مکی بلن دخخصیت اور الن کے ا غقاق 
طلاف تکاا کل رر اظہارآرنا ے:- 

(عشت کے بعد ) ٹین سمال ا موی ےگنر ر یئ او رآحضرت کے ٹن میں صرف 
چودہ اشناحش مسلمان ہو ئے کاو وب نے جو ےسا لجع رکھا نزبو تا اعلان اکیاادرآسالی سال 
( دجن اسلام) کےٹور سے اپنے نمانعدان والو ںکوروشنا کر نے کے ےپ نے آی کبریی 
( ہے جے ہونے یہ )اور ایک مال وھ سے وم ت کیا سیا ما ناکما اور بی اضھم یں سے ایوس 
ممانو کو من وکیا۔ (کھا نے ے ذراطت کے بعد ) حضرت مجر ( “لم )نے (سممانوں سے 
نطا بک کف ماما ” اےمیرےدوستداو رکز ڈو میں مہا رےعا ٹن ےا جیا یت یناور 
د میا دآ غرت دوفو ںککا ٹین بہا خمز ان( د بن اسلام )تار رے سساھے شی ںک رتا ہہویں مس سکو ہیں بھی 
پیک رسکتا ہوں( می رے علادءکوٹی دوس ایی یی ںک رکا )خدانے بک ےمم دیا ےکی تم س بک 
خداکی بندگ کی ططرف دقوت دوں (اں لج )کو نتم یں سے ہے جومیرے بد چےکو ہاکاکرے 
اارمیرا سای اور( می ری ضیات می اور )موت کے بعندمیراخلبفہ ہو می طرف ےکوی جواب 
یا ہا کت ککسشجب شک اور تیر تکی خا تی جنر تن نک یعرکل چچودوسما لکیاھی کے 
درا اززدل ‏ ماب ےڑول حر تک ےن ۷ا دا کے گیا ین دش ووں۷زڈز 
کول بھی اب کے خلاف م بنا رکم ےگا ین انس وا ت آڑ ڈالو ںگگاء ا ںکی ہیں ال 
لو ںگگا ءا سکاچیرنذ ڑ ڈ الو گا اور کا پیٹ بھاڑ ڈ ال گا اے غیدا کے نی میس( او رصرف ٹس ) 
انہب برا پکاوزییہو ںگاطح مرن مطفر تک کی یٹک سکوفہابیت خی ےٹول کر مایا 
(ہتتی تعفر ت٦‏ کا بنا خلیضہاکی دن ہناد ہا )دوک رتمائمانوں نے حطرت ابوطال کا مراتی 
ا اوران کہ اککرد دا نے بے تعخر تل نکی عزم تک یی 


اط 0+ ہا تراد انا حا اما اجوہ یھ و وو ابو نا اس کا یآ مد وعفرد وتا عو روسو- زا نو نا :تہ نک ماد با لہ کا فلا تی ×× قد ہہ لا یہ للا سد یراہ ایند بد داد رازہ تد عرنتچرد رود و نچ برمتد رومرو-تو .مو ے۔ بجی و جوسع ریہ عو نف وفع ہآ رے۔ رو 


٣ط‎ مّ”۲د٥‎ ٥اک‎ 6۲ ٥۸۷۵۸۳۸3۲1139 ۷۹۷۲۸۵ ۶٤٥ 
٥۱۰۲1٤3۱٥6 ہ٠‎ ۰١ ء١ا‎ ٢۶٢ہ‎ 384 ٣)١ ١٣١٢٣٣۱٥٥٥ ات‎ 
)٥ما3ئ۲۷‎ اط٥ ۵۲۸۰ء‎ ٣٣ع‎ 5۸۶۲٥٥۵ ا٥٥٥‎ ہ٠‎ ٥٥٥ ٢٥ااوآاەآ‎ 08 
دطم آہ ہمناادمممہ ع٣٢٢ .مِّم مہ‎ 50۷۵0013۵۸ 3١ ا٥60‎ 66 
300 ۱۱۷۶۲۹[۵۸ء ذاط :حا63ا1ا:5جہ‎ ۳۸8۶ 5٥۷۸٥۷ 361 ۲٥اا١۰۱8٥۱٣(‎ 
8نا‎ 0٥٤ طا(ج)‎ ۳]٣۵۶ ٥0۲/٥63 ۷ط‎ ٥٥551101 3001 |56٤6165ا'‎ 
)08ءعاا٥٥‎ 3098 ۴۵۱ آہ‎ ٥۸٥۵٢ ٠2٥م‎ ٣۶ ۷۰۱. .5ا5‎ ۲٢ 285 ۷نا‎ 
(0060اہ‎ 
ین ۔ تعفر تیلی او اہین میہ مالسلا مکی بل شخصیتوں کت خلاتکااعت ا فکر‎ 
کان ے نف تار لان اور نکی ان والوں نے ا نکی ادلا و کے‎ 
تقو دراخت کن لیا۔اور بت پرستوں کےمردارتحخ رت کے نہب ( الام )اورا نگ‎ 
7 ل 0 2 کن چ ُ فرله سس نے‎ 
عومت کےأاعلی اکم بین یھ ۔ابوسفیا نکی ( حر تن سے )خلت یت خوڈناک اورشد ید‎ 
رتیا۔اس( الوسخیان) تام نپا لاخ قد لک رن ایک :اد کی او تی اود نا رگی ےمان ان‎ 
0۳ فیا نکا نال ہب( اسلام) بد لکر نا ضمرورت اورٹع کے بی ا‎ 
)۱٢۸( 


اس 
ط 


:ئ0 ٤‏ 
(لا فتی الا علیٰ لا سیف الاذوالفقار ) 


705 0 ,۶۱ہ ۱۷۷٣٢ ٣۱٣‏ ۔داااقط ۱6 38۲زا۷٣×۳‏ - 
٤6 59 ])06‏ ۹نا5 ۲۱391351۳0 ,11650 ة آ5 ٥١‏ ۸۶٢ا‏ ٥٥8۵م‏ 
۱۸۷٥۶۱٢٢٥١ ٣٣ 868‏ ۹أ ٥3۲39ح‏ ١ا‏ طا٥ط5‏ ۲۶٥2ء‏ ٥ا‏ 
7نا36 ٣۲3١۱1۱٥٢,‏ ۲۵5ھ ٥٤٥‏ ۰۱۱۵۸ ا56 ١٤ا1 ٥٦9‏ 5۱۷۵۱۲۷ء 


ب7ٹ , ّ ْ ںالیمٰب یدید شتور ددشت 


8018600:68 ا٦‎ ٣۵٥8٥٣ عاط]ح‎ ۱3٥١ ءاں×:٣٥٤٤٤١. وہز‎ 53]۲6 
06٢-3۰۴3۸3۲۰ ۷٤۵ تا‎ ]٤٤ م٣٥م٣٥٣ ۵دا ہہ‎ 
۲٥۲٢٥۲۵اتا٥ ہلااماد‎ 86٤1 ہ٤١‎ 83٥۴ ہوا ج3‎ 1۱۷۶۹3۱٤8 
ا٦‎ ۷۰۱۲۷٣۹ ٥٥ )٦٦ ۷٥ئ8 ۷4م‎ 619۲3۷٣ ٥ ۷ 
٦۲١٥٢۱٥۷3۱ ۲35ف‎ ٦٣۷۰۲٢ جا-۲30403۲-۷۷3الاے دا|| ح)إ١وو جا''‎ 
۲3۹۸۱3 "ا۸ 3اا‎ )١٢ ٭٭ث٣ل 23ے ۸6 تع‎ ٤٥۵ 
۷۵۷٢۵ ۷۵۲۲٣۲ 3 ٥١٣3۲ ۶۲ (زافم‎ ۱ 
)۲۲۹؛٠‎ ٥آ‎ اا١ تا ۶۰183۹ ۔وجاچہم‎ اا١(‎ 


بی مفریف رب حر تی سک یتلل بے 

حطر یتض ران جک بین اود چشززواو زا ے ز یش کات نر 7 
ملف میں تمابیتشج بدوستوں کے ۔ج دوست اود دشتول رایت مبربان جے۔ ودمسلمانوں 
کیشرافت اود بپادر کی حر اطیر مال اورروایا تخرب کے سلیمان تھے ۔آ پ کے مبارک 
اھ مکولا تیر ونکوں مم قولوں ‏ وع اورا ان ےےڑ بت کی ےآ پکیاکوارذدالقا رج ںکو 
نے بکوبد رک گار جک مس عفاغ ای ا ک یترب فموں میں یکن ںا 
سے دو( موا )بھی یں ہوکتی( پل اہ کی بادبھیشہ با تی ر ےکی اور رون می ٹس ببہت 
سے بہادروں نے اپ اتی مواروں ر( انف سی کا پر لیر ) سوا لیا تھا ٢‏ لاسیف 
الاذوالفقار لافتی ال" قلی زی کس لوا رکاذ دالفزاراوردسی ببادرکا تخر تل ے مظابہ 
0 7+48 (ناریخ عرب ۱۸۳) 

(و14) 


)ل٦٥٥٢‎ 03۷٥۱٢٥٠١٣٥ 


٦٢ ۷85۶ ٤٥3٢ ء٥٥٤٥‎ ٥380 )۲٣ وط‎ 
6ا٥۹‎ ۶۲٢٥٥ 3011 ۷3۱٥۷۵۳۲ ۷۲ا٣‎ ٣٦٠۹ +6 آ0‎ 
ع۲۳"‎ ا۱٥٢‎ ١٥٥ 0۷ 5اط 3]1658]8 11:16:01|]۷ا5‎ 


و ہئہجد۔ 


پ ری :نزو نود وو زا و رو نو جو وضو و نیودت رو رود رو نرہ و رد وو چرد یوتا و خر را رئا و اد ئا تد تد زار سد بداو مزا بد یچ ودای رد ونود پوشیرہ پرچشر-ھ لور ہو ہر وو وف رر ہیلاع اد ید و 


ارہ آ0 ۷٣٢٣٢ ٥‏ ۲ہ 3٦01 ۲٥٢٥٢۷٢‏ 05 
اعط[۱۴623 ۲٤ہ‏ عِواہت٭ ١اا‏ :3 13١‏ 1٣ا‏ 653۲ا 3٦۸۷‏ 
.ام 628ا 

084 ۷۵ ۱3ط 3 ١ہ‏ ٭اح٥3 ٥١ ٥×‏ 1153 ۷۶۷ الم کا 
ِا ۷۲۲٢٣ 3 ام٥ائگآ( ٣٣٢ ۱۰] ٠٠‏ ])۲ ۸:۰٥ام‏ ۷۲۷۰۲۶۷ 
٦ ۸۷۸۸۳۲3۲۰۱۲۰۵۹۵6 ۸۷۹۰‏ نہ دا٢٥۳۲) ۲٥٥٢٥٢‏ 


0ال ۷ا 52 ۰ .31ام3۱1٤‏ ١٣ا‏ ٦دمنا ۴389٢‏ مم) 


)03۷۵٥0011( 
(۵۰ا)‎ 
ادب دشحکمت بی خر ت کا مر‎ 
مم بڈاوان رٹ متا سی‎ 


'' عفر می علیہ السلام ارز ادب می ایگ نمایاں اور اتیازی حیشیت رھت 
ئیں۔ ہاو جود بآ پا رب ایےے( جال مک میس تم نآ پکاد مازغعلم وحکست 
سے مرا بدا تھا۔آپ کے ببت سے اقوال رب الاعثال اوداد لی لیے ہیں (جش نکی دنیاۓ 
اب وحکملت می ںنظینیں ) ما جلقسی اور لے اب بآ ےپ کے الوا لکوئ ع کا 
ہے ۔گائفسح نے لین مین 14۴۹ء یں اور لیے میا ری (ابن جا کشم کے امیر 
آپ کے اقو الکو ) چچیوایاے ال نکی (زجالی کر اکا بکوداٹھر نے ۹٦۱۲ء‏ میں ڈرا ائی 
ذان یس (نھ جم تک کے ) جچچدایا ےکتاب نے ای جارسآ عرب کے تسرے این یس 
خر ت لی کے ایک سو اہن راقو ا یکا موم ہاگ یھی یں تر ج کر کے تھدایا ہے ۔جحفرت کی( کے 
اقوالی کے جموعہ )کی ای ککتیا لم ال روا پرا بھی تطنطہہ کے شائ یک نان مس مفوی 
ہے بے تھے تحضر ت کیج نک یتخصی تکوازلی خی اور زندگی عاصل سے ( یی حضرتٛ یک یاد 
گوں کے ولوںں یی پیشہ باقی ر ےگی اددات ال ومداعنا تحضر تک سے لوگ پییشہ ذا مک وا کر 
ڑکیا کے رین ج) 


)١۱)‏ سرننخغڑ )١(‏ اسمالفا 
(٢۲)‏ ورالا اصار ' ۳( میررل ۔ 
(۳) رلوسانز ‏ (٣۲)ى-سکمل‏ این خارزل 
(۶۸). یا اکودة (ك) رر 


(۵) ار الطالب (۲۳) خایدافرام 

)١(‏ انی  )۲۴(‏ شر رکا لاقتانا رید 
رے) رمراضںل ضر )٢۵(‏ وائررقوے 

(۸) تی تریف )۲٢(‏ سحاڈالاسلام 

(ہ) ےم (ے٢)‏ الاٹۃ 

)۱١(‏ ہچ ہناگی (۸) 'طاء 

(ا١)‏ نال )۲) امام ال رآن 


)٢۳٢(‏ لے فؤر )۳۰٣(‏ امام اشرآن 

)٢۳(‏ کفزسال (ا۳) اجازالو ی 

)۳) ازالن: اتا )۳٣(‏ ڑکا اڈ نال ا 
زکن امیا ئ کین 

(۵ا) جار الفراء (۳۴۳3) “,ٹین ی7 (یٰ) 

)١(‏ کنوز ال قائن (۳۳) ان بے ١!‏ پان 

ْ ۱ فلافت(ڑانپپیٹ) 
(ےا) جارباطظری 
(۸) زی انی علوں 


نگ۔- 1 گہر ی۔ ‏ ست 


زم 


.گر لی 


٣۲‏ حصے 


پچ >> +٢‏ چج 2 ںّ٘ 
۔ 
۔ 
لٰ 
ۂٰ“ 
٠‏ ِ 
' 
۰ 
ۂ' 
7 
ام 
ےت 
٦‏ 0 
۔- 
چے - 
-۔ 
ےم 
6 
٠‏ 
۔ 
٠‏ 1 ' 








سے _ 





2 - :۰ کاو 1 رپ 


٦ 












ترویع اسلام اور قرویج آگھی کیلئے مطبوعات 


رن میر اکٹ س ات 9 تحقیبتمازباتجمہ ھ" جلرہرائے مال 
7ت لص یت جلدادل تاپارم 8 نمازکال با رہ مان ایی 
00 خطبات اما امام جن ات وا ںاخ و 
ُ “۶ین علے 
ہر٤‏ خرن ہاراعقیرہ 8 دا ۓ می با رجہ ٭ عمربنشن 
پالیتا (شا عر یھو پل دا لکل پا رھ ا 
وا . 9 ریز 
9 مین دارتانیا 9 حمٹکامانھ چ راف ور 
: خرس بل پیارا 2ھ دا ہے مشلول پان بھی 9 4ے 
5 3 مخ نا ہے اورڈعداریال 0 دا ےل یدام چجہ ٤‏ طالف 0ظ 
7 ماد(قات) دججائۓ چو نکی ا جم إ ج۔ 7 7 
وک فی رسوروٹیں تََ زیارت عاشورا بامرچھم, 
9:5 ول ا لا تواب عاشرت 
استفتالودان کے جوابات مرن ا کوشا 2 چا سورویششن مترم 
جو ہس 9 من رز ھا دھائے سراسب ‏ 
با ای ۱ جھ اسازەسدع ٹف ہے دھائے صا 
8 رائف یرکیب مولاگی داسنتا 4 بِ رب و او ںکا موم 
ا 16 ہرے یا مامت ورببری(ظطیں) چي ماز ہرم 
2 ٹرآن رایت 8 اس اس ا لسن 
َ . جک رمعون ون اخبارا ضا شّصدرق* ھچ ماس شا فربیاں 
ِ کے 9 و 7ار( خیب ) پچ خرس 18 
رج امم ہد کی دای اورجد ید خطا بے ر نال نپا سے اخ حشکربڑا 
٢‏ -_ے شھید علاجے عارزف انحسینی کی ککرروٰ سے 
ر فی سق اور و ںا 0ے دھا مل (وسالآن) 9ا آرا ے٤کاریاں‏ 
تا پافر 6ہ ہت سی رانقلاب 







سے :335166 -042